Rev. Mawlawi Dr.Imad ud-din Lahiz

1830−1900

پادری مولوی عماد الدین لاہز

Taftishul Auliya

Researches about Islamic Saints

An inquiry into the origin of Sufi Saints in Islam

By

Rev. Mawlawi Dr.Imad ud-din Lahiz

Wake up, sleeper, rise from the dead, and Christ will shine

on you. (Ephesians 5:14)

اے تو جوسوتا جاگ اور مردوں میں سے اٹھ کہ مسیح تجھے روشن کرے گا۔

(انجیل مقدس خط افسیوں ۱۴:۵)

تفتیش الاولیا

یہ کتاب صوفیہ اور ان کے تصوف اور ان کے ولیوں کی کفیت کے بارے میں

پادری مولوی عماد الدین لاہز۔ڈی۔ڈی

نےاس مراد سے لکھی ہےکہ اہلِ فکر صوفی اس سے فائدہ اٹھائیں

اور درمیان ۱۸۸۹ء

رلیجیس بک سوسائٹی کی منظوری سے

ریاض ہینڈ پریس میں طبع ہوئی

دیباچہ

پیروں کے نام لیتے ہیں کہ فلاں فلاں بزرگ ہمارے درمیان ایسے ولی اللہ ہوئے ہیں۔اور جب مسیح خداوند کے معجزوں کا بیان سنتے ہیں تواپنے پیروں کی کرامتوں کاایسا ذکر کرتے ہیں کہ گویامسیح کے معجزوں سے زیادہ تر قدرتیں اور تاثیریں ان کے پیرو ں سے ظہور میں آئیں ہیں بلکہ پیغمبروں کے معجزے ان کےولیوں کی کرامتوں کے سامنے حقیر ہیں۔ان لوگوں نے نہ پیروں کو پہچانا نہ پیغمبروں کو نہ کرامتوں اور معجزوں کی ماہیت کو سمجھا۔

یہ تو اندھی اونٹنی کی مانند دنیا کے جنگل میں چرتے ہیں۔میرے ساتھ ایسے لوگوں کی بہت باتیں ہوئیں اورہوا کرتی ہیں کیونکہ ایک وقت تھا کہ میں ان میں سے تھا۔اس لئے میں ان کے خیالوں کو سمجھتا اور پہچانتا ہوں۔کہ وہ کس رنگ میں ہیں یہ لوگ صوفیہ مشرب کے ہیں۔

اور مجھے معلوم ہے کہ ان میں بکواسی اور متعصب اور قبر پرستی کےسبب مردہ دل لوگ بہت ہیں تو بھی بعض شخص اُن میں خدا کی قربت کے طالب ہوتے ہیں۔اوران کے اخلاق بھی اچھے ہوتے ہیں۔اور وہ دنیا کے کسی فرقے کے ساتھ عداوت نہیں رکھتے بے تعصب ہو کر صلحٔ کل کا دم بھرتے ہیں۔اور حصولِ قربتِ الٰہی کی غرض سے بڑی ریاضتیں اور مشقتیں خفیہ طور پر کرتے ہیں۔اور یہی خوبی ضرور اُن بعض میں ہے۔لیکن افسوس کہ وہ سادہ لوح اور فریب خوردہ غلطی میں پھنسے ہوئے بے راہ چلے جاتےہیں۔اگرچہ بعض میں تحقیقات کی طاقت ہے۔لیکن عادت نہیں اور بعض میں طاقت ہی نہیں ہے کہ از دخود دریافت کرکے غلطی کو چھوڑیں اور درست طور کو اختیار کریں تاکہ فی الحقیقت سچے خدا کی رفاقت اور قربت حاصل ہواوروہ سچ مچ ولی اللہ ہو جائیں۔

اور یہ ہی ظاہر ہے کہ اس ملک میں اب تک خدا کی پاک کلیسیا کی طرف سے ان کو ا یسی کتاب نہیں دی گئی کہ جو ان کے خیالوں کوہلائےاور ان کو زندہ خدا کی طرف بلائےاور ان کے خیالوں میں روشنی کا باعث ہواوراُس جنجال کو جس میں وہ پھنسے ہوئے ہیں سلجھائےاوران کئے گور کھ دھند ے کو ہلائےاور ان کی غلطیوں کو ان پر ظاہر کرکے ان کے سامنے راہ راست کو پیش کرے۔شاید ان میں کچھ جانیں اور ہلاک ہونے سے بچیں۔

لہذا میں نے ارادا کیا کہ ایک مختصر کتاب ان کے لیے لکھوں جن میں خاص ان باتوں کا ذکرہوجو اس بارہ میں تنقیح طلب ہیں اور فضول باتوں کا کچھ ذکر نہ ہو۔پس میں نے اس کتاب کو لکھ دیا اور اس کا نام تفتیش الاولیا رکھا کیونکہ اس میں صوفیوں کے ولیوں کی تفتیش ہوئی ہے۔کہ وہ کیسے لوگ ہیں اور ان میں کیا کچھ ہے ؟خدا کرے کہ سب صوفی اسےغور سے پڑھیں اور فائدہ اٹھائیں۔وبااللہ اتوفیق۔

۱ ۔پہلی فصل زمانہ گزشتہ وحال کی کیفیت میں

ہر عقل مند آدمی کو اسبات میں کچھ شک و شبہ نہیں کہ زمانۂ گزشتہ میں درمیاں خیالات مردم دنیا کے خصوصاً غیراقوام کے درمیان سخت اند ھیرا تھا اور اِس وقت دنیا میں بہت روشنی اور تھوڑا اندھیرا ہے۔بعض اندھیرے کے اسباب باانتظام خدا رفتہ رفتہ اٹھ گئے ہیں اور اٹھتے چلے جاتے ہیں۔

گزشتہ زمانے کی نسبت اب لوگوں کے تجربات بڑھ گئےہیں۔اب ہمیں وہ باتیں معلوم ہو گی ہیں۔جو کہ پہلے لوگوں کو معلوم نہ تھیں۔اگلے زمانے میں اپنے اپنے ملک کے درمیان گھرے ہوئے بیٹھےتھےدور دراز کے ممالک کے باشندوں سے خط و کتابت اور ملا قات کا موقع نہ تھا کہ آپس میں خیالات کو مقابلہ کرکے صحیح و سقیم میں امتیاز کرسکتے۔اب یہ موقع خوب حاصل ہے۔

اگلے زمانے میں چھاپہ خانے نہ تھےاور یہ حکمت آدمیوں کو معلوم نہ تھی۔پس وہ اپنے اپنے خیالات کی کتابیں اپنی زبان میں بمشکل قلم سے لکھا کرتے اور لکھواتے تھے۔ اور بہت سے دقت سے تھوڑے نسخےموجود ہوتے تھے۔اور بڑی قیمت سے بکتے تھے۔اب کتابیں عام ہو گئی ہیں۔

اگلے زمانے میں پڑھنے لکھنے کا عام رواج بھی نہ تھا۔ہزاروں جاہل اشخاص ان پڑھ ہوتے تھے۔اور عالم فاضل تو بہت ہی تھوڑے ہوتے تھے۔اور وہ بھی صرف اپنے ملکی خیالات کے عالم ہوا کرتے تھے۔نہ جہان کی باتوں سے آگاہ اور سب جاہل ہدایت کے لیے ان کے منہ کی طرف تاکتے تھے۔اب یہ باتیں دفع ہو گئیں۔ڈاک اور ریل اور تار اور مدرسوں مطبعات اور کثرت کتب اور اخبارات اور تعلیم عام اور ملکی اسن چین وغیرہ سے دنیا کا رنگ ہی بدل گیااورروشنی کازمانہ آ گیا ہے۔

گزشتہ تاریکی کے عہد میں ہر ہر ملک کے لوگوں میں سےبعض چتر آدمیوں نے بقدر اپنی اپنی فہمید کے دین و دنیا کے انتظام کے لیے کچھ کچھ مذاہب اور دستورات جاری کرلیے ہیں جنہیں اس وقت کچھ باتیں صحیح اور منا سب اور غلط اور غیر مناسب نظر آتی ہیں۔بلکہ اس روشنی کے زمانے کے درمیان مذاہب اور دستورات دنیا کے عجیب کہلبلی مچی ہوئی ہے۔بعض اپنے مذہبوں کو چھوڑ کر دوسرے مذہبوں میں چلے جاتے ہیں۔بعض اپنے قدیم مذہب کی مرمت کرتے ہیں۔بعض لا مذہب ہو بیٹھتے ہیں اور بالکل جھوٹ بولتے ہیں۔کہ ہم اپنے قدیم مذہب پر ہیں۔جب کہ قدیم خیالات و دستورات چھوڑ دیا ہے ۔ ہاں بعض ہیں جوکہ بےفقری سے لیکر کے فقیر ہیں۔

اب فکر کیجیے کہ یہ کہلبلی دنیا میں کیوں پڑی ہے۔اسی روشنی کے سبب جو کہ اب دنیا میں آگئی ہے۔ان لوگوں نے اپنے مذاہب قدیمہ کے درمیان اس روشنی کی کچھ غلطیاں دیکھیں اور ان کی تمیز نے انہیں بے چین کیا۔تب سے وہ کچھ حرکتیں کرنے لگے ہپں۔

یہودی اور عیسائی دین کی کتابیں بھی اسی تاریکی کے عہد میں لکھی گئیں تھی ۔لیکن اس روشنی کےزمانے میں وہی ایک عیسائی دین ہے ہر منصف اور عاقبت اندیش آدمی کے خیال میں قائیم رہ سکتا ہے اور بغیر اس کے وہ کہیں تسلی نہیں پاسکتا۔بلکہ جس قدر یہ روشنی دنیا میں زیادہ بڑھتی ہے۔اُسی قدر زیادہ زیادہ اس دین کی خوبی ظاہر ہوتی جاتی ہے۔یہ دین تمام دنیا کی حدوں تک دوڑ گیااور اس دین کی اصل کتاب یعنی بائبل شریف دو سو پچاس زبانوں سے زیادہ میں ترجمہ ہو کر عام ہو گئی۔اوریوں اس دین کا مقابلہ دنیا کے تمام مذاہب کے ساتھ خوب ہو گیااور ہو رہا ہے۔اس نے دنیا کے سب مذہبوں کو گرا دیا ہےاور کوئی دنیا کا مذہب اس پر غالب نہ آیااور نہ آسکتا ہے۔اس لیے کہ یہ خدا سے ہے۔اگرچہ اس عہد تاریکی میں جاری ہوا۔مگر خدا سے جاری ہواتھا لہذا اس عہدِروشنی میں قائم اور مضبوط رہتا ہے۔اہلِ دنیا کے مذاہب انسانوں سے تھے اس لیے وہ شکست کھا گئے۔لیکن خدا کی ڈالی ہوئی بنیاد محکم ہے اسےا بد تک جنبش نہ ہو گی۔اور وہی عیسائی دین ہے۔

ہاں بعض دنیاوی عقلمندوں نےاس دین کا بھی بڑی سختی سے مقابلہ کیا ہےاور اس پر کچھ اعتراض کیے ہیں۔کیونکہ کوئی بات خواہ حق ہو یا نا حق لوگوں نے بغیر اعتراض کیے نہیں چھوڑی خدا کی پاک ذات پر بھی ملحدوں نے اعتراض کیے ہیں۔لیکن صرف اعتراضوں سے کوئی بات باطل نہیں ہو سکتی ہے۔جب تک کہ واجبی اعتراض اس کو کہا نہ جائے۔دیگر مذاہب پر جو اعتراض ہوئے ہیں وہ ان پر کیے گئے ہیں۔مگر مسیحی دین پر جو اعتراض ہوئےہیں وہ اسے باطل نہیں کرسکتے۔بلکہ الٹے معترض کی حالت پر واقع ہوتے ہیں۔

ہم لوگ جو عیسائی ہیں اور خود کو خدا اور اپنی تمیزوں کے سامنے باانصاف سمجھتے ہیں ۔ہم نے اپنی باتوں پر حتٰی المقدور باانصاف فکر کیا ہے۔ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ جن اصولوں پر دینِ عیسائی قائم ہے۔ان کا ماننا ہر فردِ بشر پر اس روشنی کے زما نہ میں بھی زیادہ تر فرض ہےاور جن اصولوں پر قائم ہو کر ہمارے مخالف بولتے ہیں وہ اصول عقلاً باطل اور مکروہ ہیں۔اس لیے ان کے اعتراض بھی نالائق ہوتے ہیں اور ہمارے دلوں میں سے دین عیسائی کو ہلا نہیں سکتے۔پس ہم کہہ سکتے ہیں کہ مخالف شکست خوردہ ہیں اور دین ِ عیسائی فتحمند ہے ہر قسم کے مخالف پر یعنی دنیاوی مذاہب کے خیالات پر اور تمام جسمانی و روحانی بد خواہشوں پر اور سب اہل الحاد پر بلکہ تمام ظالم بادشاہ ہوں کی تلواروں پر اور سب سلیم الطبع عاقبت اندیش آدمیوں کے دلوں میں بھی ۔

چار لفظ عہدِ عتیق میں ایسے ہیں۔جن پر اس وقت فکر کرنا چاہئے ۔اول اندھیرا۔ دوئم موت کاسایہ ۔سوئم چراغ۔چہارم آفتابِ صداقت پہلے ساری دنیا میں اندھیرا تھااورموت کے سائے میں سب بیٹھے تھے۔لیکن یہودیوں پر موت کا سایہ نہ تھا۔ان پرمسیح کا سایہ تھاکہ جو زندگی ہے وہ اس کےنمونوں میں تھے۔ہاں کچھ کچھ اندھیرا ان پر بھی تھا۔مگرایسا جیسا رات کو چراغ آدمیوں کے اردگرد ہوتا ہے۔کیونکہ ان کے پاس خدا کا کلام تھا۔جو کہ چراغ کی مانند تھااوراس چراغ کو روشنی میں یہ دکھلایا گیاتھاکہ آفتابِ صداقت نکلنے والا ہے۔اور وہ سارے جہان کو روشن کرے گا۔سچائی کے اظہار سے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ سیدنا مسیح کی روشنی سے کہ وہ آفتابِ صداقت ہے تمام دنیا میں دھوپ سےکہل گئی ہےاور ہر برائی بھلائی تمام دنیا میں نظر آتی ہے۔سچی باتیں اور جھوٹی باتیں۔آشکارا ہو گئیں ۔بھلے برُے آدمی بھی پوشیدہ نہ رہے ۔پس یہ وقت خدا کے وعدے کے مطابق آیا ہے اورآتا چلا جاتا ہے۔تاریکی اور موت کے نیچے سے نکلنے کا وقت ہی وہ زمانہ ہے کہ اب ہر کوئی اپنے خیالات کواور اپنے مذہب کی باتوں کو بلکہ اپنے آپ کو بھی انجیل کے سامنے لائے اور بطلان و سچائی میں امتیاز کرے۔اگر اس کے پاس انجیل سے بہترکوئی چیز ہےوہ اسے تھامے رہے۔اور ہمیں بھی دکھلائےاور اگر اس کے پاس محض بطلان اوردھوکا ہے تو وہ گمراہی میں کیوں مرنا چاہتا ہے۔اپنی جان پر رحم کرے اور غلطی میں سے نکلے ۔

صوفیوں کو بھی اِس وقت مسیح کی روشنی میں اپناتصوف اور سلوک لے کر حاضر ہونا واجب ہے اوریہ دیکھنا کہ ان کے پاس کیا کچھ ہے۔لیکن وہ صاحب اب تک گوشوں میں بیٹھے ہو ئے ہُوحق کرتے ہیں اوراپنی خانقاہوں اور مردوں کی قبروں پر سے اٹھ کر زندگی کے درخت کا پھل کھانے کو باہر نہیں آتے میں چاہتا ہوں کہ انہیں ہوشیار کروں اور دائمی استغراق میں سے نکلال کر زندگی کی روشنی میں لاؤں۔میرے بھی بعض بزرگ ہم جد ہیں ۔جو صوفی ہیں ۔اور بہت سے شریف زادے ہیں۔جو اس تصوف کی آفت میں مبتلا ہیں۔خدا تعالیٰ ان کی مدد کرےاور انہیں حیات ِ ابدی میں شامل کریں۔

۲۔فصل اسلام اور تصوف کے بیان میں

سوال یہ ہے کہ آیا علم تصوف علوم اسلام میں داخل ہے یانہیں اور کہ صوفی آدمی مسلمان ہے یا نہیں۔اسلام کےمعنی اپنی حدِ یثوں میں محمد صاحب نے یوں بتلائے ہیں خدا کو ایک اور محمد صاحب کو نبی ماننا ، نماز، روزہ ،حج اور زکواۃٰ ادا کرنا اسلام ہےاورعقلاً بہ وسعت یوں کہہ سکتے ہیں کہ جو کچھ محمد صاحب نے تمام مجموعہ قرآن اور اس کے موافق حدیثوں میں سکھلایا ہے کہ وہی ان کا اسلام ہے۔چنانچہ جو کچھ ویدومیں لکھا ہےوہی ویدانت ہے۔ اور جو کچھ انجیل مقدس میں مذکور ہے وہی عیسایت ہے۔پس اگر علمِ تصوف قرآن و حدیث سے باستنباط صحیح مستنبط ہےتو وہ علومِ اسلام میں سے ہے۔اور ہر صوفی آدمی مسلمان ہے اور اگر وہ قرآن و حدیث سے نہیں ہےکوئی خارجی بات ہے جو صوفیہ نے کہیں سے نکالی ہے۔تو وہ علومِ اسلام میں سے نہیں اور نہ صوفی آدمی مسلمان ہے۔کیونکہ اس کے عقائد تصوف کے ہیں نہ کہ اسلام کے اور جو محمد صاحب کو مانتا ہے۔بطور صلح کل کے مانتا ہے نہ کہ بطور اسلام کے۔

اب اسبات کا فیصلہ کون کر سکتا ہے؟اولاً چاہیے کہ معتبر محمدی عالم اس کا فیصلہ کریں کہ وہ تصوف کو اپنے اسلام کاجز سمجھتے ہیں یا نہیں ثایناً ہم خود فکر کرسکتے ہیں کہ تصوف اسلام میں سے نکلا ہےیا باہر سے آیا ہے۔سب سے زیادہ معتبر کتاب اسلام کے تفسیر اتقان ہے۔اس کی نوع ۷۸ میں لکھا ہے کہ (واماکلام الصوفیۃ فی القرآن فلنس بنمفسیر۔یعنی صوفیا کا کلام جو قرآن کی بعض آیات کے معنی میں ہوتا ہے۔وہ قرآن کی تفسیر میں نہیں ہے۔یعنی ان کا اپنا تجویز کیا ہوامضمون ہوتا ہے۔جو کہ محمد صاحب کی مراد نہیں ہے)۔ پھر لکھا ہے کہ (النصوص علےظواہر ہا والعدول عنہا الی معا نِ ید عیہا اہل الباطن الحاد) یعنی وہ جو صاف صاف قرآنی آیات ہیں۔وہ اپنے ظاہری معنے پر ہیں۔ان ظاہری معنی سے اس طرف جھکنا جن کے مدعی اہل ِ باطن یعنی صوفی ہیں الحاد یعنی کفر ہیں۔

اب ناظرین کو معلوم کرنا چاہیے کہ تصوف کس چیز کا نام ہے؟اکثر کتبِ تصوف دیکھنے سے معلوم ہو ا ہے کہ ان میں دو قسم کی باتیں مذکور ہیں۔

اولاسلام کی باتیں ہیں مثلاً ایمان،نمازروزہ خلوص جو کہ محمدیت ہے۔ان لوگوں نے اپنی کتابوں میں نقل کی ہے۔یہ سب کچھ ہرگز تصوف نہیں ہےیہ تو اسلام ہے اور اس کا بطلان ہدایت المسلمین اور تواریخ محمدی و تعلیم محمدی وغیرہ میں بندہ نے کافی طورپرد کہلا دیا ہے۔

دوئمخاص باتیں صوفیہ کی ہیں کچھ عقائد ہیں کچھ خیالات ہیں کچھ اطوارِ ریاضت ہیں جن کا ثبوٹ نہ قرآن سے ہے نہ معتبر حدیثوں سےبلکہ صوفیہ نےان اپنی تجویزوں سے اور کچھ بت پرست قوموں سے لے کر جمع کی ہیں۔اسی کانام علمِ تصوف یاسلوک ہےاور میری بحث اس کتاب میں انہی باتوں سے ہے۔اوروہ تصوف کی باتیں ہمیشہ اسلام سے الگ نظر آتی ہیں۔اور کہا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ تصوف کا ہے اور یہ اسلام کا ہے۔

اب صوفیوں سے کوئی پوچھے کہ کیا تم اپنے تصوفی خیالات کو قرآن و حدیث کی معتبر تفسیروں سے ثابت کر سکتے ہوکہ آپ لوگ مسلمان سمجھے جائیں اورآپ کے ولیوں کی ولایت اسلام کی برکت سمجھی جائے۔اور آپ تو ہرگز ثابت نہیں کرسکتے کہ تب وہی بات جلال الدین سیوطی کے خیالاتِ تصوف کی نسبت درست ہوگی۔کہ الحادُاور جب تصوفی خیالات الحادٹھہرے تو پھر صوفی کیا ہواملحد ہوا کہ نہیں اور ملحد سے بالفرض کرامتیں بھی ظاہر ہوں توالحاد کی حقیقت ثابت ہو گی نا کہ اسلام کی۔

محمدیوں میں جو ۷۲ فرقے مشہور ہیں وہ سب کے سب غالباً تصوف کو ناچیز جانتے ہیں۔اور شعیہ تو اس کے بہت ہی مخالف ہیں۔ لیکن سنیوں میں سے بعض ہیں جو تصوف کی قدر کرتے ہیں۔بلکہ اپنے شاگردوں کو علومِ اسلام سکھلانے کے پیچھے سے تصوف کی طرف سے ہدایت کرتے ہیں اوروہ کامل صوفی کی تلاش میں ہمیشہ رہتے ہیں کیونکہ اسلام میں ان کی تسلی نہیں ہوتی تصوفی خیالات کے وسیلےسے خدا کے نزدیک جانا چاہتے ہیں۔

کیاخوب بات ہے کہ محمد صاحب نے اسلام نکالاصوفیوں نے تصوف نکالا اسلام کے وسیلے سے کوئی ولی اللہ نہ ہواتصوف کے وسیلے سے ولی اللہ ہو گئے۔تب تصوف اسلام سے بڑا اور صوفی محمد صاحب سے بڑے ہادی ٹھہرے پھر وہ کہتےہیں کہ ہم محمد صاحب کے پیروں ہیں اوروہ ہمارے پیشوا ہیں لیکن اس پیشوائی کا ثبوت اس وقت ہو سکتا ہے تصوف قرآن سے ثابت ہو جاتا ہے تصوف تو ویدوں سے ثابت ہوتا ہے۔نہ کہ قرآن سے پس ان کے پیشوا ویدوں کے مصنف ہوں گے نہ کہ محمد صاحب کے۔ایک محمدی بزرگ نے یوں کہا ہے کہ

علمِ دین فقہ ہست و تفسیر و حدیث ہرکہ خواند غیر ازین گرد وخبیث

یہ شعر اور جلال الدین کا قول بالا تصوف کو محمدی دین سے بے عزتی کے ساتھ باہر نکالتا ہے۔ مگر بعض محمدی مولویوں نے جو تصوف پر فریفتہ ہیں بہ تکلف تصوف کو اسلام میں داخل کیا ہے۔کہ اس کو اسلام کا لب لباب سمجھا ہے اور یہ ان کی غلطی ہے۔

مشکوۃ کتاب الایمان جو پہلی حدیث ہے اس میں لکھاہے کہ

فَأَخْبِرْنِي عَنِ الإحْسَانِ، قَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ

جبرائیل نے حضرت سے پوچھاکہ احسان کیا چیز ہے فرمایا یہ کہ تو خدا کی ایسی عبادت کرےگویا تو اس کو دیکھتا ہے۔اور اگر ایسا نہ کرسکے تو ایسا کہ وہ تجھے وہ دیکھتا ہے۔ مطلب یہ کہ دلی حضوری سے عبادت کرنا احسان ہے۔

مظاہرالحق جلد اول صفحہ ۲۶ میں لکھا ہےکہ احسان اشارہ ہے۔اصل تصوف پر کہ توجہ الی اللہ سے مراد ہے کہ اور فقہ بغیر تصوف کے تمام نہیں ہوتی۔

یہاں اس مصنف نے دھوکا کھایا کہ چترائی کا کلام کیا ہےکہ تصوف محمدی فقہ کا تکملہ ہو کےاسلام کے علوم میں جگہ پائے۔اس لیے ناظرین کو معلوم ہو جائے کہ لفظ تصوف بمعنی صفائی قلب اور بات ہے۔اور علم تصوف کو اصطالاحاً مجموعہ قواعدصوفیہ کانام ہےاور بات ہے کہ بغیر اس مجموعہ قواعد کے اگر کوئی دلی حضوری سے عبادت کرسکتا ہے پھر اس علمِ تصوف پر لفظ احسان سے کیونکر اشارہ ہو گا۔

میں تو خوش ہوں کہ تصوف اسلام کا ایک حصہ یالب لباب ثابت ہو۔تاکہ تعلیم محمدی اور بھی زیادہ حقیر ہو جائے۔لیکن انصاف کے سبب سے کہتا ہوں کہ سارا علم تصوف ہرگز قرآن و حدیث سے نہیں نکلا ۔نادانی کی باتیں باہر سے صوفیہ نے لے کر جمع کی ہیں۔کیونکہ اسلام سے دل کی سیری نہ ہوئی تھی اور روح کی بھوک پیاس نہ بھجی تھی تب بھوکے پیاسوں نے ادھر ادھر تاکا کہ کہیں سے کچھ پائیں۔لیکن جو کچھ بت پرستوں سے پایا اور کھایا وہ زہر قاتل تھا۔کہ ان کی روحیں ہلاک ہو گئیں اور وہ ہمہ اوست کے غار میں اترگئے۔

نجات اور تسلی زندگی اور خوشی صرف خدا تعالیٰ کے کلام سے حاصل ہوتی ہےاور وہ کلام ان صوفیوں کے پاس نہ تھا۔اس لیے وہ انجام بخیر نہ ہوا۔اپنے گناہوں میں دھنسے ہوئے اس جہاں سے چلے گئے اور روتے ہوئے گئےاور وغدغہ میں گئےکہ بچیں گے یا نہ بچیں گے۔خدا کے بندے بائبل شریف کے مومنین ہمیشہ بوسیلہ کلام اللہ کے تسلی اور مغفرت پا کر مرتے ہیں اور مسیح نے فرمایا ہے کہ (جو کوئی میرے پاس آتا ہےکبھی بھوکااور پیاسا نہ ہوگا)۔ یہاں روح کی بھوک اور پیاس کا ذکر ہے۔ہم جتنے ایمان سے مسیح کے پاس آئے ہیں ہم نے تسلی او ر چین حاصل کیا ہے۔ہم الٰہی قربت اور مغفرت وغیرہ کے لیے ادھر ادھر ہرگز نہیں تاکتے۔ہم سیر ہو گئے ہیں اوریہ خدا کے کلام کا خاصہ ہےکہ مومن کو سیر کرے۔یہ کام قرآن سے اور تصوف سے اور دنیا کی کتاب سے اور کسی ریاضت و عمل اور وظیفہ سے نہیں ہوسکتا ۔صرف مسیح سے ہوتا ہے کیونکہ وہ ازلی کلمہ ہے۔

۳۔فصل صوفی کی وجہ تسمیہ کے بیان میں

کتابوں میں اس فرقہ کی تین وجہ تسمیہ مذکور ہیں۔اول یہ کہ صوف کے معنی ہیں پشم یا اون پس وجہ پشمینہ پوشی کے یہ صوفی کہلاتے ہیں۔میرے گمان میں یہ کچھ بات نہیں ہےاس بات سےتو انگریز بڑے صوفی ہیں وہ سب ہمیشہ اونی کپڑے پہنتے ہیں۔بھیڑ بکری اور اونٹ بڑے صوفی ہیں کیونکہ صوف پوش ہیں۔یحییٰ اور الیاس پیغمبروں نے اونٹ کے بالوں کی پوشاک استعمال کی ہےکیا وہ صوفی تھے ؟ ہرگز نہیں ۔البتہ اکثر درویشوں کا دستور رہا ہے کہ ایک کمبل یا لبادہ اون کار کھتے تھے کہ کفایت شعاری اور جسمی آرام اور بزرگانہ شکل قائم رکھنے کے لیے۔اگلے زمانے کے فقیر اکثر کمبل پوش تھے۔اوراب بھی بعض ایسے ہیں کہ کمبل پوشی کو دروشی کی سنت سمجھتے ہیں۔

انوار العارفین صفحہ ۸۲ میں لکھا ہےکہ حضرت محمد صاحب نے فرمایا کہ (علیکم بلبس الصوف) یعنی اون پوشی کو اپنے اوپر لازم سمجھو اور ایک اور حدیث میں ہے کہ کان النبی یلبس الصوف ویر کب الحمار ۔نبی صاحبہ پشمینہ پوش رہتے۔اور گدھے کی سواری کیا کرتے تھےاور یہ بھی حدیثوں میں ہے کہ ایک سیاہ کمبل محمد صاحب نے علی کو دیا تھا۔صوفی کہتے ہیں کہ وہ فقیری کانشان تھا۔اور وہ کمبل پیروں میں دست بدست نصیر الدین محمود تک چلا آیا تھا۔آخر کو محمود اسےاپنی قبر میں لے گیا۔اس لیے اس فرقہ میں کمبل پوشی ایک مثل ایک سنت کے ہوگئی امام اعظم صاحب اور داؤد طائی اور ابراہیم ادہم اور حسن بصری اور سلیمان فارسی وغیرہ نے اور اول زمانے کے اکثر بزرگوں نے کمبل پوشی اختیار کی تھی پس ایک وجہ تسمیہ ان کی کمبل پوشی ہے۔اس وجہ سے صرف کمبل پوشوں کو صوفی کہنا چاہیے۔ ان پیر زادں کو جو غالیچوں پر بیٹھتے اور کم خواب پہنتے اور پیچوان پیتے ہیں۔وہ ناحق صوفی کہلاتے ہیں۔جب کہ کمبل پوش نہیں ہیں ۔دوسری وجہ تسمیہ صوفی کی یہ بیان ہوئی ہے کہ صوفی آنراگویند گا وارد دل خودرا وصاف دار خاطر خود ارا از خیال غیر حق ۔اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ وہ غیار حق کا خیال بھی دل اور خاطر میں نہ آنے دیں۔یعنی ہمہ دست کے خیال سے مستغرق رہےوہ صوفی ہے۔یا صوفی وہ ہےجس نےا پنے دل کو خدا کے لیے صاف کیا ہےاورصاف کرنے کے معنی ان کی اصطلاح کے مطابق یہی ہیں۔کہ کسی غیر شے کے وجود قائل نہ ر ہےاسے سب کچھ خدا نظر آئے یعنی ہمہ اوست کے درجے کو خوب پہنچا ہو۔میں سمجھتا ہوں ایسے آدمی نے اپنے دل کو زیادہ تر کدورت اگین کیا ہے کہ خالق کی عزت مخلوقات کو دی ہے۔اور خدا کو اپنے خیال میں سے نکالا ہے۔اور غیر چیزوں کو اس کی جگہ میں بٹھایا ہے۔ایسے شخص کو صاف دل کہنا غلط ہے۔اگر اس وجہ سے یہ لوگ صوفی کہلاتے ہیں تویہ وجہ خلاف واقع کے ہے۔تیسری وجہ تسمیہ صوفی کی اور ہےاور وہ میرے گمان میں زیادہ تر صحیح ہے۔چاہیے کہ سب مسیحی لوگ ان صوفیوں کو اس تیسری وجہ کے سبب سے صوفی کہیں اور وہ یہ ہے کہ مکہ شہر میں ظہورِاسلام سے پہلے جب کعبہ بتوں سے بھرا ہوا تھا۔تو اس کے منتظم اور پوجاری یا خدمت گزار قوم صوفہ کے لوگ تھےاور اس وقت ان کی عزت عرب میں تھی۔وہ پیروں کے موافق تھی اور صوفہ کہلاتے تھے کہ جب اسلام ظاہرہوا تو محمدیوں میں سے بعض شخص بعض امورمیں ان بت پرستوں سے اتفاق کے سبب ان کی طرف منسوب ہو کر صوفی کہلائے شروع میں اسی سبب سے انہوں نے یہ نام پایاپھر کمبل پوشی اور صفائی وغیرہ کےچرچے ہوئے۔اور وہ اصلی پہلی مکروہ بات پو شیدہ ہوگئی۔دیکھو غیاث اللغات لفظ صوفی کے ذیل میں کیا لکھا ہے۔(ورشرحی معتبر از شروح نوشتہ کہ صوفی منسوب کہ بصوفہ است کہ قومےبوداز اہل تجردد رایام جاہلیت کہ خدمت کعبہ میکردند د خدمت خلق برائے حق مے نموندد پس اہل تصوف منسوب بایشان شدند )۔

پھر قاموس اور منتہی الارب افیک ہی عبارت یوں لکھی ہے۔(وصوفہ ایضاً ابوحی من مضرو ہوالغوث بن مربن اوبن طائحتہ کا نوایحذ مون الکعبتہ ویحبیڑون الحاج فی الجاہلتہ اے یفیفون بہم من عرفات وکان احد ہم یقوم فیقول اجیڑی صوفہ فاذ اجازت قال اجیڑی خندف فاذا اجازت اذن اللناس کلہم فی الا حاذۃ اوہم قوم من افنا القبایل تجعموا فتشکبوااکتشبک الصوفۃ)۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مضر کے گھرانے میں سے ایک قبیلہ کے باپ کا نام صوفہ ہے۔ اس کا دوسرا نام غوث تھااور وہ مربن اوبن طایخہ کا بیٹا تھا یہ لوگ کعبہ کی خدمت کرتےتھے۔اور ایامِ جاہلیت میں حاجیوں کو چلاتے ہیں ۔یعنی مقام عرفات سے طوائف کے لیےانہیں روانہ کرتے تھے۔کوئی آدمی ان کاکھڑا ہو کرکہتا تھاکہ چل اے قوم صوفہ جب وہ چلتےتب وہ کہتا چل مٹک چال جب وہ مٹک چال چلتے تو تب تمام لوگوں چلنے کی اجازت ہوتی تھی۔

اور صوفہ ایک گروہ کا نام بھی تھا۔جو سب قبائل میں سے معلوم النسب لوگ تھےوہ جمع ہوتے تھےاورآپس میں ایسا میل ملاپ کرتےتھے کہ جیسے قوم صوفہ مذکرہ بالا کا باہمی میل ملاپ تھا۔پس یہ لوگ آپ کو صوفہ کی مانند بنانے کی وجہ سے صوفہ کہلاتے تھے۔

اجیزی خندف کے معنی ہیں کہ چلو خوشی اور تکبر کی چال میں نے اس کا ترجمہ مٹک چال کیاہے۔چنانچہ اب تک وہاں تین طواف رمل ہوتی ہیں۔یعنی بانکوں کی مانند مگر محمدی لوگ یہ مٹک چال فتح مکہ کا نشان بتلاتے ہیں۔اور قدیم عرب اور مطالب سے کرتے تھے۔خندفبمعنی مٹک چال ان کی ایک پڑدادی کانام تھا۔جو الیاس بن مضر کی زوجہ تھی اور طائحنہ کی والدہ تھی۔وہ ایک دفعہ مٹک چال جنگل میں چلی تھی۔جب خرگوش سے اووک کے اونٹ بھاگے تھے۔اس وقت سے اس کے شوہر نے ان کا نام خندفرکھ دیا تھااورطائحنہ پڑدادا ہےصوفہ غوث کا اور صوفہ غوث سے یہ تمام قوم نکلی تھی اور اپنی جدا اعلیٰ کے نام پر سب صوفہ کہلاتے تھے۔پس اس مٹک چال میں وہ اپنی دادی کی سنت پر کوئی اشارہ کہتےتھےاور یہی قوم تمام عرب کے لیے کعبہ پرستی میں پیشوا اور پوجاری تھی۔دیگر قبائل میں سے بھی وہ معلوم النسب لوگ جو قوم صوفہ کی مانند عادات بناتے تھےصوفہ کہلائے۔حاصل کلام یہ ہے کہ صوفہ غوث ایک بت پرست آدمی تھا۔اسلام سے بہت دنوں پہلےاس کی تمام اولاد کئی پشت تک صوفہ کہلائی اور دوسرے گھرانوں کے لوگ بھی جو معلوم النسب تھےصوفہ کہلائےاس لیے کہ صوفہ غوث کی اولاد کے نقشِ قدم پر میل ملاپ اور کعبہ کے بتوں کی پرستش کرتےاور سال بسال کعبہ میں جمع ہوا کرتے تھے۔

اس بیان سے جو بالکل صحیح ہےظاہر ہے کہ لفظ صوفی کی اصل وہی صوفہ غوث بت پرست آدمی ہےاس سے اولاً اسکے اولاد صوفہ کہلائی اور ان کے اقتدار کے سبب غیر لوگ بھی صوفہ کہلائے اور اس میں کیا شبہ ہے کہ اس جہالت کے زمانے میں درمیاں اُن بت پرستوں کے صوفی لوگ ممتاز تھےوہ خدا پرست سمجھے گئے۔ اس لیے بعض دیگرقبائل کے لوگ ان کی اقتدار کرکے صوفہ ہو جاتے تھے۔وہ سمجھتے تھے کہ ان کے اطوار خدا پرستی میں درست ہیں۔جب اسلام کا زمانہ آیااورتمام ملک عرب بزور شمشیر مسلمان کیا گیااور انہیں محمدی شریعت دی گئی۔ان سے پرانی بت پرستی کے دستور چھڑائے گئے۔تو انہیں نومسلم لوگوں میں سے اکثروں کے دلوں میں قوم صوفہ کا خمیر موجود تھا۔چنانچہ اکثر ذی علم صوفی اب تک قائل ہیں کہ ہمارا تصوف اسلام سے پہلے تھااور اسلام میں یہ طاقت نہ تھی کہ وہ خمیر اس کے ذہنوں میں سے نکالتااب وہ نومرید صوفہ لوگ کیا کر سکتے تھے۔اگر اسلام کو چھوڑیں تو مارے جائیں صوفہ کو چھوڑیں تو بگمان ذیش حقیقی خدا پرستی سے الگ ہوتے ہیں۔

قیاس چاہتاہے کہ اس و قت ایسے لوگوں میں بہت کانا پوسی ہوئی ہوگی اور ان ہی کی کانا پوسی کا وہ نتیجہ معلوم ہوتا ہےجو کہ آج تک صوفیہ میں مشہور ہے کہ ایک علم سینہ ہے تو دوسرا سفینہ ہے۔ایک ظاہری انتظامی شریعت ہے جو محمد صاحب قرآن وحد یث میں لائے ہیں اس کے پیرو اصحاب ظا ہر یعنی محمدی لوگ ہیں جو حقیقت سے بے بہرہ ہیں۔ تو دوسری باطنی شریعت ہےجو صوفیہ میں سینہ بسینہ چلی آتی ہے۔اور خدا کا وصال اسی سے ہوتا ہے۔محمدی شریعت ملکی انتظام کے لیے ہےخدا پرستی کی راہیں جدا ہیں وہ لائق آدمی کو بڑی آزمائش کے بعدصوفی لوگ بتلاتے ہیں اور یہ لوگ اصحاب باطن ہیں۔اور کچھ عرصے کے بعداس کے ساتھ یہ بھی اڑایا کہ یہ علم سینہ محمد صاحب سے ہی پہنچا ہے تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ صوفہ غوث کی بات ہے۔اور محتسب کے کوڑے اور قاضی کے فتوے میں کچھ تخفیف ہو۔اور اصحاب ظاہر میں سے جو کچھ مادہ کے شخص ہوں صوفیہ میں شامل ہونا گمراہی نہ سمجھیں بلکہ جانیں کہ محمدصاحب کی اصل ہدایت صوفیہ کے پاس ہےمحمد صاحب علی کے کان میں ڈالی گئی تھی۔حضرت علی نے امام حسن وامام حسین اور کمیل بن زیاداور حسن بصری کو ہدایت خفیہ کی تھی کہ یہی چارا شخاص پیر طریقیت ہیں اور ان ہی سے یہ نعمت سینہ بسنیہ پیروں میں چلی آئی ہے۔

پس تمام ملک میں جس قدر صوفی پیدا ہوئے۔صدہا شجرے اپنے مرشدوں سے لےکہ انہیں چار میں سے کسی پیر تک پہنچتے ہیں ۔لیکن نقشبندیہ کہتے ہیں کہ ہمارا بڑا پیر ابو بکر صدیق ہےاُن کو محمد صاحب سے علم باطن پہنچا تھا۔اور اس کےسلسلے سے ہمیں پہنچا ہے۔

قیاس اور قول بالا سے ظاہر ہے کہ ان کا اصل مرشد وہی صوفہ غوث ہےکیونکہ قوم صوفہ کی اصل باتیں ان میں اب تک ویسے پائی جاتیں ہیں عقائد اور خیالات اور اطوارِ ریاضت وہی ہیں جو ان بت پرستوں کے تھے۔چنانچہ اس کتاب میں ان کے اطوار کا مفصل بیان ہوتا ہے۔اس وقت ناظرین کو اتنا معلوم ہو جائے کہ قاموس کی عبارت میں جو صوفہ کے کاموں کا ذکر ہے۔وہی کام بعینہ یہ صوفی کرتے ہیں۔

وہ سال بسال کعبے کے میلے میں جمع ہوتے تھے۔یہ سال بسال قبروں پر عرس کے لیے جمع ہوتے ہیں۔وہ من افناء القبائل تھے ۔ صحیح ترجمہ اس عبارت کا یہی ہے کہ سب قبیلوں میں سے معلوم النسب لوگ تھےیہ سب صوفی بھی ہر گروہ میں سےمعلوم النسبت ہوتےہیں اور شجروں سے پہچانے جاتے ہیں کہ کون کس گھرانے کا مرید ہے۔اگر کوئی اجنبی صوفی آجاتا ہے تو پوچھتے ہیں آپ کس سلسلے کہ ہیں وہ کہتا ہے کہ قادریہ یا ٍچشتیہ وغیرہ ہوں۔وہ آپس میں میل ملاپ کرتے تھے یہاں بھی وہی حال ہےہزار اہلِ تماشہ عرس میں آ ئیں۔اصل گمت صوفیوں ہی کی ہوتی ہے۔وہ بت پوجتے تھےیہ قبروں کے قدم چومتے ہیں۔وہ کعبہ کا طواف کرتے تھے۔یہ قبروں کا طواف کر تے ہیں۔وہ آبِ زم زم پیتے تھے یہ چرنامت چکھتے ہیں۔یعنی وہ پانی جو قبروں کے غسل اوس دوبالشت کے حوض میں جمع رہتا ہے۔جو پیر کی قبرسے پیروں کی قبروں کی طرف چونے سے بنی رہتی وہ کعبہ کے غلاف چومتے تھے یہ قبروں کے غلاف آنکھوں سے لگاتے وہ بتوں سے مدد مانگتے تھے یہ مردوں سے مانگتے ہیں۔ان کا ایک آدمی پیشوائی کرتا تھا۔ان کابھی ایک سجادہ نشین پیشوا ہوتا ہے۔اور یہ خیال جواب تک ان میں ہے۔کہ تمام ولیوں میں غوث بڑا شخص ہوتا ہے۔اس کی اصل بھی وہی صوفہ غوث ہے۔جو اُن میں جدا علی تھااور کیا تعجب ہے کہ اس کانام یا غوث بت سے کچھ علاقہ رکھتا ہو۔جو ان بت پرستوں میں نہایت بڑا دیوتا سمجھا گیا تھا۔اب فرمائے کہ صحیح وجہ تسمیہ کیا ہے۔

۴۔فصل اقسام صوفیہ کے بیان میں

صوفیہ کی اقسام دو طرح کی ہیں۔اول خاندانوں کے اعتبار سے اور دوئم ان کی باطنی حالت کے اعتبار سے ۔خاندانوں کے اعتبار سے یہ کیفیت ہے کہ اسلام میں جو ۷۲ فرقے اختلاف رائے سے پیدا ہوتے ہیں۔ان سے کچھ ہی زیادہ فرقے ان میں مشخیت کے لیے پیدا ہوئےہیں خاندانوں کے اعتبار سے کہتے ہیں کہ وہ جو چار پیر تھے ان سے چودہ خانوادے نکلے ہیں۔

زیدیہ۔عیاضیہ ۔ اوہمیہ ہیبئریہ ۔چشتیہ ۔ عجمیہ۔ طیفوریہ۔ کرضیہ۔ سقطیہ۔ جنیدیہ۔ کاردینہ طوسیہ۔ سہروردیہ۔ فردوسیہ ۔پہران چودہ سے اور فرقے اس قدر نکلے کہ مصنف لوگ جمع نہیں کرسکتے ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔قادریہ۔ یسویہ ۔نقشبندیہ۔ نوریہ۔ شطاریہ۔ خضرویہ۔نجاریہ۔ زاہدیہ ۔ الضاریہ ۔ صفویہ۔ عید روسیہ وغیرہ۔اورمشرب قلندریہ میں سے بھی مدرایہ رسول شاہی ۔ نوشاہی وغیرہ قسم قسم کے فقیر ہندوستان میں پھرتے ہوئےملتے ہیں۔اور اپنے فرقوں کے نام بتلاتے ہیں اور اسی کو خوبی سمجھتے ہیں۔ کہ ہم فلاں فرقے کے ہیں ۔وہ اپنے فرقے کے نام سے روٹی کما کر کھاتے ہیں۔ اور اکثر ان میں محض جاہل اور نکارہ سست لوگ ہیں جو محنت کرکے کھانا نہیں چاہتے ۔ غیروں سے خوراک پانا اورنشہ بازی کیے لیے کچھ دام حاصل کرنا اپنی فقیری کامنشا سمجھتے ہیں۔

پھر صوفی کہتے ہیں کہ بااعتبار باطنی کیفیت کے ہمارے درمیان تین قسم کے لوگ ہیں۔ واصلان۔متوسطان۔مقیمان۔

مقیمان وہ صوفی ہیں جو اپنی دنیاوی کیفیت میں قائم رہتے ہیں۔ اپنی بری حالت کو چھوڑ کر مدارج تصوف میں ترقی نہیں کرتے ان لوگوں کو متصوفہ کہتے ہیں یعنی چھوٹے صوفی۔یہ لوگ شکم پرور اور دنیا دار ہیں۔ کپڑے رنگے ہوئے ہاتھ میں ہاتھ تسبیح منہ میں سبحان اللہ وغیرہ الفاظ بولتے، مقبروں اور پیروں کی تعریفیں کرتے اور ان کے عرسوں یا میلوں کی تاریخیں یاد رکھتے اور ختم سناکے اچھےکھانے اوڑاتے اور دن رات پیسہ پیدا کرنے کی ایسی فکر ہوتی ہے جیسے ایمان دار خدا کی تلاش کرتا ہے۔دیہاتی نادانوں کی طرف بہت جاتے ہیں۔ اور ان کو مرید بناتے اور ان کا مال کھا جاتے ہیں۔اور ان کی تعلیم اور صحبت سے اور لوگ اسی قسم کے پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ چلہ کشی یاورد خوانی وغیرہ کچھ کام بھی اگر کرتے ہیں تومنشایہی ہوتا ہے کہ لوگوں کے دل اپنی طرف مائل کریں۔اور جب کوئی دولت مند ذی اختیار ان کے ان کے پنجےمیں پھنس جاتا ہے اور ان کی عزت کرتا یا کچھ زمے داری بخش دیتا ہے یا مرنے کے بعد کسی کا مزار بنا دیتا ہے۔تو یہ بات ان کے کمال کی دلیل سمجھی جاتی اور اس کا ذکر پشتوں تک چلاآتا ہے۔کہ فلاں صاحب ایسے بزرگ تھے کہ فلاں امیر نے ان کو یہ کچھ بخشد یا تھا۔ بعض ان میں سے ایسے بھی ہیں جن کے پاس کچھ اثاثہ زمینداری یا کسی خانقاہ کی آمد کاجو ان کے آبا ءنے اسی طرح پیدا کیاتھاموجود ہےوہ عزت سے رہتے اور غریب صوفیوں کو بھی کچھ کھلاتے اور مہمان داری کرتے ہیں روٹیاں تقسیم فرماتے ہیں۔اور اس وجہ سےدور دور تک تعریفیں ہوتی ہیں اور وہ اس تعریف سے بہت خوش ہوتے ہیں۔کیونکہ آمد بڑھتی اور ولی اللہ مشہور ہوتے ہیں۔اور اس کے ساتھ جب خوش اخلاقی ظاہر کرتے ہیں۔تب زیادہ رونق ہوتی ہے۔لیکن بعض ان میں سخت دل،متعصب اور شہوانی شخص ہوتے ہیں۔

متوسطان وہ ہیں جو مقیمان کے اوپر اور واصلاں کے نیچے سمجھے گئےہیں انہوں نےد نیا کو کسی قدر چھوڑا اور تصوف کے طریقوں کو اختیار کیا ہے۔ لیکن ابھی تک خدا کے پاس نہیں پہنچنے کوشش کررہے ہیں کہ پہنچ جائیں ان کو سالکین کہتے ہیں ۔

میں دیکھتا ہوں کہ ایسے صوفیہ میں کہیں کہیں نظر آجاتے ہیں۔سو مقیمان میں شاید پانچ ایسے ہوں۔ان میں کچھ تو خدا کی محبت ہےجس کی سبب سے انہوں نے جفا کشی اختیار کی ہےاور کچھ اپنا دنیاوی آرام چھوڑا ہے۔ اس لیے وہ عزت اور محبت اور ہم نشینی کے لائق ہیں۔ان کی نسبت مجھے یہی افسوس ہے کہ جس راہ پر وہ چلے جاتے ہیں۔وہ راہ خدا سے ملنے کی نہیں ہے۔بے فائدہ مشقت کھینچتے ہیں۔ان اطوار سے جو انہوں نے اختیار کیے ہیں۔خدا کو کبھی نہ پائیں گے۔ میں ان کی منت کرتا ہوں کہ میری یہ باتیں سن کر خفا نہ ہوں۔بلکہ فکر میں پڑ جائیں۔اور غور کریں کہ جو کچھ اس کتاب میں بیان ہوا ہےسچ ہے یا نہیں۔

ان متوسطان میں سے کئی ایک آدمی ہمارے مسیحیوں کی جماعت میں بھی آ ملے ہیں ۔اور دینِ مسیحیت کا انہیں لطف حاصل ہوا ہے۔کیونکہ وہ سچائی کے بھوکے اور رضیاتوں کے تھکے ماندے تھے۔جب وہ مسیح کے پاس آئے مسیح نے بموجب اپنے وعدے کے (متی 1۱۔۸) ان کے دلوں میں آرام داخل کردیا۔اب وہ خدا کا شکر کرتے ہیں کہ صوفیوں کے جال سے نکلے اور پیغمبروں کی جماعت میں آئےاور خدا کو فی الحقیقت پایااور اس سے فضل حاصل کیا جودلوں اور خیالوں میں جلوہ گر ہواہے اور تبدیل ہو کر نئے انسان ہو گئے ہیں۔اب پورا یقین ہے کہ وہ انتقال کے بعد وہ حقیقی آرام میں پہنچیں گے۔کیونکہ اسی زندگی میں خدا کی قدرت اور محبت کا ہاتھ اپنی طرف دیکھتے ہیں ۔پس یہ لوگ ان صوفی متوسطان کو بہت یاد کرتے ہیں جن کو غلطی میں پیچھے چھوڑا ہےان کے لیے دعائے خیر کرتے ہیں۔کہ خدا تعالیٰ ان کو بھی اس گرداب میں سے ایسا نکالے کہ جیسا ہمیں نکالا ہے۔کیونکہ وہ جو پیچھے رہ گئے ہیں وہ بکواسی اور شریر نہیں صرف بھول میں ہیں۔

واصلان وہ صوفی سمجھے گئے ہیں جو کہ ان مقیمان اور متوسطان کے گمان میں خدا سے مل گئے ہیں ۔تصوف یا سلوک کی منزلیں طے کرکے منزل مقصود کو پہنچے ہیں۔یہی بیان اس کتاب میں بڑی بحث کا ہے۔

اس لیے میں صاف صاف کہتا ہوں کہ ایسے اشخاص جن کو واصلان کہا جائےصوفیہ میں کبھی ہوئے نہ کبھی ہوں گئے۔یہ صوفیوں کا وہم ہے جو وہ کہتے ہیں ہم میں واصلان بھی گزرے ہیں۔

اور وہ جو ان میں بڑے بڑے نامور ولی اللہ مشہور ہیں۔ جن کے عالی شان مقبرے بنے ہوئے ہیں۔جہاں میلوں اورعرسوں کے وقت مریدوں اور پیر زادوں اور عوام مرد عورت کا ہجوم اور چراغوں اور غلافوں اور چورو ناچ اور حال قال اور ماہ و ساوں میں پنکھیوں کی دھوم رہتی ہے۔یہ ساری کیفیتیں دلائل ولایت واصلان حق ہونے کے شان نہیں ہیں۔یہ تو پیر زادوں کی دکانداری ہے۔ البتہ وہ بزرگ اپنے اپنے زمانے میں بطور صوفیہ خدا پرست اور نیک ہونگےلیکن واصلان میں سے وہ ہرگز نہ تھے۔ وہ سب سلوک ہی میں مر گئے۔ہاں ان کے سلوک میں زیادہ استغراق دیکھ کر لوگوں نے انہیں واصلان میں سمجھ لیا ہے۔اور انہیں اڑایا ہے تاکہ وہ جاہلوں میں سے پوجے جائیں اور پیر زادے حلوے کھائیں۔اور ان کے نام سے عزت حاصل کریں کہ ہم اتنے بڑے شخص کی اولاد میں سے ہیں۔آؤ ہمارے پیر وں کو ہاتھ لگاؤ اور نذرانہ لاؤ۔

اس مقام پر یہ سوال لازم ہے کہ واصلان حق کے کیا معنی ہیں اور وہ جو واصلان ہیں کیونکر پہچانے جاتے ہیں۔پہلے اس سوال کا تصفیہ کرو۔پھر کہنا کہ کون واصل اور کون فاضل ہے۔

اس سوال کا جواب صوفیہ کی بعض تحریرات سے یوں برآمد ہوتا ہےکہ جو لوگ ہمہ اوست کے خیال میں پختہ ہو گئےہیں۔وہی ان کے گمان میں واصلان ہیں گویا خدا میں وصل ہوگئے ہیں۔اور وہ جو ان کی کچھ کرامتیں اورمکاشفے مذکور ہیں وہ علاماتِ ولایت ہیں۔اور یہ کہ ان کے عہد کے بعض لوگ ان کے متعقد تھے۔اور اب تک بہت سے لوگ ان کی قبروں پر جمع ہوتے ہیں اور ان سے منت مانتے اور درخواستیں کرتے ہیں اور اپنی مرادیں پاتے ہیں۔

اگر واصلان حق کے معنی اور علامات کچھ اور ہوں جنہیں میں نہ سمجھا ہوں تو چاہیے کہ صوفی خود بیان کرے۔میں تو ان کی کتابوں کے مطالعہ سے ایسا ہی سمجھا ہوں۔جیسا میں نےاوپر لکھاہے۔

اور اس بیان کی نسبت یوں کہتا ہوں کہ گزشتہ تاریکی کے زمانے میں وہ بیان قبول ہوا کرتا تھااب قبول نہیں ہو سکتا ہے۔کیونکہ نہایت ناقص خیال ہے۔اس وجہ سے کہ ہمہ اوست کا خیال فی الواقع ایک باطل وہم ہے۔خداتعالیٰ ہرگز ہمہ اوست کی کیفیت میں نہیں ہے۔پس یہ لوگ یعنی ان کے اولیا اگر واصل ہیں تو ہمہ اوست کے باطل خیال سے واصل ہیں ناکہ خدا سے۔

اوروہ جو ان کی کرامتیں مشہور ہیں۔ان کا اثبادت محال ہےکیونکہ اگرچہ کرامتوں کے ظہور کا اولیا اللہ سے امکان ہے۔تو بھی کچھ قاعدے ہم مسیحیوں اور محمدی محدثوں کے پاس بھی ضرور موجود ہیں۔جن سے خبروں کی آزمائش کرناعقلاً واجب ہےتاکہ ثابت ہو جائے کہ کس قسم کی خبریں لائق اعتبار ہوتی ہیں۔انہیں قواعد واجبہ کی رو سے محمدی معجزات کی خبریں غیر معتبر ٹھہر ی ہیں۔اور وہی قواعد ہیں جن سے ہر احمق بت پرست کا منہ کرامتوں کے بارے میں بند کیا جاتا ہے۔پس فرض ہے کہ ہم انہیں قواعد سے ان ولیوں کی کرامتوں کی خبروں کو بھی پرکھیں ثقہ روایوں کی تلاش کریں اور خبروں کا تواتر دیکھیں اگر ہم ایسا کریں تو یہ دفتر کے دفتر کرامتوں کے صاف اڑ جاتے ہیں۔کیونکہ یہ ظاہر مریدوں اور غرض مند پیرزادوں کے بے سرو پا زٹلیات ہیں۔جو ایک وقت میں تصنیف ہو گئےاور اب تک ہر للو پنجو سے تصنیف ہوتے چلے جاتے ہیں۔

بائبل شریف کے معجزات ایک خاص مراد پر اور ایک خاص نبوت کے ساتھ ممتاز ہو کر مرقوم ہوئے ہیں اور ان کا وقوع سنجیدگی میں ہے۔وعلی روس الاشہاد ہوا ہےاس لیے صرف وہی معجزات اعتبار کے لائق ہیں۔

باقی تمام زمین پرہر گروہ کے لوگ جو کچھ کرامتیں اپنے بزرگوں کی سناتے ہیں ایک بھی نہیں ہے کہ بائبل کے معجزات کے ثبوت کی مانند اپنے بیان کا ثبوت رکھتا ہو۔

محمد صاحب قرآن میں ایک تعلیم دنیا کے سامنے لائے ہیں اگر وہ تعلیم خدا سےثابت ہوتی تو مناسب تھا کہ خدا اپنی قدرتوں سے اس پر گواہی دے کر اسے ثابت کرتا جیسے گزشتہ زمانے میں اس نے بائبل مقدس کی نسبت کیا ہے۔لیکن خوب ثابت ہو گیا کہ خدا نے قرآنی تعلیم پر کچھ گواہی نہیں دی۔پھر ان صوفی ولیوں کی کرامتوں پر کس بات پرگواہی دیتا ہے۔آیا تصوف پر یا ہمہ اوست کے باطل خیال پر یا ان پیروں کے حال و قال پر ۔

معجزات کی وہ پُر شان قدرت جو کہ خدا میں مخفی ہےاور انتظامِ فطری سے بلند و بالا ہےجسے خدا نے بڑی سنجیدگی کی صورت میں بمزاو ثبوت پیغام گاہے بگاہے ظاہر کیا ہے۔کیا وہ قدرت ایسی عام ہو گئی کہ ان ولیوں نے صدہا کرامتیں چٹکی چٹکی میں کر ڈالیں؟کیا ان ولیوں پر بھی ایمان لانا اہل ِ دنیا پر فرض ہے؟

" دھوکا نہ کھاؤ سوکھی جڑ سے سبز ڈالیا نہیں نکلا کرتیں"۔

رہے ان کے مکاشفے اور مہلمات سو ان کی طرف بھی غور سے دیکھو کہ صرف توہمات ہیں۔حقیقی مکاشفے جوخدا کی طرف سے ہیں بائبل میں مذکور ہیں۔ان کی مانند کوئی مکاشفہ کسی ولی کا اگر کسی کو معلوم ہو تو بتلا دےتاکہ ہم اس پر فکر کرکے کہیں کہ وہ مکاشفہ ہے یا وہم ہےیاصرف ایک خیال ہےجو انسان سے ہے۔

اور یہ کہنا کہ ان کے عہد کے لوگ ان کے متعقد تھے یہ کچھ بات نہیں ہے۔جیسے سچے معلموں کے متعقد دنیا میں ہو گزرے ہیں ویسے جھوٹے معلموں کے متعقد بھی ہو گزرے ہیں۔یہ دکھلانا چاہیے کہ ان میں کیا تھا جن کے سبب سے لوگ متعقد ہوئے تھے؟

اور اب جو قبروں پر لوگ جمع ہوتے ہیں۔ان کا سبب تو وہی صوفی باطل خیال ہیں وراثتہ اً ان میں چلے آتے ہیں اورپیر زادگان کی طرف سے کشش بھی ہےاور وہ جو منت مانتے ہیں اس کا سبب انسانی بے ایمانی ہےکہ خدا کو چھوڑ کر مردوں سے درخواست کرتے ہیں مصیبت زدہ جاہل عورتیں اس بلا میں زیادہ مبتلا ہے۔لیکن کیا ہوتا ہے کیا ہر کسی کی مراد پوری ہو جاتی ہےہرگز نہیں سب کام انتظام ِ الٰہی سے ہوتے ہیں۔کیو نکر کوئی ثابت کرسکتا ہےکہ فلاں کام فلاں پیر سے ہو گیا ہےاور کہ کون کون امور میں پیرپرست کامیاب ہیں؟کہ پیروں کے منکر وہاں ناکامیاب رہے ہیں بر خلاف اس کے یہ دیکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو زندہ خدا کو چھوڑ کر غیر معبودوں کے دروازوں پر بھیک مانگتے پھرتےہیں کبھی سیر نہیں ہوتے بلکہ تمام لعنتیں ان کو گھیرے رہتی ہیں اورآخر ہائے ہائے کرکے بے ایمان مر جاتے ہیں۔

حاصل کلام یہ ہے کہ صرف سالکین اور متصوفین صوفیہ میں ہوئے ہیں اور واصلان حق کبھی ان میں نہیں ہوئےاور جن کو انہوں نے واصلان ِ حق سمجھا ہے وہ فی الحقیقت واصلانِ حق نہ تھے۔وہ اپنے باطل خیالات میں مستغرق تھےاور اس استغراق میں ان کی حالت دگر گوں دیکھ کر ان لوگوں نے ان کو واصلان سمجھا ہے۔

۵۔فصل ولی اور ولایت کے بیان میں

لفظ ولی مصدر ولا سے مشتق ہے۔اس کے معنی ہیں کہ محبت رکھنے والااور اس کی جمع اولیا ہے۔ولایت اسی لفظ ولاسےدوسرا مصدر ہے جس کے معنی دوستی اور تقربِ بندہ بخدا کےہیں۔

ہر قوم اورہر فرقے میں بعض ایسے اشخاص بھی ملتے ہیں۔جو کچھ کچھ محبت اللہ تعالیٰ سے رکھتے ہیں۔خواہ دانشمندی یا نادانی کے ساتھ لیکن وہ سب ولی اللہ نہیں سمجھے جاتے۔

ولی اللہ میں کچھ اور بھی مطلوب ہے جس سے وہ سچا ولی اللہ سمجھا جائے۔پس کسی نے کہا کہ ولی وہی ہے جو خدا سے محبت رکھتا ہے۔یعنی دونوں میں دوستی ہو۔

اس مضمون پر کسی نے کہا کہ یہ بھی ولی کی پوری تعریف نہیں ہے۔کیونکہ خدا کی محبت پیدائش اور رزق رسانی اور حفاظت اور دنیاوی برکت میں کافروں اور مومنین کی نسبت برابر ظاہر ہےاور دونوں کے لوگوں میں سے بعض ہیں جو خود بھی محبت کا دم بھرتے ہیں۔پس جن میں محبت توہے کیا وہ سب ولی ہیں ؟ ہرگز نہیں۔

مولوی عبدالغفور نفحات کے حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ ولایت کی دو قسمیں ہیں۔عامہ اور خاصہ ولایت عامہ سب مومنین اہلِ اسلام کو حاصل ہے۔خدا کی مہربانی سے خدا کے قریب ہیں ۔جس نے انہیں کفر کی تاریکی سے نکالا اور ایمان کے نور میں شامل کیا۔

ولایت خاصہ مقربان درگاہ کے لیے مخصوص ہے۔جس کے معنی ہیں بندہ کا خدا میں فنا ہو نا۔بہ نسبت غیر چیزوں کے اور خدا میں بقا ہونا بہ نسبت حق کے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ بیان بھی مولوی عبدالغفور کا درست نہیں ہے۔اولاً ولایت کی تعریف صحیح کرنا چاہیے پھر تقسیم جب کہ ہم ان کے بیان سے ولایت ہی کو نہیں سمجھے کہ وہ کیا چیز ہےتو ہم اس کی قسمیں کیونکر مان سکتے ہیں؟

اور یہ جو ولایت عامہ میں محمدی مومنین کی نسبت خدا کی مہربانی کا ذکر کیا گیا ہے۔کہ اس نے انہیں کفرسے نکالااور نور ایمان میں شامل کیا۔یہ مقام بحث طلب ہےپہلے یہ فیصلہ ہوناچاہیے کہ کفر کیا ہے اور محمدی ایمان کیا ہےاور اس میں کیا روشنی ہےجس کو وہ نور کہتےہیں اور یہ کہ خدانے ان کواس نور میں شامل کیا ہےیا تلوار نے یایہ کہ مجبوری سے مسلمان شدہ لوگوں کے گھروں پیدا ہو کر اسلام کے نور میں شامل ہوئےاور اس شمسول کو الٰہی فعل قرار دیتے ہیں جب تک یہ سب باتیں صاف نہ ہو جائیں ہم کیو نکر قائل ہو سکتے ہیں۔کہ خدا کی خاص مہربانی ان پر ہوئی ہے۔اور کہ یہ قربت کی ایک صورت ہے۔پس یہ ولایت عامہ توجہ کے لائق شے نہیں ہے اوراس سے دینِ محمدی کا کچھ جلال ظاہر نہیں ہوسکتا۔

اور ولایت خاصہ کی جو یہ تعریف کی ہےکہ نسبت غیر چیزوں کے فنا ہونا اور بہ نسبت حق کے خدا میں بقا حاصل کرنا البتہ یہ بات فکر کی ہے کہ یہ کیا ہے؟

یہ بات بہ تبدیل عبارت نفحات میں یوں مرقوم ہے کہ ولی وہ ہے۔ جو اپنے حال کی نسبت فناہو جائےاور مشاہدہ حق کی نسبت باقی رہےاورتمام کتب تصوف میں ایسی ہی تعریفیں ولی کی لکھی ہیں۔جس کا حاصل یہ ہے کہ از خود فنا بخدا رسیدہ شخص ولی ہے۔لیکن فی الحقیقت ایسا شخص ولی نہیں ہو سکتا۔یعنی وہ جو اپنے حال کی نسبت فنا ہو جائےوہ تو پاگل یا دیوانہ یا مخبط الحواس ہے ۔ پھر مشاہدہ حق کی نسبت باقی رہنا اس کا ثبوت اس شخص کی نسبت کیونکر ہو سکتا ہےکیونکہ ازخود رفتگی جواُس میں ہےوہ حواس میں تاریکی کانشان ہےاور جب اس میں تاریکی اور خلل ہے تو روح میں خدا سے دوری ثابت ہوگی۔نہ کہ قربت کیونکہ خدا نور ہےاس کی قربت آدمی کو منور اور روشن کرتی ہے ناکہ پاگل۔

پھر صوفیہ کہتے ہیں کہ ولایت اور نبوت دو حالتیں ہیں باطنی حالت کانام ولایت ہےاور ظاہری حالت ہدایت خلق کانام نبوت ہے۔اس لیے ہر نبی ضرور ولی بھی ہےلیکن ہر ولی نبی نہیں ہے۔بعض ولیوں کو نبوت کا عہدہ بھی بخشا گیا ہے۔وہ ولی نبی کہلاتے ہیں اور بہت ولی ہیں جو نبی نہیں ہیں مگر اندورنی کیفیت ان سب نبیوں اورولیوں کی یکساں ہیں۔

میں اس بات کو مانتاہوں کہ درحقیقت ولایت ایک باطنی کیفیت ہے مگر کلام اس میں ہے کہ وہ کس قسم کی کیفیت ہے اوروہ کون سے نشان ہیں جن سے اس کیفیت کو پہچان کر کسی کو ولی قرار دے سکتے ہیں۔اس کا فیصلہ اب تک صوفیوں سے نہیں ہوااور نہ ہو سکتا ہے۔تو بھی انہوں نے بعض آدمیوں کو ناحق ولی سمجھ لیا ہےاور ہمیشہ چند احمق آدمی مل کر کسی نہ کسی آدمی کوولی مشہور کردیتے ہیں۔میں نےجہاں تک ان کی کتابوں میں فکر کیا ہے۔مجھے یہی معلوم ہوا کہ یہ صوفی نہ حقیقی نبی کو پہچانتے ہیں اور نہ ہی حقیقی ولی سے واقف ہیں۔جس قسم کے لوگ ان میں ظاہر ہوئے ہیں ان ہی کی کیفیت پر غور کرکے انہوں نے نبوت اور ولایت کا بیان کیاہے۔ان کے پاس خدا کا کلام نہیں ہے۔ کہ انہیں روشنی بخشےاور راہ راست دکھلادے ان کے پاس صرف آدمیوں کے اقوال ہیں اور وہ بھی ناقص اقوال اور قرآن ہے جو انسان کا کلام ہےاور حدیثیں ہیں جو کہ ناکارہ باتیں ہیں نہ ان کے درمیان کوئی نبی ِبرحق ظاہر ہوااور کوئی سچا دل پیدا ہوا ۔اس لیے وہ غلطی میں پھنسے ہوئے ہیں۔

معلوم ہو جائے کہ سچاولی اللہ وہ شخص ہے جو صحیح توبہ اور برحق ایمان کےبعد محبت الٰہی میں ترقی کرتا اور خدا کی مرضی خدا کے کلام سے دریافت کرکے عمل میں لاتا ہےاور خدا کے حکموں کو چمٹا رہتا ہے وہ گناہ کی نسبت فنا اور راستبازی کی نسبت بقا کا رتبہ حاصل کرتا ہے۔ایسا ہی شخص خدا کا مقرب ہوتا ہے اور نشان قربت جو اولاً خود اس پر ظاہر ہوتے ہیں۔یہ ہیں کہ اس کی روح میں ایک نئی زندگی اور روشنی اور تازگی اللہ کی طرف سے آجاتی ہے اور اس کو حقیقی اطمینان حاصل ہوتا ہےثانیا جو نشانِ قربت غیروں پرظاہر ہوتے ہیں یہ ہیں کہ اس شخص کے افعال اور اقوال اور سب حرکات و سکنات اسی نئی زندگی اور روشنی اور تازگی و اطمینان کے مناسب ظاہر ہوتے ہیں یہ ہیں اس سے لوگ پہچانتے ہیں کہ یہ مردِ خدا ہے۔

اور یہ بھی کچھ ضروری نہیں کہ اس سے کرامتیں ظاہر ہوں۔البتہ ہو سکتا ہے کہ کبھی کوئی کرامت کا کام بھی اگر خدا چاہے تو اس سے ظاہر ہو جائےاور یہ بھی کچھ ضرور نہیں کہ لوگ اس کے پیچھے دوڑیں یا اس کی قبر پرستی کریں یااس کے قدم پکڑے اگر وہ ایسے کام لوگوں کو کرنےدے تو وہ خدا کا آدمی نہیں ہے۔

ہاں اسکے بعض نیک نمونے اگرچا ہیں تو لوگ اختیار کرسکتے ہیں اور سوچ سکتے ہیں کہ اس نے خدا کی اطاعت اور خدمت کیونکر کی ہم ایسے ہی کریں۔اس نے خدا کی طرف دل لگایا ہم بھی خدا کی طرف دل و جان سے متوجہ ہوں۔خدا نے اس پر فضل کیاہم پر بھی فضل کرے گا

مسیحی ولیوں کی کیفیت اور محمدی ولیوں کی کیفیت زمین آسمان کا فرق ہے۔اگر کوئی محمدی باانصاف اس معاملے پر غور کریں تو اسے معلوم ہو جائے گا۔سچےولی اللہ صرف مسیحیوں میں گزرے ہیں اوراب زندہ موجودہیں۔

۶۔فصل ان صوفی ولیوں کے اختیارات کے بیان میں

صوفیہ کی کتابوں میں ان ولیوں کے بڑے بڑے اختیارات کا ذکر ہےجس سے خوب معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ فرقہ کہاں تک نادان ہے کہ گزشتہ زمانے کے لوگ کہاں تک سادہ لوح تھےجوایسے خیالوں کو مانتے تھے۔اس وقت کوئی دانشمند ایسی باتوں کو ہرگز قبول نہ کرے گا۔انوار العارفین صفحہ ۱۴ میں لکھا ہے کہ(خداتعالی رااولیا اندکہ ایشانرا بدو ستی وولایت مخصوص گردایندہ است ووالیان ملک وے اند کہ یہ بندگی برگزیدہ است ایشانراو نشانہ اظہار فعل خود گردایندہ است وامرا یشانراوالیان عالم گردایندہ از آسمان باران بابرکت اقدام یشان آید)۔ اور صفحہ ۱۰۰ کشف المحجوب سے منقول ہے کہ از آسمان باراں یرکت ایشان آبدواز زمین نباتات بصفااحوال ایشان روبدو برکا فران مسلمانان نصرت باہمت ایشان یابند)۔یسے ایسے بیان ان کی کتابوں میں اس کثرت سے ہیں کہ گویا خدا نے اپنی ساری خدائی کا اختیار ان ولیوں کے ہاتھ میں دے رکھا ہے اور سارے جہان کا بندوبست یہی لوگ کر رہے ہیں۔یہ محض غلط اور گمراہی کا خیال جاہلوں کے دل قبروں کے طرف کھینچنے کے لیے کیا خوب ہیں۔

قرآن میں ایسی باتوں کا کچھ ذکر نہیں ہے بلکہ وہاںکل اختیار خدا کے ہاتھ میں بتلایا گیا ہےاورسب کو ناچارثابت کیا گیا ہے۔صرف صوفیہ کی کتابوں میں ایسی باتیں ہیں ایسی ہی باتوں سےپیر پرستی اور قبر پرستی سے رونق پائی ہے یہاں تک کہ خدا پرستی کی جگہ میں پیر پرستی قائم ہو گئی ہے۔ہزاروں مسلمان مرد اور عورت ایسے ہیں کہ اپنی مصیبتوں اور تکلیفوں کے وقت نہ کہ خدا کو بلکہ پیروں کو پکارتے ہیں۔کشمیرمیں ایک گھر کے درمیان آگ لگی تمام اہلِ محلہ مرد اور عورتیں چھاتی پٹتے اور جلد جلد بولتے تھے۔اے پیر دستگیر بچا۔وہاں ایک عیسائی مرد موجود تھا۔کہا اے کم بخت لوگوں! پانی ڈالوپیر صاحب نہیں بچاسکتا بمشکل پانی ڈلوایا تب آگ بجھی۔انصاف کیجیے کہ یہ حقیقی بت پرستی ہے کہ نہیں اور یہ بت پرستی انہیں باطل خیال سے نکلی ہے جو صوفیوں نے ان ولیوں کے اختیار کے بارے میں تصنیف کی ہے۔

میں پوچھتا ہوں کہ یہ محمد صاحب کی تعلیم ہےیا صوفیہ کی اگر محمد صاحب کی تعلیم ہے تو انہوں نے خدا کی عزت آدمیوں کو دی ہےاور پرانے بت ہٹا کر نئی قسم کے بت قائم کیے ہیں اور اگر صرف صوفیہ کی باتیں ہیں تو فرمائیں کہ ایسے خیالات کے شخص محمدی سمجھے جائیں گےیا مشرک پھر ایسے خیالوں کو آدمیوں کو صوفی صاف دل کہوگےیانا پاک دل کا آدمی سمجھو گے۔یہ پیر لوگ جو دیہات میں دورہ کرتے اور مرید بڑھاتے پھرتے اور کہتے ہیں کہ ہم خلق اللہ کو ہدایت کرتے ہیں وہ کیا سکھلاتے پھرتے ہیں یہی کہ فلاں پیر صاحب نے فلاں شخص کی یوں مدد کی تھی اور فلاں عورت نے وہاں قبر سے یو ں مراد پائی تھی پھریہ بھی کہتے ہیں کہ سب کچھ خدا سے ہوتا ہے۔

۷۔فصل مجذوب ولیوں کے بیان میں

صوفی سمجھتے ہیں کہ باعتبار عقل وہوش اور چال چلن کے ولیوں کی تین قسمیں ہیں۔اول مجذوب۔ دوئم قلندر۔ سوئم سالکین۔

جذب کے معنی ہیں کھینچنااور مجذوب کے معنی ہیں کھینچا ہوا شخص یعنی دنیا سے ایسا کھینچا گیا کہ دنیا کا کچھ ہوش نہ رہا ننگا پھرتا، بکتا، روتا اور نیک و بد میں تمیز نہیں کرتا جیسے یہ سب پاگل گلیوں میں پھرتے ہیں پاگل خانوں میں قید ہیں۔

لیکن سب پاگلوں کو صوفی لوگ ولی نہیں سمجھتے۔بعض پاگل ان کے گمان میں مجذوب ہیں۔جن میں انہیں کچھ قدرت نظر آتی ہے۔مثلاً ان میں کچھ غیب دانی کی روح ہویا زنجیروں میں جکڑا جائےاور انہیں توڑ ڈالے یا کسی کے حق کے کچھ بات کہے اور وہ پوری ہو جائےتو ایسے پاگلوں کو مجذوب سمجھتے ہیں اور اعلیٰ درجے کا ولی بتلاتے ہیں لیکن یہ بھی کہتے ہیں کہ مجذبوں سے فیض رسانی کام نہیں ہوتا ہے تو بھی میں نےاپنی گذشتہ عمر میں اکثر شریف محمدیوں کو مجذبوں کے پیچھے بہت سر گرداب دیکھا ہےاور ان کا انجام یہی ہو ا کہ پاگلوں کے پیچھےدوڑکے خود پاگل ہو گئےاور ان کی خانہ خرابیاں ہو ئیں ۔

غور کرنے سے معلوم ہوا ہےکہ بعض آدمی کسی بیماری کے سبب سے پاگل ہوتے ہیں اور بعض میں کوئی بد روح سماجاتی ہےاور وہ شیطان کے قبضے میں آجاتے ہیں ہم انہیں شیطان کے مقبوض سمجھتے ہیں۔صوفی انہیں اللہ کے مجذوب کہتے ہیں۔

جناب مسیح کو بھی ایک سخت مجذوب ملا تھادیکھو(مرقس ۵۔۱سے۱۵)اور پولوس رسول کو بھی ایک لڑکی ملی تھی جس میں غیب دانی کی روح تھی (اعمال ۱۶۔۱۶ سے ۱۸)۔اگر صوفیوں کو یہ آدمی ملتے تو کتنے بڑے ولی سمجھے جاتے اور ان کے عالی شان مزار اب تک قائم رہتے۔

خوب یاد رہے ایسے لوگ خدا کی طرف مجذوب نہیں ہوتے بلکہ ٍشیطان کی طرف مجذوب ہوتے ہیں اوران سے جو بعض کرامتیں انکے گمان میں ظاہر ہو جاتیں ہیں اگر فی الحقیقت ہوں تو شیطانی قدرت سے ہوں گی۔

کشش الٰہی تو ایک بڑی چیز ہے جو آدمی کے دل کو خدا کی طرف کھینچتی ہےاوروہ فضل کا نشان ہے۔مگر جو کوئی سچے خدا کی طرف کھینچا جاتا ہےوہ زیادہ ہوہشیار اور روشن ہوتا ہے وہ خدا اورآدمیوں کے حقوق خوب پہچانتا ہےاور خدا کے حکموں پر مضبوط اور قائم ہو جاتا ہےتاکہ پاگل مجذوب اس بات پر خوب فکر کریں۔

۸۔فصل قلندروں کے بیان میں

لفظ قلندر کی اصل کلندر یا غلندر ہے معنی کندہ نا تراشیدہ لیکن بول چال میں بے شرع شہدے کو اور بندر یا ریچھ نچانے والے کو اور بازی گر کو اور مگر ے شہدے ہنگڑ چرسی وغیرہ کو بھی قلندر کہتے ہیں جیسے دہلی میں جامع مسجد کے شہدےیا بعض تکیوں میں کونڈی سونٹے لیے ہوئے بعض لنگارے نعرہ زن نظر آتے ہیں اور یاعلی مدد بولتے ہیں یہ سب قلندر ہیں۔

صوفی سمجھتے ہیں کہ بعض قلندر ولی اللہ ہیں اور وہ شریر اور لچے نہیں لیکن ان کا مشرب قلندریہ ہے۔وہ عشق باز اور آزاد ہیں۔وہ ہمہ اوست کا دم بھرتے ہیں اور شرع محمدی کے تابع نہیں ہوتے ان میں سے ایک قلندر کا یہ شعر ہے۔

ماز دریائیم دریائیم زماست این سخن داندکسی کو آشنا ست

شاہ خضر رومی پہلا قلندر ہے جو روم سے ہندوستان میں آیا تھا۔وہ کسی کا مرید اور چیلا نہ تھاکیونکہ قلندر لوگ کسی کے مرید نہیں ہوتےنہ کسی پیر کی پرواہ کرتے ہیں وہ سونٹے باز زبان دراز آزاد نعرہ زن ہوتے ہیں۔صوفیوں کا ان سے دم بند ہونا ہے۔

جب یہ خضر رومی قلندر دہلی میں آیا تواس وقت دہلی کے قطب صاحب باوہ فرید کے پیر مرشد زندہ تھے۔اس قلندر نے ارادہ کیا کہ حضرت کی خدمت میں جائے اور ان کا مرید ہوقطب صاحب نے جب یہ سنا تومریدی کا شجرہ کلہ اس کے ڈیرے ہی پر بھیج دیااور دور ہی سے رخصت کیااس کی آزاد طبع سے ڈر گئے۔

حضرت نعمت اللہ ولی نے اپنے ایک رسالے میں لکھا ہے کہ پورا صوفی جب اپنے مقصد کو پہنچ جاتا ہے تو تب قلندر ہوتا ہے۔قلندر حق حق کرتا ہےقلندر کا علم شہود ہےقلندر کا عمل محو ہے قلندر کی راہ عشق ہے۔قلندر کا دین انا ہے۔قلندر کی دنیا توحید ہے۔

پھر یہ قلندر لوگ ایک ہی قسم کے نہیں ہیں۔بلکہ کئی ایک قسم کے لوگ ا ن میں شامل ہیں قلندریہ ایک مشرب ہی مشرب تصوف سے الگ اسی میں بانوا رسول شاہی مداری نوشاہی وغیرہ قسم کے فقیر شامل ہیں اور سب کے سب ارکانِ اسلام سے الگ رہتے ہیں اوران میں بعض شریف و خواندہ اشخاص بھی ہوتے ہیں۔مثلاً ایک نجم الدین قلندر ہیں ایک محمود قلندر ہیں لکھنو میں ایک سید غلام محمود قلندر ہیں مرادآباد میں ایک شہباز قلندر ہیں سندھ میں لیکن سب قلندروں میں نامی گرامی شریف الدین بو علی قلندر ہیں۔جن کا اصلی مزار پانی پت میں ہےاور دو نقلی مزار ہیں۔ایک بوڈی کہڑے میں اور دوسرا کرنال میں مسلمان سمجھتے ہیں کہ یہ بزرگ صاحبِ کرامات تھے۔کتاب سیر الاقطاب صفحہ ۱۹۰ میں لکھا ہے کہ یہ شخص صاحبِ علم اور پارساآدمی تھےاور امام اعظم ابو حنیفہ کوفی کی اولاد میں سے تھے۔ان کے آباوآجدادپانی پت میں رہتے تھےاور خود یہ شخص دہلی میں قطب صاحب کی لاٹھ کے نیچے بیٹھ کر کتابوں کا درس طالب علموں کو دیا کرتے تھےکیونکہ اس زمانے میں دہلی وہاں آباد تھی جب خدا نے ان کو اپنی طرف کھینچا تو تب انہوں نے اپن سب کتابیں دریا میں پھینک دی اور قلندر ہوکر پانی پت میں چلے آئے۔فارسی میں ان کی ایک مثنوی مشہور ہےاور اس کے مضامین عالی ہیں اور ان کے خیال کی جولانی اور نیت کی پاکیزگی کا اس سے خوب اظہار ہوتا ہے۔مگر وہ کتاب قلندر ہونے سے پہلے کی ہے۔قلندر ہو کر تو وہ بے ہوش سے ہو گئے تھے۔اسلام کو دل سے نکال دیا تھااور کتابوں کو دریا میں پھینک دیا تھاناکارہ سمجھ کر لڑکوں پر عاشق ہونے لگےتھے۔ پہلے جلال الدین پر عاشق ہوئے جو مخدوم صاحب ہیں۔پھرمبارز خان پر عاشق ہوئےجن کا مزار ان کے مزار کے اندر ہے۔میں ہرگز ہرگز اس آدمی کی نسبت بد گمان نہیں ہوں مگر سمجھتا ہوں کہ کس قسم کا جنون ہو گیا ہوگا۔

اور وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ یہ صاحب کرامات تھے اگر فی الحقیقت ایسے ہوں تو کیا ان کی کرامتوں سے اسلام کی خوبی ظاہر ہو گی؟ہرگز نہیں بلکہ یہ ثابت ہو گا کہ جب تک کوئی مسلمان اسلام کو نہ چھوڑے اور اس کی کتابوں کے خیالات کو دل سے نکال کر نہ پھینکے تب تک بابرکت نہیں ہوسکتا اور تصوف کی خوبی بھی ان کی حالت سے ثابت نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ صوفی صاحبِ سلوک نہ تھےبلکہ قلندر تھے۔وہ بحالتِ اسلام خدا کے طالب تھے۔شاید خدا نے ان پر کسی طرح سے ظاہر کیا ہو کہ اسلام کو چھوڑنا چاہیے۔تب برکت ملے گی پس انہوں نے فوراً اسلام کو چھوڑا اور ناراض ہو کر کتابوں کو پھینک دیا۔

یہی حال رسول شاہ نامی ایک شخص کا الور میں ہوا جس سے رسول شاہی فرقہ نکلا ہے۔اس شخص نے دینِ محمدی کو بالکل چھوڑاتب کچھ صاحبِ تاثیرہوا اور انوارالعارفین ۶۰۳ صفحے میں اس کا مصنف کہتا ہے کہ میں اور حاجی عطا حسین جب دہلی میں آکر اس مکان میں اترے یہاں رسول شاہ کی بحالت ِ زندگی کی نشست گاہ تھی تو اس مکان کی تاثیر سے ہمارے دل میں یہ خیال آیا کہ ڈاہڑی منڈوانا چاہیےیعنہ اطاعت ِ محمدی کے چھوڑنے کا اشارہ ہمارے دلوں میں ہواپس ہم اس مکان سے توبہ توبہ کرکے بھاگے۔

اسی رسول شاہ کا خلیفہ فدا حسین نامی شاہ عبدالعزیز صاحب کے عہد میں دہلی کے درمیان ایک مشہور بے شرع فقیر تھا۔محمدی دین کے خلاف تھا مسلمان اسے کافر کہتے تھے۔انہیں دنوں میں پانی پت کے درمیان ایک مسلمان بزرگ ذی علم سفید ریش متشرع حلیم مزاج حافظِ مانی نام رہتے تھے۔ان کی مسجد آج تک محلہ افغان میں حافظ مانی کی مسجد مشہورہے۔میں عماد الدین لاہز اس وقت چھوٹا لڑکا تھا۔میں نے بار بار اس بزرگ حافظ کو دیکھا کہ مسجد کی اُس دیوار پر جو شمال مسجد میں سڑک کی طرف ہےبیٹھے ہوئے کسی کتاب کا مطالعہ کیا کرتے اور چپکے چپکے آنسو پونچھا کرتے تھے۔بڑے ہوکر میں نے سنا کہ مولاناروم کی مثنوی پڑھا کرتے تھےاور اس کے مضامین میں غرق ہوجاتے تھےغرض ان حافظ صاحب کو قرآن کے لفظ (ہواالظاہر) پر شک پڑ گیا اور کسی طرح ان کی تسلی نہ ہوتی تھی۔تسلی کے لیے شاہ عبدالعزیز صاحب کے پاس دہلی میں گئے لیکن تسلی نہ ہوئی۔آخر اس بے شرع فدا حسین نے کہلا بھیجا کہ اے بابا حافظ ادھر آ جو کچھ مولوی نہیں بتلا سکتے میں بتلاؤں گا تب حافظ صاحب ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اُس نے ان کو ہمہ اوست کی تعلیم دی اور شہودی بنا دیا۔حافظ صاحب کی تسلی ہو گئی۔ کیونکہ مولوی روم کی مثنوی سے یہ خمیر ذہن میں پختہ ہو رہا تھاتب فدا حسین نے کہا کہ آپ نے اپنا مطلب پا لیااب اپنے گھر کو جائیں۔حافظ صاحب نے کہا کہ میں جاؤں گا۔جب تک آپ مجھے اپنا چیلا نہ بنائیں۔فدا حسین نے کہا کہ یہ سفید دھاڑی اور دین محمدی کی صورت ہمیں برُی معلوم ہوتی ہے۔اگر ہمارا چیلا ہونا منظور ہے تو ہمارا طریقہ اختیار کروحافظ صاحب نے یہ منظور کیا اور عجیب شکل کے آدمی بن کر پانی پت واپس آئے تھے۔ یہاں کے مسلمانوں نے انہیں بہت تنگ کیا۔لیکن وہ موت تک اسی حال میں ر ہےاوروہ حجرہ جو مسجد میں کنوئیں کے پاس ہےاسی میں ہمیشہ فقیروں کے لیے بھنگ تیار رہتی تھی۔مگر حافظ جی نہیں پیتے تھےاور جو کوئی دہلی سے آتا تھا اس کو سجدہ کرتے تھے۔ایک دفعہ میرے والد دہلی سے ان کے پاس گئے تو حافظ جی نے ان کو بھی سجدہ کیا تھا۔میں نہیں جانتا کہ حافظ جی صاحب نے کیا پایا تھا، مگر اتنا جانتا ہوں کہ شرع محمد ی کو چھوڑا تھا۔تب دل میں تسلی آئی تھی۔

اسی طرح بلے شاہ نام پنجاب میں ایک مشہور درویش گزرا ہے۔وہ بھی محمدی دین کے خلاف بولتا تھا۔اس کے پاس ایک شخص گیا کہ خدا کی راہ دریافت کرےکیونکہ وہ مشہور ولی تھااور یہ جو گیا نو مسلم تھا۔اورنگ زیب کے عہد میں ہندو سے مسلمان ہوا تھا۔جا کر کہاکہ یا حضرت مجھے خدا کی راہ بتائیں۔بلے شاہ نے کہا تھا کہ اگر خدا سے ملنا تھا تو مسلمان کیوں ہوا تھا۔ اب اگر مسلمانی کے خیالات کو چھوڑے تو خدا کو پا سکتا ہےاور جو باتیں بلے شاہ اسلام کی نسبت اس شخص سے کہیں تو میں اپنی اس کتاب میں بیان نہیں کرسکتا۔تہذیب کے سبب سے ہاں وہ سب باتیں ایک کتاب میں قلمبند ہیں۔جو دیوان بوٹا سنگھ صاحب کے پاس لاہور میں دیکھی تھی ۔

حاصل کلام یہ ہے کہ اس قسم کے لوگ سب کے سب قلندریہ مشرب کے ہیں اور انہی لوگوں کی کرامتیں ہندوستان میں زیادہ تر مشہور ہیں اور مسلمان لوگ بے فکری سے ان کو اپنی قوم کے اولیا اقرار دیتے ہیں۔بالفرض ان سے اگر کوئی کرامتیں ہوئی بھی ہوں تو قلندروں کی کرامتوں سے مشرب قلندریہ کا حق ہونا ثابت ہو گااور بہنگڑوں کی کرامتوں سے بھنگ نوشی کے شان ظاہر ہو گی نہ اسلام کی۔پس اب معلوم ہو گیا کہ مجذبوں اور قلندروں کو اسلام سے کچھ علاقہ نہیں ہے صوفی لوگ مہربانی کرکے ان لوگوں کی بزرگی اور کرامتوں کا ذکر ہم مسیحیوں کے سامنے نہ کیا کریں کیونکہ ان کی بزرگی سےاسلام کی خوبی ثابت نہیں ہوسکتی ہاں وہ جو اپنے آپ کو محمدی کہتے ہیں اور سالکین کہلاتے ہیں۔اگر بوسیلہ اسلام اور بوسیلہ تصوف ان میں کچھ اسلام کی خوبی ہو توہمیں دکھلائیں۔

۹۔فصل سالکین کے بیان میں

لفظ سالکین کے معنی ہیں کہ راہ روندہ۔لیکن صوفیہ کی اصطلاح میں تقربِ حق کے اس طالب کو سالک کہتے ہیں کہ جو عقل و معاش بھی رکھتا ہو۔لفظ سالک مجذوب کے مقابلے میں ہے۔کیونکہ مجذوب راہ روندہ نہیں ہے۔نہ وہ مسلمان ہے نہ ہندو ہےنہ صوفی نہ کوفی وہ بیرا ہ کھینچا ہوا شخص ہےاور اس میں عقل معاش نہیں ہے۔کیونکہ وہ پاگل ہے۔سالک با عقل ہے اورقواعد و تصوف پر چلتا ہے۔اس لیے مجذوب و سالک ہر دو لفظ مقابلے کے ہیں۔

صوفی لوگتین چیزوںکی تلاش کرتے ہیں۔ان میں سے پہلی چیز جذبہ ہےاور ان میں اس کی بڑی قدرو منزلت ہے۔کیونکہ یہ ان کے گمان میں خدا کی طرف سے ایک کشش ہے۔ہم مسیحی بھی اس کشش کو جو اللہ سے ہوتی ہے۔بڑی نعمت اور فضل سمجھتے ہیں۔چنانچہ خداوند مسیح نے فرمایا ہے کہ میرا باپ آدمیوں کو میری طرف کھینچ لاتا ہے۔اسی کشش کو ہم جذبہ سمجھتے ہیں۔لیکن ان کے خیال اورہمارے خیال میں فرق صرف اتنا ہے کہ وہ لوگ دیوانگی کو کشش سمجھتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کشش الٰہی سے دیوانگی دفع ہوتی ہے۔روح میں زندگی اور عقل میں ہو شیاری اور خیالات میں روشنی اور دل میں تازگی آتی ہے۔تب حقوق اللہ اور حقوق العبادوہ شخص پہچانتا ہے اور بجا لاتاصوفی سمجھتے ہیں کہ سب حقوق اڑ جاتے ہیں اور قیدِ الٰہی شرع کی نہیں رہتی۔

دوسری چیز جس کی وہ تلاش کرتے ہیں سلوک ہےاور یہ نہ کشش ہے اور بلکہ کوشش ہےجو حصول مراد کے لیے خدا کی راہ میں سالک اپنی طرف سے کرتاہے۔یعنی صوفیہ کے تجویز کیے ہوئے طریقوں کو عمل میں لاتا ہے تاکہ وہ خدا کا ولی ہو جائے۔پس ہر سالک کے گمان میں راہ روندہ ہے،جو بھی منزل و مقصود تک نہیں پہنچا جیسے مسافر جو ابھی راہ میں ہے۔

ہم اس بات کو پسند کرتے ہیں اورواجب جانتےہیں کہ انسان کو قربتِ الٰہی کے لیے کوشش اور محنت کرنی چاہیے۔لیکن ہم میں اور صوفیہ میں فرق صرف اتنا ہےکہ وہ لوگ انسانی خیال سے تجویز شدہ طریقوں کو عمل میں لا کر خدا سے ملنا چاہتے ہیں اور ہم مسیحی لوگ ان طریقوں کو اس مطلب پر مفید سمجھتے ہیں جو خدا نے آپ اپنے کلام میں اپنے پیغمبروں کے ذریعے ظاہر کیا ہےاور اپنی قدرتوں سے ان پر گواہی دی ہے۔پس ان کا سلوک وہ ہے۔ہمارا سلوک یہ ہے۔

تیسری چیز جس کی وہ تلاش میں ہیں عروجہے۔یعنی وصول بمنزلہ مقصود اس کوو ہ لوگ خدا کی بخشش بھی کہتے ہیں۔کہ خدا اس سالک کو کوئی رتبہ یا ولایت کا کوئی درجہ بخشا ہے۔مثلاً کوئی قطب ہو گیا یا غوث بن گیایا شاہ ولایت ہو گیاوغیرہ۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے عہدے اور درجے خدا نے آدمیوں کو کبھی نہیں بخشے یہ صرف فرضی باتیں ہیں۔اگر ان میں کچھ عروج ہے تو یہی ہے کہ اکثر جاہل لوگ کسی کو بڑا مرتاض دیکھ کر اس کے گرد ہو جاتے ہیں اور برملا پیر سمجھتے ہیں اور اس کی قبر چونے یا سنگِ مرمر کی بناتے اور برج کھڑا کرتے ہیں اور ڈھول بجا کر سال بسال میلہ لگاتے ہیں اور تماشہ دکھلاتے ہیں۔یہی عروج ان کے پاس ہے اور ہمیں ان میں کچھ عروج نظر نہیں آتابلکہ عروج کے عوض بہت سا نزول وہاں ہے۔

حقیقی عروج جو حقیقی ولیوں کو اللہ سے بخشا جاتا ہے۔یہ ہے اطمینان الٰہی ان کی روح میں اللہ سے القا ہوتا ہے اور وہ محبت الٰہی سے اللہ کی طرف سے بھر جاتے ہیں اور معرفت کے اسرار زیادہ تر ان پر منکشف ہوتے ہیں اور کبھی کبھی وہ لوگ کلام اللہ کی خدمت کے لیے مومنین کے درمیان ا علیٰ عہدوں پر خدا کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں اور وہ خوبی کے ساتھ جانفشانی اور جفاکشی کرکے کلام اللہ کی خدمت کرتے ہیں اور کمزوروں کو طاقت بخشتے ہیں اور بہت سے لوگوں کو بہشت کے لیے آراستہ کرتے کر ڈالتے ہیں آخر میں ابد تک وہ خدا کے پاس کے خوشی میں زندہ رہیں گے۔پس ان کے اورہمارے عرو ج میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔یہاں کچھ ہے جو اوپر سےا ن کے دلوں میں آتا وہاں کچھ ہےجو اِدھر اُدھر کے آدمیوں سے دیا جاتا ہےایک چیز ابدی ہے دوسری فانی۔

پھر صوفیہ یوں کہتے ہیں کہ جس کو خدا تعالیٰ اپنی طرف کھینچتا ہے وہ سب کچھ چھوڑتا اور عشقِ الٰہی کے رتبہ میں پہنچتا ہے اگر وہ اسی جگہ میں رہ جائے اور دنیا میں واپس نہ آئے یعنی اس کے ہوش و حواس پھر درست نہ ہو ویسےہی بے ہوش رہے وہ (صرف مجذوب ہے) اگر وہ پھر ہوش میں آجائے اورسالک بن بیٹھے اس کو (مجذوب سالک ) کہتے ہیں اور وہ جو اولاً سالک تھا اور مراتب سلوک عطا کر چکا تھاپھر وہ خدا سے کھینچا گیااس کا نام (سالک مجذوب ) ہے اور اگر سالک ہو اور سلوک تما م نہ کیا ہو اور خدا نے بھی اسے اب تک نہ کھینچاہو۔(وہ صرف سالک )ہے پس یہ صرف چار قسم، کے لوگ ہیں۔مجذوب۔ مجذوب سالک سالک مجذوب ۔سالک۔

اب وہ جو صرف سالک ہے اور وہ جو مجذوب ہے یہ دونوں ان کے گمان میں پیر و مرشد ہونے کے لائق نہیں ہےمگر وہ جو مجذوب سالک ہے اور جو سالک مجذوب ہے وہی پیر و مرشد ہونے کے لائق سمجھے گئے ہیں اوران میں بھی مجذوب سالک کا درجہ بڑا ہے۔

(ف) یہ جومحمدی لوگ پیروں کے مرید ہوتے پھرتے ہیں اکثر سالکوں کے مرید ہوتے ہیں یا بعض مجذبوں کے معتقد ہوتے ہیں۔ان کا کام تصوف کے خلاف اور بے فائدہ ہےکیونکہ پیری کے لائق وہی اشخاص سمجھے گئے ہیں جنہوں نے اولاً یا آخراً کچھ جذب کی چاشنی چکھی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بغیر دماغی خلل کے کوئی صوفی پیر مرشد ہونے کے لائق نہیں ہےاور قواعد و سلوک جن کا ذکر اسی کتاب میں مفصل آنے والا ہے۔ناظرین دیکھ کر معلوم کر سکیں گے کہ ہو سب دماغی خلل پیدا کرنے کے نسخے ہیں اور کچھ حاصل نہیں ہو سکتا مگر صرف دماغی خلل تاکہ وہ پیر کامل ہو جائیں۔

ہمارا پیرو مرشد صرف ایک ہے جو آسمان سے اترا اورازل سے خدا کے ساتھ تھاجس نے سارے جہان کو پیدا کیا جو کہ کامل خدا اور کامل انسان ہےاوروہ جہان کا نور ہے ہر ایک کہ جو اس کےپاس آتا ہےوہ روشن کرتا ہے۔یعنی یسوع مسیح ابنِ اللہ اور ہم سب مومنین اولین اورآخرین آپس میں پیر بھائی ہیں اور جس قدر سچے پیغمبر دنیا میں آئے وہ سب ہمارے بھائی تھےاور وہ اور ہم خدا وندمسیح کے بندے اور خدمت گزار ہیں ہمیں کچھ حاجت نہیں کہ پیر تلاش کریں اور کسی خفیہ نعمت کے ہم بھوکے نہیں جو سینہ بسینہ پیروں سے ہم تک پہنچےخدا ہمارا باپ ہے اور ہم مسیح میں ہو کر اس کے فرزند ہیں اس کی روح ہم میں موثر ہےہم نور میں اور روشنی میں رہتے ہیں اور برائے راست مسیح سے نعمتیں پاتے اورخوش رہتے ہیں۔

۱۰۔فصل ان ولیوں کے عہدوں کے نام بحسب اختیارت

صوفی سمجھتے ہیں کہ ان کے اولیا اللہ بحسب اپنے عہدوں اور درجوں دس قسم کے لوگ ہیں۔(۱) قطب العالم (۲) دیگر اقطاب یعنی قطب اقلیم قطب ملک جس کو شاہ ولایت بھی کہتے ہیں اور قطب شہر وغیرہ (۳)امامان (۴) اوتاد (۵) ابدال(۶) اخیارو ابرار(۷) نقبا، ونجبا (۸)عمداء (۹) مکتومان (۱۰) مفردان ، مجردان ۔ اب ان عہدوں اوردرجوں کی شرع اور تفصیل جہاں تک کتب تصوف مجھے معلوم ہوئی بیان کرتا ہوں۔

(۱)قطب العالم

لفظ قطب کے معنی ہیں کہ چکی کی کیلی یعنی وہ لوہےکی میخ جس کے گرد اور جس کے سہارے سے اوپر کا پاٹ گھومتا ہے۔صوفی کہتے ہیں کہ دنیا کے درمیان ایک آدمی ہر زمانے میں ایسا ہوتا ہے کہ اس پر خدا کی ایک خاص نگاہ ہوتی ہے۔گویا وہ خدا کی نگاہ کا محل ہوتا ہےاورسارے جہان کاانتظام اسی آدمی سے ہوتا ہے وہ سب موجودات پر اورعالم سفلی وعلوی کے تمام مخلوقات پر حاکمِ اعلیٰ ہوتا ہے اورسب اولیا ء اللہ اُس کے نیچے ہوتے ہیں اسی کانام قطب العالم ہے اور اسی کو قطب الاقطاب و قطب و کیر و قطب ارشاد قطب مدار بھی کہتے ہیں۔کتاب مجمع السلوک میں لکھا ہے کہ اسی کا نام غوث ہےلیکن دوسری بعض کتابوں میں لکھا ہے کہ غوث اور شخص ہے جو قطب العالم کے نیچے ہوتا ہے۔ مراۃ الا اسرار وغیرہ میں لکھا ہے کہ قطب العالم کے دائیں بائیں دو ولی اللہ مثل وزیر وں کے رہتے ہیں،ان دونوں کا نام غوث ہے یعنی فریاد رس وہ غوث جو قطب العالم کے دہنی طرف رہتا ہے اس کا خطاب عبدالملک ہے اور کام اس کا یہ ہے کہ قطب العالم کے دل پر سے فیض اٹھا کر عالمِ بالا کی موجودات کو پہنچاتا ہےاور وہ غوث جو بائیں طرف رہتا ہے اس کا خطاب عبدالرب ہے کام اس کا یہ ہے کہ قطب العالم کے دل پر سے فیض اٹھا کر عالمِ سفلی یعنی اس جہان کی موجودات کو پہنچاتا ہے اور جب قطب العالم مر جاتا ہے یا اپنے عہدے سے ترقی کرکے قطبِ وحدت ہوجاتا ہے یعنی خدا میں اس کو دوری نہیں رہتی ہے تب اس کا عہدہ خالی ہوتا ہے اور عبدالملک اس کی جگہ میں آجاتا ہےاور عبدالرب عبدالملک کی جگہ میں آجاتا ہے اور عبدالرب کی جگہ کوئی اور ولی ترقی پا کر بھرتی ہوجاتا ہے۔

اور یہ بھی کہتے ہیں کہ قطب العالم کا دل ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ جیسا محمد صاحب کا دل تھا۔یعنی تمام خصلتیں اس کی محمدی خصلتیں ہوتی ہیں۔کتاب لطائف اشرفی میں لکھا ہے کہ اگر غوث اور قطب نہ ہوں تمام جہان زیر زبر ہو جائےپس معلوم ہو گیا کہ یہ لوگ جہان کے سنبھالنے والے ہیں۔

میں کہتا ہوں کہ یہ صوفیہ کا دعوی ہے کہ ایسے لوگ دنیا میں ہوتے ہیں لیکن ہر دعوے کے لیے کچھ دلیل ہونی چاہیے ورنہ دعویٰ باطل ہو گا۔ پس اس دعوے کے لیے کتب تصوف میں کوئی دلیل نظر نہیں آئی جس کا میں یہاں بیان کروں۔چاہئے کہ ناظرین کتاب ہذا صوفیوں سے اس دعوے کا ثبوت طلب کریں اوران سے کہیں کہ تم جو قرآن پر ایمان رکھتے ہوکیا تمہارے خدا نے تمہارے قرآن میں ایسے عہدوں کی تمہیں کچھ خبر دی ہے یا تمہارے پاس کوئی عقلی دلیل ان عہدوں کے ثبوت میں ہے،یاتم دنیا کی تاریخ سے یہ ثابت کرسکتے ہو،ان عہدوں کے اشخاص اس دنیا میں ہوتےآئے ہیں؟یاتم بتلا سکتے ہو کہ دنیا میں اس وقت ایسے ایسے فلاں اشخاص موجود ہیں۔برخلاف اس کے صوفی یوں کہتے ہیں کہ ایسے اشخاص ہوتے تو ہیں مگر کسی کو معلوم نہیں ہو سکتے کہ وہ کون ہیں اور کہاں ہیں۔اب فرمائیں کہ اس بات کو سوائے ناسمجھ آدمی کے کون قبول کرئے گا۔

جہان کو سنبھالنااسی کا کام ہے جس نے جہان کو پیدا کیا ہے۔انسان میں تو اتنی طاقت بھی نہیں کہ وہ اپنی جان کو سنبھالے۔اگر خدا آدمی کو نہ سنبھالے تو آدمی قائم نہیں رہ سکتا۔اگر آدمی فرضاًً خدا کے برابر ہو جائے علم اورطاقت میں اور حکمت ودور بینی میں تب وہ شاید خدا کا شریک جہان کو سنبھال سکتا ہے لیکن یہ بات عقلاً نقلاً محال ہے کہ کوئی مخلوق خدا کے برابر ہوجائےاور جب برابر نہیں ہوسکتا تو وہ کام بھی نہیں کرسکتا جو خداکے کرنے کا ہے۔

غوث اور قطب عالم کا عہدہ اتنا بڑا بیان ہوا ہے کہ قرآن اور حدیث سے محمد صاحب کا بھی اتنا بڑا عہدہ ثابت نہیں ہوا۔پس یہ کیسا مبالغہ ان صوفیوں کا ہےاور ایسا خیال ان کے دلوں میں کہاں سے آگیا؟ شاید قوم صوفہ میں یغوث بت کی شان کاخیال چلا آیا ہواور حالتِ اسلام میں اس مکروہ خیال نے نئی شکل پکڑ کر یہ غوث قطب کا خیال پیدا کردیاہوواللہ علم۔

ہم مسیحی لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ کل جہان کا اختیار خداوند مسیح کے ہاتھ میں اور ابد تک اسی کے ہاتھ میں رہےگا۔یہ ہمارا دعویٰ کلام اللہ سے ثابت ہےاور مسیح کی شان کے مناسب ہےکیونکہ وہ اللہ انسان ہے اورسب جہان اس سے پیدا ہوا ہے پس وہ جو سارے جہان کا خالق ہےوہی جہان کو سنبھالتا بھی ہے۔

(۲) دیگر اقطاب یعنی دوازدہ اقطاب

قطب العالم توکل جہان میں ایک شخص فرض کیا گیا پھر اس کے نیچے بارہ قطب اور مانے جاتے ہیں۔جو اس کے حکم میں رہتے ہیں۔کیا تعجب ہے کہ یہ خیال قدیم صوفیہ نے خداوند یسوع مسیح اوراس کے بارہ شاگردوں پر غور کرکے اپنے ولیوں کی طرف الٹ لیا ہو۔وہ کہتے ہیں کہ کل زمین ہفت اقلیم میں منقسم ہے اورہر اقلیم میں ایک قطب رہتا ہے جس کو قطب اقلیم کہتے ہیں۔پھر ہر ولایت میں ایک قطب فرض کرتے ہیں۔جس کو شاہِ ولایت کہتے ہیں اور پانچ ولایتیں بتلاتے ہیں۔یہ پرانے زمانے کی تقسیم ہے۔پس سات اورپانچ بارہ قطب ہوئے۔

فتوحاتِ مکی میں لکھا ہے کہ قطبوں کی کچھ نہایت نہیں ہےقطب زہاد، قطب عباد ، قطب عرفا، قطب متو کلان وغیرہ۔ہر صفت پر ایک قطب ہوتا ہےاور ہر گاؤں میں ایک قطب رہتا ہےاور گاؤں کی حفاظت کرتا ہےاورولیوں کی بھی انتہا نہیں ہے۔جب کوئی ولی ترقی کرتا ہے تو وہ قطب ولایت بن جاتا ہے۔پھر ترقی کرکے قطب اقلیم ہوتا ہے۔اسی کو قطب ابدال کہتے ہیں اور وہ ترقی کرکے عبدالرب یا بایان غوث ہو جاتا ہے۔پھر دہناغوث یا عبدالملک بنتا ہے۔پھر قطب عالم ہوتا ہےاور وہاں سے ترقی کرکےقطب وحدت ہوتا ہےانہیں کو مفردون اور مجردون کہتے ہیں لیکن یہ صرف صوفیہ کی تجویز ہےاس کا ثبوت تو کچھ نہیں ہےبلکہ دعوے بے دلیل ہے۔اوراس روشنی کے زمانے میں اس کا بطلان ظاہر گو گیا اور معلوم ہوگیاہے۔کہ یہ ان کی وہمی اور فرضی بات تھی۔خدا نے ایسے غوث اور قطب وغیرہ کچھ نہیں بنائے۔البتہ بعض لوگ خود نیک اور خدا پرست گزرے ہیں۔ان کی موت کے بعد مریدوں نے ان کی قبروں پر دکان داری جاری کرنے کے لیے ان کے نام غوث اور قطب اور شاہ ولایت اور مخدوم صاحب رکھ لیے ہیں اور مذکورہ عہدے فرض کیے ہیں۔پھر آپ ہی کہتے ہیں کہ ان عہدے داروں کی موت کے بعد دوسرے لوگ ان عہدوں پر مقرر ہوتے ہیں۔پس چاہئے کہ ان مرد گان کو ان عہدوں سے برخاست شدہ سمجھ کر ان کی قبریں نہ پوجیں۔بلکہ ان زندوں کو تلاش کریں جو بجائے ان کے عہدہ یاب ہوئے ہیں۔

(۳) اوتاد

لفظ اوتاد وَتَد یا وِتَد کی جمع ہے۔لکڑی کی کھونٹے کو عربی میں وَتَد کہتے ہیں محمد صاحب نے پہاڑوں کو قرآن میں اوتاد کہا ہے۔گویا وہ خدا کی طرف سے زمین پر گاڑے ہوئے کھونٹے ہیں۔تاکہ زمین جنبش نہ کرے صوفی کہتے ہیں کہ ہمارے ولیوں میں سے چار ولی ایسے ہیں کہ وہی اوتاد ہیں۔مراۃ الاسرار میں لکھا ہے کہ مشرق میں عبدالرحمٰن کھونٹا ہے۔مغرب میں عبدالودود کھونٹا ہے۔جنوب میں عبدالرحیم کھونٹا ہے۔شمال میں عبدالقدوس کھونٹا ہے۔ان چاراشخاص سے جہان کا استحکام ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ جہان کا استحکام صرف خدا کی قدرت سے ہےنہ کہ ان چار اوتاد سے جن کا ثبوت نہ عقل سے ہے نہ کلام اللہ سے۔

(۴) ابدال

لفظ بَدل بامعنی معاوضہ یا بُدیل بمعنی شریف کے جمع ابدال ہے۔لیکن اس کا استعمال واحدا ور جمع پر برابر ہےبعض صوفی کہتے ہیں کہ ابدال وہ لوگ ہیں جنہوں نے تبدیلی حاصل کی ہےبرُی صفتوں میں سے نکلے ہیں اچھی صفتیں پیدا کی ہیں یہی مضمون سچ ہےاور یہ انجیل شریف کی بات ہے نہ کہ قرآن کی کیونکہ انجیل کی بڑی اور مقدم تعلیم یہی ہےکہ مسیحی ایماندار مسیح کی قدرت سے تبدیل ِدل اور تبدیلِ مزاج کرتاہےاور جتنے سچے مسیحی ہیں وہ سب ابدال ہیں اور اہلِ دنیا بھی اگر غور سے دیکھیں توانہیں حقیقی مسیحی بدلے ہوئے نظر آسکتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ خیال ان صوفیہ میں ملک شام سے آیا ہے۔اس لیے ان کی کتابوں میں عراق اور شام کی طرف بہت ابدال بیان ہوئے ہیں کیونکہ وہاں رُہبان بکثرت رہتے ہیں۔

(انورالعارفین صفحہ۱۰۵) میں لکھا ہے کہ نشان ابدال آنست کہ زائدہ نمیشو مردایشان رااولاد و ایشان لعنت نمیکنندِچیزیرہ چیز پر لعنت نہ کرنایہ خاصہ صرف مسیحی آدمی کا ہے اور اولاد پیدا نہ ہونا یہ خاصہ رہبان کا ہے۔کیونکہ رہبان نکاح نہیں کرتےاور اگر شادی والے پہلے سے ہوں تو وہ دونوں مرد عورت اس دنیاوی خیال سے الگ ہو کر عبادت میں مصروف رہتے ہیں اس لیے ان کی اولاد پیدا نہیں ہوتی۔پس صوفی کہتے ہیں کہ خدا نےابدال کو وہ طاقت دی ہےکہ جہاں چاہیں اڑ کر چلے جائیں اور اپنی مثالی صورت اس جہاں پر چھوڑ جائے بلکہ بعض اوقات گیڈریا شیر یا بلی وغیرہ کی صورت بھی بن جاتے ہیں۔یہ سب باتیں غلط ہیں۔ابدال وہی مسیحی ہیں جو بدل گئے ہیں جنہوں نے نیا جنم پایا ہے۔اگر کوئی صوفی ابدال بننا چاہے تو حقیقی مسیحی ہو جائے۔

صوفیوں کا تصوف اور محمدیوں کا اسلام اور کل مذاہب دنیا کےخیالات عبادات وغیرہ سے کوئی آدمی دل کی تبدیلی حاصل نہیں کرسکتا اور جب تک اس کا دل تبدیل نہ ہو جائےخدا کا مقرب بھی نہیں سکتا۔صرف مسیحی دین ہےجس سے تبدیلی ہوتی ہےاور آدمی ابدال بن جاتا ہے۔

(۵) اخیاروابر

یہ لفظ خیر اور بر کی جمع ہے۔بمعنی نیکو کاران فی الحقیقت یہ الفاظ سچے ایمانداروں اور نیکوکاروں کے حق میں تھے۔لیکن صوفیوں نے زبردستی یانادانی سے اپنے خاص قسم کے ولیوں کے حق میں تجویز کر لیے ہیں اور کہتے ہیں کہ تین سو آدمی ایسے ہوتے ہیں اور کچھ بیان ان کا نہیں کرسکتے۔

(۶)امامان

یعنی دین کے پیشوا ایسے لوگ البتہ محمدیوں میں ہوئے ہیں۔جنہوں نے ان کے دین کا بندوبست ظاہری طور پر کیا ہے۔لیکن ان عہدوں کو ولایت سے کہ امر باطنی ہے کچھ علاقہ نہیں ہے۔ان کے امام تین قسم کےہیں۔اول بارہ امام ہیں۔جو حضرت علی کی اولاد میں سے ہوئے ہیں۔جن کو شعیہ لوگ معصوم بتاتے ہیں اور اپنے دین کا پیشوا سمجھتے ہیں۔دوئم چار امام سنیوں کی فقہ کے گزرے ہیں۔جنہوں نے مسائلِ فقہ اپنے اجتہاد سے نکالے ہیں۔سوئم وہ امام ہیں۔جو کہ جہاد کے وقت محمدی فوج کے سردار یا سپہ سالار ہوتے تھے۔بعض ان میں سے جہادوں میں مر گئے ہیں اور ان کے مقبر ے پوجے جاتے ہیں۔چنانچہ دو امام ہمارے پانی پت میں بھی پوجے جاتے ہیں۔پس ان صوفیہ نے اپنے ولیوں کی فہرست میں ان اماموں کو بھی شامل کیا ہے تاکہ امام پر ظاہر کریں۔وہ بھی ان کی طرف تھے۔

کتاب اصطلاحات صوفیہ مصنفہ عبدالرزاق کاشی میں لکھا ہے کہ امامان وہ دو شخاص ہیں جو قطب عالم کے داہنے اور بائیں رہتے ہیں۔یہی قدیم اصطلاح صوفیہ کی معلوم ہوتی ہے۔اس صورت میں وہ تین قسم کے امام ولیوں کی فہرست میں نہیں آسکتے اور یہ امامان غیر معلوم شخص ہوتے ہیں۔پس یہ صرف نام ہی نام ہے اور کچھ نہیں ہے۔

(۷) نُقَباَو بخُباَ

نُقَباَ نقیب کی جمع ہےبمعنی مہتر وعریف و دانندہ انساب مردم شرح فصوص میں لکھا ہے کہ نُقبا تین سو اشخاص ہیں انہیں کو ابرار بھی کہتے ہیں اور یہ لوگ مغرب میں رہتے ہیں اور سب ولیوں میں ان کا درجہ چھوٹا ہے۔

بخبا بخیب کی جمع ہے بعنی برگزیدہ۔شرح فصوص میں ہے کہ بخبا سات آدمی ہیں۔انہیں کو رجال الغیب کہتے ہیں۔مجمع السلوک میں لکھا ہے کہ وہ چالیس آدمی ہیں اور خلق اللہ کے حقوق میں متمرف ہیں۔آدمیوں کے حالات درست کرنے اور ان کے بوجھ اٹھانے کو کھڑے رہتے ہیں۔

(ف) یہی چالیس آدمی ہیں جو چہل تن کہلاتے ہیں اور بعض آدمیوں کے سر پر بھی آتے ہیں۔ان کی پوجا نادان مسلمانوں میں بہت ہوتی ہے۔ایک محمدی منشی صاحب کو میں نے ۳۰ برس دیکھا کہ اپنی مصیبتوں میں برابر چہل تن کو پکارتے رہےاور ان کی نذر نیاز کرتے رہےتاکہ ان کی دنیاوی تنگیاں دفع ہوں۔لیکن کچھ تنگیاں تمام عمر دفع نہ ہوئیں۔بلکہ تنگی پر تنگی آتی رہی اور وہ اسی خیال میں مر گئےاور بعض احمق عورتوں کو اپنا برا خیال سکھلا گئے۔وہ اب تک ان چہل تن کو پکارتی ہیں۔جس کا وجود کہیں نہیں ہے۔وہ اللہ کو نہیں پکارتی ہیں جو کہ سب کچھ کرسکتا ہےاور زندہ موجود ہے۔

(۸) عُمَدا

عمود کی جمع ہے بمعنی ستون خانہ۔ صوفی کہتے ہیں کہ ایسے چار شخص ہیں جو زمین کے چار کونوں میں رہتے ہیں وہ جہان کے ستون ہیں اُن سے جہان ایسا قائم ہے جیسے چہت ستون سے قائم ہوتی ہے۔ لیکن کچھ ثبوت نہیں دے سکتے کہ وہ کون ہیں اورکہاں ہیں۔

(۹) مکتومان

کمتوم بمعنی پوشیدہ یہ پوشیدہ ولی ہیں گویا چھپے رستم ہیں۔توضیح المذاہب میں لکھاہے کہ یہ چار ہزار آدمی ہیں۔جو پوشیدہ رہتے ہیں اور اہلِ تصرف میں سے نہیں ہیں۔کوئی ان صوفیہ سے پوچھے کہ تمہارے تو سارے ولی پوشیدہ ہیں۔تم خود انہیں نہیں جانتے کہ وہ کون ہیں اورکہاں ہیں پھر ان خاص کو مکتومان کہنے کی وجہ کیا ہےکچھ نہیں جو دل میں آیا کہہ دیا۔

(۱۰) مفردون ومجردون

مفرد ومجرد وہ ہے جو اکیلا رہ گیا ہو۔صوفی کہتے ہیں کہ مفرد و مجرد وہ ہے جو فردیت کی تجلی کو پہنچا ہے۔یعنی اس مقام کو پہنچا ہے۔جہاں صرف اللہ ہی اللہ ہےاور سب چیزیں اور سب خیالات نیست و نابود ہیں۔جو لوگ اس مقام کو پہنچتے ہیں وہ خود کو بھول جاتے ہیں۔اپنے میں اور خدا میں کچھ فرق نہیں رہتا۔یہ مقام محویت ہے یا ہمہ اوست کا کامل انکشاف یہاں ہوتا ہے۔کسی صوفی نےاس مقا م کی شرح اس شعر میں کی ہے۔

توز توکم شوکہ تفریداین بود

کم ازان کم کن تجریداین بود



کشف اللغات میں لکھا ہے کہ جو لوگ اس مقام کو پہنچتے ہیں وہ قطب کے نظام سے فارغ ہو جاتے ہیں مراۃالاسرارمیں لکھا ہے کہ ایسے لوگوں کی کچھ تعداد نہیں ہے۔اور اکثر صوفی مصنف کہتے ہیں کہ محمد صاحب بھی دعوے نبوت سے پہلے مفردوں میں سے تھے۔پہلے میرا خیال تھا کہ صوفی لوگ حضرت محمد صاحب کی نسبت ہمہ اوست کا خیال جماتے ہیں۔مگر اب زیادہ تر کتبِ تصوف کے دیکھنے سے معلوم ہوا ہے کہ شاید اس بارے میں صوفی لوگ سچے ہوں۔کیونکہ ہمہ اوست کاذائقہ البتہ محمد صاحب کے خیال میں کچھ معلوم ہوتا ہے۔غالباً وہ ضرور مفردوں سے ہوں گے۔ کیونکہ جس شخص کے خیالات میں آسمانی روشنی کچھ بھی نہیں چمکی ہے وہ اسی ہمہ اوست کے خیال میں اپنے لیے کچھ تسلی تلاش کرتا ہے۔لفظ ظاہر قرآن میں غالباً اسی مطلب پر ہو گا۔

۱۱۔ فصل صوفی ولیوں کی مشابہت بانبیاء کے بیان میں

کتب صوفیہ میں دیکھنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ اپنے ولیوں کو خدا کے سچے نبیوں کے مشاہبہ بیان کرتے ہیں۔کسی کو کہتے ہیں کہ وہو علی قلب موسیٰ اور کسی کو کہتے ہیں کہ وہو علی قلب عیسیٰ اور کسی کو علی قلب داؤد بتلاتے ہیں وغیرہ غیرہ۔ جب میں نے اس مضمون پر ان کا زور دیکھا اور ان کی اصطلاحات سے معلوم کیا کہ علی قلب معنی مشاہبت کے ہیں۔ یعنی خوخصلت اور اندرونی کیفیت اور نسبت و علاقہ بخدا اُس ولی کا ایسا ہے کہ جیسا فلاں پیغمبر کا تھااور قطب عالم کی نسبت کہتے ہیں کہ وہو علے قلب محمدیہ تو میں مانتا ہوں علی قلب محمد مسلمان ہو سکتے ہیں۔کیونکہ ان کے مقتدی ہیں اور خصلت کی پیر وی میں ساعی رہتے ہیں۔لیکن سچے پیغمبروں کے مشاہبہ یہ لوگ کیونکر ہو سکتے ہیں یہ افترائی مضمون ہےاور تاریکی کے زمانے میں سادہ لوگوں کو فریب دینے کےلیے خوب تھا۔مگر اب روشنی کا زمانہ آگیا ہےاب ہم اس بات کو کیونکر قبول کرسکتے ہیں۔ گزشتہ پیغمبروں کی کتابیں موجود ہیں اور یہود و انصاریٰ ان کی امتیں بھی حاضر ہیں۔اور ان پیغمبروں کا مزاج اور خصلت اور ایمان وغیرہ کی کیفیت ان کتابوں میں مرقوم ہے اورصوفی ولیوں کی خو خصلت ان کے تذکروں میں مر قوم ہے۔پس مقابلہ کرکے دیکھو کہ کس قدر فرق ہے۔ایسا فرق ہے جیسا جاہل اور عالم میں یا مومن یا غیر مومن میں ہوتا ہے۔پس یہ کہنا تو بجا ہے کہ یہ اولیا لوگ پیغمبروں کے مخالف ہیں۔اور یہ کہنا بیجا ہے کہ وہ ان کے مشاہبہ ہیں۔چہ نسبت خاک راباعالم پاک

یہ بھی غنیمت ہے کہ ان پیغمبروں کو بڑا بزرگ تو سمجھتے ہیں۔ کہ اپنے ولیوں کو ان کے مشاہبہ بتا کر فروغ دینا چاہتے ہیں۔کیا یہ بات سچ نہیں ہے کہ اگر کوئی چاہے کہ میں اپنے مزاج میں محمد صاحب کا ہم شکل ہو جاؤں تو وہ اپنے ظاہر اور باطن کو قرآن اور حدیث کے مطابق بنادے ۔

اور اگر کوئی چاہے کہ میں پیغمبروں کا ہم شکل ہو جاؤں تو چاہیے کہ وہبائبل کی تعلیمکے مطابق خود کو سنوارے۔صوفی صاحب نہ تو محض قرآن کے تابع ہیں نہ بائبل کے۔ وہ تو ویدوں اور بت پرست یونانیوں کے خیالات کے تابع ہیں۔پھر وہ کیونکر نبیوں کے ہم شکل ہو سکتے ہیں؟ یہ تو وہی بات ہے کہ رہیں جھوپنڑوں میں اور خواب دیکھیں محلوں کے۔یا وہ بات ہے کہ گرگ گو سفندون کے لباس میں ظاہر ہوتے ہیں۔چاہے کہ ناظرین کتاب ہذا صوفیوں سے یوں کہیں کہ اے صاحبو! انیباکی خصلت تو الگ رہی پہلے یہ تو ثابت کردو ان ولیوں میں وہی ایمان تھاجو نبیوں میں تھا؟ نبیوں کا ایمان کچھ اور ہے اور ان کا ایمان کچھ اورہے۔کون سا نبی ہمہ اوست کا قائل تھا؟بتلاؤ۔اس طرح ان کی تعلیم اور چال چلن میں فرق ہے۔پس تم نے مخالفت کا نام مشابہت کیوں رکھا ہے۔کیا خدا سے نہیں ڈرتے؟

۱۲۔فصل تقسیم عالم یا مقامات عالم کے بیان میں

صوفی لوگ جہان کو چار حصوں یامقاموں میں تقسیم کرتے ہیں اور ان مقاموں کے نام یوں رکھے ہیں۔اول ناسوت۔ دوئم جبروت۔سوئم ملکوت۔ چہارم لاہوت۔

ناسوت عالم اجسام یعنی اس دنیا کو کہتےہیں۔جبروت صفات الہیہ کی عظمت و جلال کے مقام کو کہتے ہیں۔ملکوت عالم فرشتگان یا عالم ارواح وعالم غیب وعالم اسماء کانام بتلاتے ہیں۔لاہوت ذاتِ الہٰی کا عالم ہے۔جہاں جا کر سالک فنافی اللہ ہو جاتا ہے۔یعنی مفرد ومجرد ہوتا ہے۔

مراۃالاسرار میں لکھا ہے کہ مفردون ہمیشہ مقام لاہوت میں رہتے ہیں۔اور لفظ مقام اس جگہ مجازًاستعمال ہوتا ہے۔ورنہ لاہوت کوئی مقام نہیں وہاں جہات ستہ نہیں ہیں۔وہ تو صرف ذاتِ الٰہی کانام ہے ۔اس کے نیچے جبروت کا مقام ہے۔یعنی جبرو کسر کا مقام اور اس جگہ سے شش جہت کا انتظام شروع ہوتا ہےمعجزات و تصرفات اورتیرا میر بولنااور یہ اور وہ کا لفظ یہاں استعمال ہوتا ہےاور یہ خدا کے تخت کامقام ہے۔اور اس جگہ سے لے کر زمین کی خاک تک قطب عالم کا تصرف مانتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ لاہوت میں جبروت کا خیال کفر ہے۔وہ لوگ جو لاہوت میں پہنچتے ہیں مقام جبروت میں واپس آکر معجزات وغیرہ کیا کرتے ہیں۔اور اس وقت وہ لوگ لاہوت سے گرے ہوتے ہیں۔

عبدالرزاق کاشی سے منقول ہے کہ لاہوت صوفیہ کے نزدیک وہ حیات ہے جو تمام اشیا میں سرایت کیے ہوئے ہے۔اور مقام ناسوت اور روحِ انسانی اس لاہوت کا محل ہے۔اسی مضمون پر کسی صوفی کا یہ شعر ہے۔

روح شمع وشعاع اوست حیات


خانہ روشن ازو داو از ذات



میں کہتا ہوں کہ اگرچہ عام صوفی لفظ جبروت سے عالم جبرع کسی مراد لیتے ہیں تو درحقیقت لفظ جبروت جبر سے مبالغہ ہے۔جس کے معنی ہیں بڑی زبر دستی اور بڑی بلندی پس خدا کی وہ شان جس سے وہ سب چیزوں حکومت اور بلندی رکھتا ہے اسی شان کانام جبروت ہے۔اور وہ ذات پاک جس کی وہ شان ہےاسی کا نام لاہوت ہے۔پس لفظ جبروت سے صفات قدیمہ پر اور لفظ لاہوت سے ذات پاک پر اور لفظ ملکوت سے عالمِ بالا پر اور لفظ ناسوت سے عالم ِ اجسام پر اشارہ ہوتا ہے۔اور اس نشان پربظاہر کچھ نقصان نہیں ہے۔البتہ وہ کیفیتیں جو ان مقاموں میں صوفیہ نے اپنی عقل سے اپنے ولیوں کے لیے فرض کی ہیں کہ یہاں یہ ہوتا ہے۔اور وہاں وہ ہوتا ہے۔اس کا ثبوت بدلیل ان کے ذمے ہے۔میں ان کے اس بیان کو محض وہم سمجھتا ہوں۔

۱۳۔فصل معرفت کے بیان میں

لفظ معرفت بمعنی شناختیں اگرچہ چند معنی میں اہل علم نے استعمال کیا ہے۔لیکن صوفیہ کی اصطلاح میں خدا کی ذات وصفات کی پہچان کا نام معرفت ہے۔اور یہ صحیح و درست بات ہے کہ خدا کی ذات و صفات کی شناخت معرفت ہے۔لیکن بحث اس میں ہے کہ آیا صحیح معرفت الٰہی کہاں سے ہے،اور کیونکر حاصل ہوتی ہے؟اور کہ صوفیہ نے کیا معرفت حاصل کی ہے؟وہ خدا کی نسبت کیا کچھ سمجھتے ہیں؟اوردانشمند طالب حق کا فرض ہےکہ ان باتوں پر فکر کرے۔

ہم جو مسیحی ہیں ہم بھی معرفت کی عزت کرتے ہیں۔اورمعرفت میں ترقی کے در پر ہیں۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ تمام جہان کےعلوم کاحاصل یہی ہوناچاہیے کہ آدمی اپنے خالق کو پہچانے اور ہم صاف کہتے ہیں کہ جس نے سب کچھ سیکھا اور خدا کو نہیں پہچاناوہ اب تک جاہل ہے۔

فی الجملہ خدا شناسی تو عام لوگوں کو حاصل ہےکہ وہ خدا کے وجود کے قائل ہیں۔لیکن اتنی خدا شناسی کافی نہیں ہے۔ضرور ہے کہ سب آدمی آگے بڑھیں اوراس قدر بڑھیں کہ نہ صرف کی ذات وصفات پر ہی بس کریں بلکہ اس کی مرضی اور ارادہ کو دریافت کرکے اور اس کے مناسب کام کرکے اس کی رضامندی اپنی نسبت حاصل کریں۔پس وہ معرفت جو کہ صوفیہ نے حاصل کی ہےوہ کہاں سے ہے؟کچھ قرآن سے ہے ۔تو بھی بطریق تحریف معنوی کے کچھ حدیثوں سے ہے۔سو بھی اکثر ضعیف اور وضعی حدیثوں سے کچھ اپنے بزرگ صوفیہ اقوال میں سے ہے۔کچھ اہلِ فلسفہ کے خیالات میں سے ہے۔کچھ بعض شعرا کے اشعارمیں سے ہے۔ ان کی معرفت کے ماخذ ہیں۔ناظرین انصاف سے کہیں کہ کیا یہ چیزیں اس لائق ہیں کہ دانش مند آدمی اپنی روح کو ان باتوں کے حوالے کردے؟ہر معتبر جگہ سے جو باتیں سامنےآتی ہیں۔وہ اس روشنی کے زمانے میں مقبول نہیں ہوسکتی ہیں۔

پھر صوفیوں نے اور ان کے ولیوں نے کیا معرفت حاصل کی ہے اوران کے خیالات میں کیا کچھ بھر گیا تھا؟جو کچھ ان کے خیالوں میں بھر گیا تھا تصوف کی کتابوں میں یہ سب باتیں لکھی ہیں۔اور ہم نے ان کی کتابوں کو پڑھ کر معلوم کر لیا ہے کہ اُن کے خیالوں میں کیا تھا؟اورجو کچھ ان کے خیالوں میں تھا وہی کچھ ان کی معرفت تھی۔سب سے عمدہ اور معبتر اور مسائل معرفت کی جامع کتا ب ان میں مولوی روم کی مثنوی ہے۔جس کی عبارت فصیح اور مضامین اکثر جید ہیں اور اس کی نسبت یہ شعر درست ہے۔

مثنوی مولوی معنوی


ہست قرآن درزبان پہلوی



لیکن اس میں اور تمام کتب تصوف میں قریب دو ثلث کے ایسے مضامین درج ہیں جن کو زمانہ حال کی روشنی غلط بتلاتی ہے۔البتہ بعض باتیں صحیح اوردرست بھی ہیں۔لیکن بعض بڑے بڑے اصول محض غلط ہیں۔مثلاً ہمہ اوست وغیرہ۔اور میں یہ کہہ چکا ہوں کہ جو کچھ اس کے خیالوں میں تھاوہی ان کی معرفت تھی۔پس ان کی معرفت میں دیکھو کہ کہاں تک غلطی تھی۔اور اس کا سبب یہی ہوا کہ ماخذ معرفت ناقص تھا۔اس لیے ناقص معرفت حاصل ہوئی جس کا بطلان اب ظاہر ہو گیا۔پس سوچو کہ وہ لوگ اب غلط خیال لے کراپنی روحوں میں کدھر گئے ہوں گے۔

جو معرفت صوفیہ نے اپنی کتب تصوف سےحاصل کی ہے۔اور جو معرفت ہندوں نے ویدوں اور شاستروں ویراگ سےحاصل کی ہے۔اور جو معرفت قلندروں نے اپنے مشرب قلندریہ اور عشقیہ نعرہ زنی سے حاصل کی ہےاور جو جو باتیں یہ جدید مذاہب والے لوگ اپنے خیالات سے پیدا کررہے ہیں۔یہ سب تنگ و تاریک اور پُر خطر اور بے تسلی ہیں۔کیونکہ وہ سب ایسی راہیں ہیں کہ انسان نے اپنے سے خدا تک نکالنے کا ارادہ کیا ہے۔عقل کہتی ہے کہ ایسی راہوں سے آدمی خدا تک نہیں پہنچ سکتا۔کیونکہ وہ خدا کو نہیں جانتا۔

انسان خود سے خدا تک راہ نہیں نکال سکتاہاں خدا خود سے انسان تک راہ نکال سکتا ہے۔اور اس نے راہ نکالی بھی ہے۔کیونکہ اس نے دنیا کے شروع سےپیغمبروں کو بھیجا کہ اہلِ دنیا کے معلم ہوں اوراس نے پیغمبروں کے وسیلے سے الہام سے بائبل مقدس کو لکھوایاکہ آدمیوں کے ہاتھ میں معرفت الٰہی کا دفتر ہو۔اور وہ اپنی روح سے طالبان حق کے لیے ہدایت کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہااور اب بھی تیار ہے۔

پھر جن لوگوں نے پیغمبروں کو مانا اور بائبل سے معرفت حاصل کی ان کے خیالات بھی کلیسیا کے دفتر میں مرقوم ہیں۔اب اگر کچھ علم اور کچھ عقل اور کچھ انصاف رکھتے ہو تو اٹھوں اور اپنی معرفتوں کو اس معرفت کے ساتھ مقابلہ کرو کہ جو بائبل سے ہےتب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ جو معرفت بائبل سے ہے وہ وہ نہایت لمبی چوڑی ،اونچی ، گہری،روشن اور پر تسلی اور زندگی بخش چیز ہے۔اور تمام دنیاوی مصنوعی معرفتوں پر ایسی غالب ہے جیسے اللہ تعالیٰ سب چیزوں پرغالب ہے۔

خدا کی ذات پاک کا صحیح علم۔اور اس کی صفات قدیمہ کا صحیح بیان اور اس مرضی اور ارادوں کا ذکر۔اور اس کے گذشتہ عجیب کاموں اور انتظاموں کا تذکرہ۔اور اس کے ان عجیب کاموں اور انتظاموں کا بیان جو ہر روز دنیا میں نظر آتے ہیں۔اور اس کی جلیل حکمت اور پیش بینی کی کیفیت وغیرہ باتیں جس قدر بائبل سے معلوم ہوتے ہیں۔ساری دنیا میں کوئی کتاب نہیں ہےکہ ان امور کا ایسا بیان کرے۔

لیکن بائبل کو پڑھنا اور سیکھنا چاہئے اس کے ہر ایک لفظ پر غور کرکے اور ہر لفظ کے نیچے جو قادیق مندرج ہیں کہ اس لفظ کی روشنی میں اور عرفان بائبل الٰہی روح کی مدد سے دریافت کرکےاپنی کتابوں میں لکھے ہیں۔ان سب کو دریافت کرکے پڑھنے کانام بائبل مقدس کا پڑھنا ہے۔

کیونکہ کسی شے کی پوری کیفیت اسی وقت معلوم ہوتی ہےجب اس کی خوبی اور برائی میں خوب غور کی جاتی ہے۔ایسا ہی معاملہ ویدوں اور قرآن وغیرہ کے سا تھ بھی برتنا واجب ہے۔تاکہ کسی کی نسبت کوئی امر حق تلفی کا وقوع میں نہ آئے۔عوام الناس کو ایسی تکلیف نہیں دی جاتی۔وہ اپنی لیاقت اور طاقت کے مناسب جو کچھ کلام متن سے سیکھتے ہیں وہ معرفت ان کی نجات کے لیے مفید ہے۔لیکن وہ جو معرفت میں ترقی چاہتے ہیں اورلیاقت و طاقت اور ہمت بھی رکھتے ہیں۔انہیں ضرور ہے کہ اس انتہا مہر معرفت میں غوطہ زنی کرنے کی تکلیف کو گوارا کریں۔تاکہ حقیقی معرفت کا لطف حاصل ہواورانوارِ الٰہی سے منور ہو جائیں مسیحی اولیا اللہ نے ایسا ہی کام کیا ہے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ حقیقی معرفت صرف بائبل سے حاصل ہوتی ہےاور مسیحی ولیوں کو حاصل ہوئی ہےاور بائبل میں مندرج ہے۔اور پیغمبروں سے پہنچی ہے۔لیکن وہ معرفت جو تصوف وغیرہ سے ہے وہ نادانی کے خیالات ہیں جو اڑ گئے اور اڑتے جاتے ہیں۔اور وہ جو اس پر فریفتہ ہیں آخر کو شرمندہ ہوں گے۔اورہائے افسوس ؛کہیں گے۔کیونکہ انہوں نے خدا کے کلام کو ذلیل اور حقیر سمجھا۔اور اس پر توجہ نہ کی مگر انسانوں کی باتوں کو مفید اور معتبر قرار دیا تھا۔اس کی سزا خدا کی عدالت میں اٹھانی ہو گی۔

۱۴۔ فصل شریعت طریقت حقیقت کے بیان میں

مشرعت الما ۔ نہر کے گھاٹ کو کہتے ہیں۔پس پانی پر جانے کی راہ کو شرع یا شریعت کہتے ہیں پھر دین کی راہ کا نام شریعت پڑ گیاہےکیونکہ وہ بھی انہا رجنت پر جانے کی راہ ان کےگمان میں ہےمحمدی لوگ اسلام کی راہ کو شریعت کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہر پیغمبر ایک شریعت لایا ہے۔لیکن یہ ان کا خیال غلط ہےخدا کی طرف سے صرف دنیا میں ایک ہی شریعت آئی ہےجو موسیٰ لایا ہےاور سب نبی جو پیدا ہوئےاسی کے خدمت گزار تھے اس مفصل شریعت کا خلاصہ خدا نے ہر انسان کے دل میں ید قدرت سے لکھ رکھا ہےاور وہ یہ ہے کہ سب چیزوں سے زیادہ خدا کو اور اپنی جان کے برابر بنی نوع انسان کو پیار کرناچاہیے۔اب خواہ اس کے موافق ہویا نہ ہو مگر سب کا دل اس بات کو مانتا ہےمگر صوفیہ کی بولی میں ظاہری راہ و رسوم مقررہ اسلام کانام شریعت ہے۔گویادین داری کی صورتِ ظاہری کو وہ شریعت سمجھتے ہیں۔

طریقت یہ لفظ طریق سے ہےجس کے معنی ہیں عام راستہ ہر کہیں جانے کی راہ کو طریق کہتے ہیں اور یہ لفظ طریق سے بنا ہے۔جس کے معنی ہیں کوٹنااور طریق بمعنی مطروق ہےیعنی کوٹا ہوا۔یعنی راہ جس کو آدمی اپنے پیروں کے چلنے سے کوٹتے ہیں۔صوفی سمجھتے ہیں کہ شریعت عام راہ ہے۔اور طریقت خاص راہ ہےخداسےملنے کا۔اوروہ ان کے تصوف کی چال ہےاس صورت میں محمدی شریعت سے ان کا تصوف افضل ٹھہرا۔بعض محمدی عا لموں نے اس مشکل کے دفع کرنے کو یوں کہا ہے کہ دین کی ظاہری صورت شریعت ہےاوراس کی باطنی جان طریقت ہے۔یہ بھی ان کی غلطی ہے۔وہ دین کی باطنی جان کس کو کہتے ہیں؟آیا اس کیفیت کو جو محمدی اہلِ شرع کی باطنی کیفیت ہے یا اس کیفیت کو جوصوفیہ کے ولیوں کی باطنی کیفیت تھی یہ تودو کیفیتیں جدا جدا صاف عقل سےنظر آتی ہیں۔ اور طریقت کا لفظ صوفیہ کا ہے۔جو انہوں نے اپنے سلوک کی چال کی نسبت استعمال کیا ہے۔اور شریعتِ محمدی سے افضل اور خدا سے ملنے کی خاص راہ سے اس کو بتلایا ہے۔ اس لیے وہ شریعتِ محمدی کی خاص باطنی جان نہیں ہے۔بلکہ وہ جدی بات ہے۔جو صوفیہ لائے ہیں۔

حقیقت یہ لفظ حق سے ہےیعنی سچائی ۔کشف اللغات میں لکھا ہے کہ حقیقت نزد صوفیہ ظہور ذات حق است بے حجاب تعینات و محو کثرات موہومہ در نور ذات۔پس یہ ہمہ اوست کا مقام ہے۔جو کفر کی بات ہے۔اگر کفر کی بات حقیقت ہے تو کافر حق پر ہیں۔افسوس کہ یہ تینوں لفظ شریعت ،طریقت اور حقیقت کیسے ذلیل اورمکروہ کردئیےاپنے داہی تباہی معنی سے۔کیونکہ اگر شریعت صرف ظاہری راہ و رسوم کا نام ہے تو یہ ایسی چیز ہوئی کہ جیسے مردہ لاش ہوتی ہے۔جس میں جان نہیں ہوتی۔اور طریقت نام اس تصوفی راہ کا جو کہ علوم اسلام سے خارج ہے۔اور حقیقت نام ہے ہمہ اوست کے خیال کا جو باطل خیال ہےاور طریقت سے حاصل ہوتا ہے۔اب صوفیہ کے پاس کیا خوبی رہ گئی؟شریعتِ محمدی کو مردہ سمجھ کر پھینک دو اورطریقت کو اس لیے پھینک دو کہ اس سے حقیقت یعنی حماقت حاصل ہوتی ہے۔پھر صوفی تو بالکل خالی رہ گئے۔ایک صوفی بزرگ نےکہا ہے کہ شریعت نفس انسانی سے علاقہ رکھتی ہےاور بہشت میں پہنچاتی ہے۔طریقت دل سے علاقہ رکھتی ہے اور وہ خدا سے ملاتی ہے۔حقیقت روح سے علاقہ رکھتی اور روح کو مقام ہمہ اوست میں پہنچاتی ہے۔یعنی خدا سے مل کر خدا ہو جاتے ہیں۔اس بیان پر بھی وہی آیت آتی ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہےمجمع السلوک میں لکھا ہے کہ

شریعت در نمازو روزہ بودن

حقیقت روی درولدار کردن


طریقت در جہاد اندر فزودن

نظر اندر جمال یار کردن



یہ بیان بظاہر عبارت تو بہت خوب ہے لیکن حاصل اس کا بھی وہی ہے۔جوصوفیہ کے اصول سے پیدا ہوتا ہے۔کہ ہمہ اوست میں جاکر دم لیتے ہیں۔

وہ بات اور ہے کہ جو ہم مانتے ہیں کہ رسمی شریعت مسیح میں مکمل ہو کر اپنی اصلی روحانی صورت میں آگئی ہے۔کیونکہ رسمی اور روحانی میں سایہ اور عین کی نسبت تھی لیکن یہا ں صوفیہ میں یہ تینوں جدا جدا باتیں ہیں۔اور ان میں مخالفت کی نسبت ہے کیونکہ یہ سب انسانی بناوٹیں ہیں۔

۱۵۔فصل یقین کے بیان میں

جازم راسخ ثابت اعتقاد کانام صوفیہ کی اصطلاح میں یقین ہے۔اور وہ سمجھتےہیں کہ یقین کی تین قسمیں ہیں۔اول علم الیقین یہ حاصل ہوتاہے کہ دلائل قطعیہ سےمثلاًبرہان یا خبر متواتر سے۔دوئم عین الیقین یہ حاصل ہوتا ہے۔آنکھ کے مشاہدے سے۔سوئم حق الیقین یہ حاصل ہوتا ہے۔کسی شے کے حاصل کے ہونے سے بتواتر خبر ملی ہے کہ دوزخ اور بہشت موجود ہیں۔ جب ہم نے اس خبر پر یقین کیا کہ تو یہ علم الیقین ہوااور آنکھ سے دوزخ اور بہشت کو جا کر دیکھ لیا تو یہ عین الیقین ہوااورجب دوزخ یا بہشت میں ڈالے جاتے ہیں تو تب حق الیقین ہوا۔

میں سمجھتا ہوں کہ ان اصطلاحوں میں کچھ غلطی نہیں ہے۔یہ درست باتیں ہیں لیکن مجھے حیرانی اس امر میں ہے کہ ان صوفیہ کےعقائد اور خیالات تو علم ایقین کےرتبےسے بھی بہت نیچے گرے ہوئے ہے۔اور وہ لو گ ہرگز برہان سے اور خبر متواتر سےاپنے عقائد کا ثبوت نہیں دے سکتےپھر وہ عین الیقین اور حق الیقین کا ان عقائد کی نسبت کیونکر دم بھرتے ہیں۔ان کے پاس صرف توہمات ہیں اور ان کانام یقینات انہوں نے رکھ چھوڑا ہے۔اچھی اچھی اصطلاحیں محمدی اہلِ شرع کے مقابلے میں جمع کی ہیں۔لیکن ان کے اندر کچھ زندگی اور خوبی نہیں ہے۔

۱۶۔فصل وحدت وجودی اور شہودی کے بیان میں

سب بُری باتوں سے زیادہ اور خطر ناک اور نالائق بات صوفیہ میں یہ ہے کہ وہ سب کے سب بالا اتفاق وحدت الوجود کے قائل ہیں اور وحدت الوجود کے معنی کتب تصوف اور غیاث اللغات میں یوں مرقوم ہیں۔(وحدت الوجود باصطلاح متصوفین موجودات راہمہ یک وجود حق سبحانہ تعالے دانستن وجود باماسوا رامحض اعتبارات شمر دن چنانچہ موج وحباب و گرداب قطرہ و ژالہ ہمہ رایک آب پندآشتن)۔

یہی ہمہ اوست ہے جس کے سب صوفی قائل ہیں اور تمام تصوف کی ساری عمارت اسی بنیاد پرقائم ہے۔ہاں بہت محمدی عالم اس کے قائل نہیں ہیں اور اس خیال کو کفر سمجھتے ہیں تو بھی صدہا بزرگ عالم محمدی جنہوں نے اسلام میں تسلی نہیں پائی اور ناچاری سے تصوف کی طرف جھکے ہیں اس نالائق خیال کی طرف مائل نظر آتے ہیں اور ایسی تقریریں کرتے ہیں کہ اہلِ شرع کو بھی تھام رکھیں اور اس عقیدے کو ہاتھ سے نہ چھوڑیں کیونکہ یہ عقیدہ اگر گمراہی ٹھہرے تو ان کے سب اولیا گمراہ ثابت ہوتے ہیں اور تسلی کی کوئی بات ان کے پاس نہیں رہتیکیونکہ تمام قرآن میں تسلی کا تو کوئی مقام نہیں ہے۔صوفیہ کے گھر میں یہ ہمہ اوست خیال انہیں کچھ تسلی دیتا ہے۔

صوفیہ کے سب خاندانوں میں نقشبندیہ خاندان زیادہ تر باشرع اور احتیاط کا گھرانا ہے۔اسی گھرانے کے مرید ہمارے شہر پانی پت کے ایک بزرگِ اعظم فاضل جلیل قاضی ثنا اللہ مصنف تفسیر مظہ ری وغیرہ ہیں۔اور وہ مرزا مظہر جان جانان بزرگ دہلی کے مرید تھے۔مرزا صاحب کے تصوف کی ساری کیفیت ایک کتاب میں مندرج ہے۔جس کا نام معمولات مظہریہ ہے۔ہندوستان میں جس قدر تصوف کی کتابیں لکھی گئیں۔یہ کتاب ان سب میں اعلیٰ رتبہ کی ہےاور قاضی صاحب نے اس کی صحت پر گواہی لکھی ہے۔وحدت الوجود کے مسئلے کی بابت اسمیں یوں مرقوم ہے۔(صفحہ ۱۰۲) صانع اور مصنوع میں عینیت ہےیا غیریت اس بارےمیں شرع ساکت ہےلیکن کاملیں پر یہ بے حد کشف سے ظاہر ہوا ہے۔مراد یہ ہے کہ کاملین نے کشف سے معلوم کیا ہے کہ عینیت ہے۔پس یہ ہمہ اوست کا اقرار ہوگیا۔

پھر اس خاندان میں نامدار بزرگ ہوئے ہیں۔شیخ احمد سرہندی ہیں جنکو مجدد الف ثانی کہتے ہیں اور شاہ عبدالحق محدث دہلوی ان کی بڑی تعریف شرح فتوح الغیب کے خاتمے میں لکھتے ہیں اور فی الحقیقت وہ صاحبِ علم اور سنجیدہ صوفی تھے۔ان کے مکتوبات ان کی لیاقت ظاہر ہے۔کہ محمدی دین کا علم ان کو پورا تھا۔

انوار العارفین صفحہ ۴۷میں ان کا بیان یوں مرقوم ہےکہ حقائق الاشیا ثابتہ یہ معاملہ حواس سے علاقہ رکھتا ہے۔لیکن عارفین حواس عقلیہ سے آگے بڑھ گئے ہیں انہوں نے وہاں جا کر ہمہ اوست کا بھید پایا ہے۔پس ان بزرگوں کے بیان سے ظاہر ہے کہ وہ شرع محمدی کو بھی قائم رکھتے ہیں اور ہمہ اوست بھی چھوڑنا نہیں چاہتے۔

یہ جو اوپر بیان ہو اہے کہ ہمہ اوست کا بھید حواس سے دریافت نہیں ہوسکتا۔بلکہ حواس سے یہی ثابت ہے کہ حقائق الاشیا ثابتہ لیکن یہ بھید کشف سے معلوم ہوا ہے۔اور کاملین حواس سے آگے بڑھ گئے ہیں اور وہاں سے بھید کودریافت کرکے لائے ہیں۔یہ بات سادہ لوحوں کے دلوں کو خوش کرنے کے لیے کیا خوب معلوم ہوتی ہے۔فی الحقیقت دھوکا اور روحوں کی ہلاکت کے لیے زہر ہے۔

جن اشخاص کو صوفیہ کاملین کہتے ہیں۔ہمیں ان میں کچھ کمال نظر نہیں آتااور جن باتوں کو وہ کمالات کہتے ہیں۔وہ ہمیں نقصانات معلوم ہوتے ہیں۔پھر ان باتوں کی نسبت جن کو وہ ان کے مکاشفات کہتے ہیں۔حجت باقی رہتی ہے۔ہم کیونکر یقین کریں کہ وہ ان کے الٰہی مکاشفات ہیں؟کیوں نہ کہیں کہ توہمات ہیں۔جو قوت واہمہ سے نکلتے ہیں۔سچے اور جھوٹے نبیوں میں امتیاز کرنے کے لیےکچھ قواعدعقلیہ اور نقلیہ ضرور مقرر ہیں۔اوران قواعد سے جب کوئی سچا نبی ثابت ہوتا ہے توتب اس کی باتیں اس خیال سے مانی جاتی ہیں کہ وہ خدا کا نبی ہے۔یہ صوفی کون ہیں؟جن کو مکاشفے ہوتے ہیں۔اور حواس سے آگے بڑھتے ہیں۔اور وہاں سے جہاں حواس کا کام نہیں ہےکچھ لاتے ہیں۔ اوراپنے حواس میں رکھ کر لاتے ہیں۔ اور مریدوں کے حواس میں ڈالتے ہیں۔ان باتوں کو جو حواس سے ثابت نہیں ہو سکتیں اور وہ جو اہلِ حواس ہیں جنہیں خود مکاشفے نہیں ہوئےوہ ان کی تائد میں کوشش کرتے ہیں۔بلکہ ان کے آورد کو اپنے ایمان کی جگہ میں رکھتے ہیں۔

ہمیں دنیا میں تین قسم کے لوگ معلوم ہوتے ہیں۔بعض خداکے منکر ہیں مگر جہان کی ،موجودگی کے قائل ہیں۔کیونکہ جہان موجود نظرآتا ہے۔یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ جہان کا وجود اور انتظام سب کچھ دہر یعنی زمانے سے ہےاور یہ لوگ دہریہ کہلاتے ہیں۔

بعض خدا کے قائل ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دہر بھی خدا کی خلقت میں سے ہیں۔ان لوگوں کی بھی دوقسمیں ہیں۔یعنی وہ جوخدا کے قائل ہیں۔دو طرح سے خدا کو سمجھتے ہیں۔ایک وہ ہیں جو ہمہ اوست میں خدا کو بتلاتے ہیں۔اور وہ سمجھتے ہیں کہ صانع اورمصنوع میں عینیت ہےنہ غیریت یعنی خدا نے جہان کو اپنے ہی اندرسے نکالا ہےیاخدا خود جہان بن گیا ہے۔پس اس جہان کی اور خدا کی ایک ہی ماہیت اور حقیقت ہوئی ۔قدیم زمانے کے مصری اور یونانی بت پرستوں کا بھی گمان تھا اور ویدوں میں بھی ایسا ہی لکھا ہے۔قوم صوفیہ جو کہ بت پرست قوم تھی۔ان کو بھی قدیم بت پرستوں سے وراثتہً یہی خیال پہنچا تھا کہ وہی خیال محمدی صوفیوں میں اب تک چلا آتاہے۔اوراس میں متعصب ہوگئے۔وہ یہ نہیں کہتے ہیں کہ ہم نے یہ خیال بت پرستوں سے لیا ہے۔ بلکہ عیب پوشی کے لیے کہتے ہیں کہ ہمارے کاملین کو مکاشفہ ہوا ہے۔بھلا صاحب جب آپ لوگ دنیا میں نہ تھے۔تو کیا اس کا مکاشفہ اس وقت بھی بت پرستوں کو ہوا تھا؟یا ان کاعقلی خیال تھا جو کہ باطل تھا۔

دوسرے وہ لوگ ہیں جو کہ ہمہ ازاوست کے قائل ہیں۔اور سمجھتے ہیں کہ صانع اور مصنوع میں غیریت ہے نہ عینیت اور کہ جہاں عدم سے وجود میں آیا ہے اور کہ خدا کی اور کچھ ماہییت ہےاور اشیا جہاں کی اور کچھ ماہیتیں ہیں۔اور یہ کہ حقائق الاشیا ثابتہ حق ہے۔حواس سے بھی اور مکاشفوں سے بھی۔

ہم سب مسیحی اور یہودی جو کہ پیغمبروں کے پیروں ہیں۔اسی خیال کو مانتے ہیں ۔اور اکثر علمامحمدیہ بھی اسی خیال میں ہمارے ساتھ ہیں۔اور کلام اللہ کی بھی یہی تعلیم ہے۔لیکن وہ محمدی جو تصوف میں قدم رکھتے ہیں۔ہمہ اوست کا مہلک خیال جس سے خدا کی بے عزتی ہوتی ہے وہ نہیں چھوڑتے۔

اور یہ جو اوپر کہا گیا ہے شرع محمدی اس بارے میں ساکت ہے۔سچ تو یہ ہے کہ قرآن میں ہمہ اوست کا خیال صاف صاف کہیں نہیں لکھا ہمہ ازوست کا خیال زیادہ تر بیان ہوا ہے۔صرف ایک مقام میں سورہ حدید میں ہےجس سے صوفی کچھ استدلال کرتے ہیں کہ هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيموہ (سب سے) پہلا اور (سب سے) پچھلا اور (اپنی قدرتوں سے سب پر) ظاہر اور (اپنی ذات سے) پوشیدہ ہے اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہےلفظ ظاہر سے وہ اشیا دیدنی مرادلیتے ہیں۔اور سمجھتے ہیں کہ یہ جو کچھ ظاہر ہے اللہ ہے لیکن علما محمدیہ اس کی تاویل یوں کرتے ہیں کہ وہ بد لایل ظاہر ہے۔نہ بذات اور ہم بھی یہی مانتے ہیں کہ وہ بد لایل ظاہر ہے۔اہلِ ہمہ اوست کہتے ہیں کہ وہ بذات ظاہر ہے اسی کا نام شہود ہے۔اور یہ بھی کہتے ہیں کہ محمد صاحب مفردوں میں سے تھےتو کیا تعجب ہے کہ ان کی مراد لفظ ظاہر سے وہی ہو کہ جو صوفی کہتے ہیں۔پھر یہ لوگ دو وصنعی حدیثیں سناتے ہیں۔کہ حضرت نے فرمایا کہ (انا احد بلامیم واناعرب بلا عین)یعنی میں احدا ور رب ہوں۔یہ تو کفر کے کلمے ہیں۔معتبر کتابوں میں ان حدیثوں کا ذکر نہیں ہے۔شاید صوفیہ نے بنائی ہوں۔

ہاں ایک حدیث اور ہے جو معتبر کتابوں میں مذکور ہے۔جس سے ہمہ اوست کا خیال حضرت کے ذہن میں کچھ معلوم ہوتا ہے۔وہ یہ ہے کہ يؤذيني ابن آدم؛ يسب الدهر، وأنا الدهراللہ کہتا ہے کہ انسان مجھے دکھ دیتا ہے۔اس لیے کہ وہ دہر کو گالی دیتا ہے۔اور میں خود دہر ہوں۔اس حدیث میں حضرت دہریوں کا مذہب ثابت کرتے ہیں۔اور اللہ کو دہر بتلاتے ہیں۔

اور ناظرین کو یہ بھی معلوم ہو جائے کہ اگرچہ بظاہر یہ دو فرقے ہیں یعنی دہریے اور ہمہ اوست والے مگر فی الحقیقت حاصل ان کا ایک ہی ہے۔دہریہ کہتے ہیں کہ خدا نہیں ہے۔جو کچھ ہے یہ جہان ہے۔ہمہ اوست والے کہتے ہیں کہ خدا ہے مگر سب کچھ خدا ہے۔یہ تو ایک ہی بات ہوئی۔ دوعبارتوں میں پس جیسے دہریہ بے خدا ہیں۔ویسے ہیں ہمہ اوست والے بھی بے خدا ہیں۔

ہمہ اوست کا خیال عقلی تجویز ہے۔سب پیغمبر اس کے مخالف ہیں۔ہاں سب بت پرست اس کو مانتے ہیں۔پس اس کے ماننےوالا پیغمبروں کا ساتھی نہیں۔وہ بت پرستوں کا ساتھی ہے۔اور جو جس کا ساتھی ہےاس کا حشر اسی کےساتھ ہوگا۔تب صوفی قیامت میں بت پرستوں کے ساتھ اٹھیں گے نہ کہ پیغمبروں کےساتھ۔

ہمہ اوست کے خیال کی جڑ یہ ہے کہ بعض آدمیوں نے ایسا سمجھا کہ دینا میں ہر کاریگر جو کچھ بناتا ہے۔کسی مادے سے بناتا ہے۔بغیر مادے کے کوئی چیز کسی کاریگر سے نہیں بن سکتی۔خدانے جہان کو کیونکر بنایا ؟وہ مادہ کہاں سے لایا؟تب ان کے قیاس نے جواب دیا کہ مادہ خدا نے اپنے ہی اندر سے نکالا اور اس میں تصرف کرکےسب کچھ ظاہر کردیا۔پس سب کچھ اس میں سے ہے۔اس لیے سب کچھ وہی ہےیہی دلیل وحدت الوجود کی ان کے پاس ہے۔

خدا کے پیغمبر جو خدا سے سن کر بو لتے ہیں۔کہتے ہیں کہ خدا قادر مطلق ہے۔اس کی قدرت مطلق ہے۔یعنی آزاد اس کی قدرت کے لئے کوئی حد نہیں وہ کہیں رک نہیں سکتی۔ورنہ وہ مقید قدرت ہوتی نہ کہ مطلق۔پس اس قدرت سے اس نے جہان کو پیدا کیا عدم سے نکالا اور عدم کی تعریف علمِ حکمت میں یہ ہے(العدم یقابل الوجود فلیس للعدم وجود)۔یعنی عدم مقابلہ میں ہے وجود کے اس لیے عدم کا وجود نہ ہوا۔جس لیے فارسی لفظ نیستی ہے۔یعنی لا وجود ۔پس خدا نے جہان کو نہ اپنے اندرسے مادہ نکال کر پیدا کیابلکہ نیستی میں سے پیدا کیا ہے۔لفظ کریٹ(Create) انگریزی میں اور خلقت عربی میں اور پیدا فارسی میں اور بارا عبرانی میں ایسے معنی میں آتا ہے۔کسی چیز کا بغیر مادے کے پیدا کرنا۔پس دنیا کے کاریگر کچھ چیزوں سے کچھ چیزیں بناتے ہیں۔کیونکہ اس کی قدرت محدود اور مقید ہے اور وہ قادر مطلق نہیں۔خدا قادرمطلق ہے۔وہ نیستی سے بحکم خود چیزیں پیدا کرتاہے۔اگر ہم خدا کو دنیا کے کاریگروں کی مانند خیال کریں تو اس کو اس کی عالی شا ن سے گراتے ہیں اور مردود ہوتے ہیں۔

اس کے سوا یہ بات ہے کہ اگر یہ جہان خدا کے اندر سے نکلاہوا ہوتا تو خدا کی ماہیت میں اس جہان کو بھی دخل ہوتا۔اوراس پاک ماہیت کے جو خاصے ہیں وہ جہان میں بھی پائے جاتے ۔دیکھو خداوند یسوع مسیح خدا کی ذات میں سے نکلااور دنیا میں آیاہےاور روح القدس خدا کے اور مسیح کے اندر سے آتااور غور کرنے سے برگزیدوں کی روحوں میں معلوم ہوتا ہے۔اور جوخاصیت الٰہی ماہیت کی ہے۔وہی خاصیت ان دو نوں شخصوں میں برابر پائی جاتی ہے۔جو خدا کی ذات میں سے ہے۔اس میں خدا کی خاصیت ہے۔ اگر جہان خدا کے اندر سےہوتا تو جہان میں الہٰی خاصیت ضرور ہوتی۔اورجہان تو کچھ بھی نہیں ہے نہ کوئی شے قائم بالذات ہے نہ کسی چیز میں قدرت اور علم اور زندگی بالذات ہے۔ہر شے معلول ہے۔اور ہر علت کے لیے علت ہے۔اور وہ جو علت العلل ہے۔مخفی ہے۔اور ہر معلول کے لیے دو طرفین ہیں۔ایک وہ طرفین ہے جس سے اس کا علاقہ علتہ العلل ہے۔بواستہ علل کے ہے۔اور اسی سےاور بحال اور موجود ہے۔دوسری طرف وہ ہے جس سے اس کا علاقہ نیستی کی طرف ہے۔اگر علتہ العلل اس کو چھوڑ دے۔تو وہ معلول نیست ہو جاتاہے۔اور اس سے ظاہر ہےہ کہ جہان نیستی سے بقدرت واجب الوجود موجود ہو اہے ۔اگر وحدت الوجود صحیح ہے تو خدا میں نیستی میں گھرا ہوا ہے ہر طرف سے پس ہمہ اوست نہیں ہے۔بلکہ ہمہ از اوست ہے اورجو خدا ہے سب سے نیارا ہے اس کی ماہیت کچھ اور ہے۔اور موجودات کی ماہیتیں کچھ اور ہیں۔ہمہ اوست کے ابطال میں بہت سی ماہیتیں ہیں۔جو دیگر مصنفوں کی کتابوں میں مرقوم ہیں۔اور اثبات میں بارے میں سواء دوتین وہمی باتوں کے کچھ بھی نہیں ہے۔

گزشتہ زمانہ تاریکی کا خصوصاً غیر اقوام پر ایسا تھا کہ اس میں اس ہمہ اوست کے خیال میں بعض لوگوں نے کچھ تسلی اختیار کی تھی۔مگرباطل تسلی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم خدا میں سے نکلے ہیں۔اور مر کر اس میں مل جائیں گے۔اور وہ لوگ اپنے جیتے جی بہ تکلف اس باطل خیال کو اپنے ذہن میں پکاتے تھے۔اورفطری بدیہی خیال جو ہمہ ازاوست کا ہے بہ مشکل ذہن سے نکا لتے تھے۔اور شیطان مجسم ہوئے پھرتےتھے۔کہتے تھے کہ ہم خود خدا ہیں۔اور اس سے شیطان کا مطلب خوب پورا ہوتا تھا۔کہ خدا کی بے عزتی ہو۔اگر ہمہ اوست صحیح بات ہو تو کیا ضرور ہے کہ صوفی اتنی ریاضت کرے کہ بے ریاضت اور باریاضت آدمی سب برابر ہیں۔اوربت پرستی کا امر بھی مکرو ہ نہیں ہو سکتا۔اور نیکی بدی میں کچھ حاجت فرق کی نہیں ہے۔ایمانداری اور بے ایمانی فرمان برداری اور نافرمانی برابر ہیں کیونکہ سب کچھ خدا ہے نعوذباللہ من ذٰلک۔

اب روشنی کازمانہ آگیا ہے۔کلام اللہ کی روشنی اور علمی روشنی نمودار ہوئی ہے۔اوراس خیال کا بطلان زیادہ تر واضح ہو گیا ہے۔اور معلوم ہو گیا ہے کہ ویدیں وغیرہ وہ سب کتابیں جن میں یہ خیال مرقوم ہے۔اللہ کی طرف سےہرگز نہیں ہیں۔انسانی تجویز سے لکھی گئی ہیں۔اور ان سے بہ سبب اس خیال کے خدا کی بے عزتی ہے۔اور یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ جو لوگ اس خیال میں مر گئے ہیں۔اور اولیا اللہ سمجھے گئے ہیں وہ ہرگز خدا رسیدہ نہ تھے۔ اس خیال کو پہنچے ہوئے تھے۔پس خدا کا دوست ہونا تودرکنار رہا خدا کو پہچانا بھی نہ تھا۔اور جس کو انہوں نے خدا سمجھا تھا۔وہ بطلان تھا۔اب فرمائیں کہ وہ خدا کے دوست تھے یا بطلان کے۔

خدا پہچانا جاتا ہےخدا کے کلام سے نہ محض دلائل عقلیہ سے نہ احمق فقیروں کے خیالات سےنہ قدیم بت پرستوں کی تجویزات سے نہ ہو حق کرنے سے نہ ریاضت سے نہ ذکر فکر سے مگر خدا کے کلام سے اوروہ صوفیوں اور محمدیوں اور بت پرستوں او ر عقل پرستوں کے پاس نہیں ہے۔پھر وہ کیونکر خدا شناسی کے دم مارتے ہیں۔اگر کوئی شخص خدا شناسی کاطالب ہو تو وہ بائبل شریف کے قریب آئے اور جو کچھ بائبل شریف خدا کےبارے میں بتلاتی ہے۔اس پر غور کرے۔پھر اپنی تمیز سے پوچھے کہ خدا کیسا ہے اور کدھر ہے۔

۱۷۔فصل اطوار تقرب صوفیہ کے بیان میں

صوفیہ کےاطوارجن کےوسیلے سے وہ خدا سے ملنا چاہتے ہیں ان کی کتابوں سے معلوم ہوا کہ اعتقاد واثق اور خلوص اور فروتنی اور ریاضت اور ترکِ دنیا یہ پانچ وسیلے ہیں۔

لیکن ان کا تمام زور تصورات پر ہے۔بعض خیالوں کو ذہن میں پکاتے ہیں جب ان میں پختہ ہو گئے تو گو یا محو ہو تے ہیں۔تب سمجھتے ہیں کہ ہم کمالات کو پہنچے چنانچہ آئندہ فصلوں میں ان کے خاص خیالات کا ذکر آئے گا۔جن کے پختہ کرنے سے وہ ولی بنتے ہیں۔

اس فصل میں عام طور پرمیں ان کے اطوار کی طرف دیکھتا ہوں کہ کیا ہیں۔پس وہ پانچ باتیں جو اوپر مذکور ہوئیں۔اگر افراط تفریط سے محفوظ ہوں۔اور مناسب طور سے عمل میں آ یں تو بہت خوب ہیں۔لیکن ان پانچ باتوں میں اس اصل کو نہیں پاتا۔جو عقلاً و نقلاًخدا پرستی کی جڑ ہےجس کے ساتھ ہر خوبی فی الحقیقت خوبی ہوتی ہے۔اور جس کے بغیر تمام خوبیاں برباد اور غیر مفید ہیں۔

اور وہ اصل یہ ہے کہ خدا پرست آدمی میں سب سے پہلے صحیح اور زندہ ایمان ہونا چاہیے۔

دنیا میں ہر فرقہ اپنے گمان میں ایک ایمان کامدعی ہے اور اس کی حماعت کرتا ہےاور وہ سب ایمان جو دنیاکے فرقوں میں ہیں ہرگز یکساں نہیں ہیں اور سب فرقےایساسمجھتے ہیں کہ گویا ہم نے باوسیلہ اپنےایمان کے خدا کو راضی کیا ہے۔

یہ کیفیت دنیا میں ایمانوں کی دیکھ کے کیا کروں گے؟اپنے ہی قومی ایمان کو بے دلیل یا زبردستی کی دلیل سے صحیح ایمان سمجھو گے یا تمام دنیا کے ایمانوں کا مقابلہ کرکے صحیح ایمان تلاش کرو گے اور اس کو خدا کی رضامندی کا وسیلہ سمجھے کر اختیار کرو گے۔اگر دانائی اور انصاف ہے تو ایسا ہی کرو گے۔

لفظ ایمان کی بحث محمدی کتابوں میں بہت ہوئی ہے۔ کتاب عینی شرح صحیح بخاری اور فتح المبین شرح اربعین اور شرح مواقف وغیرہ میں بہت کچھ لکھا ہے۔لیکن ایمان کے بارے میں جو بات فکر کی ہے۔اس کا وہاں کچھ بھی ذکر نہیں ہے۔

جو کچھ وہاں لکھا ہےاس کا خلاصہ یہ ہے کہ بعض نےکہا ہے کہ ایمان صرف دل کا کام ہے یعنی تصدیق۔بعض نے کہا کہ دل کا اور زبان کا اکٹھا کام ہے یعنی دل سے یقین زبان سے اقرار ۔بعض نے کہا ہے کہ ایمان صرف دل کا کام ہے۔یعنی تصدیق۔ بعض نے کہا ہے کہ صرف زبان کا کام ہے یعنی اقرار۔بعض نے کہا ہے کہ دل اور زبان کا اکٹھا کام ہے۔یعنی دل سے یقین اور زبان سے اقرار۔بعض نے کہا کہ دل کا اور زبان کا اور تمام بدنی عضاکاکام ہے ۔یعنی اعمال بھی شامل ہیں ۔پھر یہ کہ آیا ایمان اوراسلام ایک ہی بات ہے۔ یادو جدا جدا چیزیں بعض نے کہا کہ ایک ہی چیز ہے۔دو چیزیں ہیں۔پھر یہ کہ آیا ایمان گھٹتا بڑھتا ہے۔کسی نے کہا کہ نہیں پھر یہ کہ آیا ایمان مخلوق ہے یا غیر مخلوق احمد بن حنبل نے کہا کہ غیر مخلوق ہے اور لوگوں نے کہا کہ مخلوق ہے۔فیصلہ یوں ہوا کہ آدمی کا اقرار جو اس کا فعل ہےمخلوق ہے اور ہدایتِ الہٰی جو کہ خدا کا کام ہے۔وہ غیر مخلوق ہے۔پس شے مخلوق اور غیر مخلوق مل کر ایک ایمان ٹھہرا۔

اصل بات کا کچھ ذکر نہیں کہ جس چیز کا اقرار اور یقین ہوتا ہےوہ کیا ہے اورکہاں سے ہے؟ہم مسیحوں کا زور اس بات پر بہت ہےکہ کیا ہے اور کہاں سے ہے؟

یہ دو الفاظ کہ ہمارا ایمان کیا ہے اورکہ کہاں سے ہے؟اگر ناظرین یاد رکھیں تو جلد صحیح ایمان پائیں گے۔اس سوال کا جواب کہ کہاں سے ہے؟اور کیا ہے؟محمدی لوگ یوں دیں گے کہ ہمارا ایمان قرآن و حدیث سے ہےاور خدا کی وحدتِ فردی اور اور محمد صاحب کی رسالت پر ہے۔صوفی یوں کہیں گے کہ ہمارا ایمان قرآن و حدیث اور اقوال صوفیہ سے ہے۔اور خدا کی وحد ت وجودی اور محمد صاحب کی رسالت پر اور انتظام قطبیہ پر ہے۔ہم مسیح یوں کہیں گےکہ ہمارا ایمان تمام سچے پیغمبروں کی کتابوں میں سے ہے۔نہ کہ آدمیوں کی حدیثوں اور اقوال میں سے۔اور خدا کی وحدت اور تثلیث مجید پر ہےاوراس بات پر ہے کہ یسوع مسیح ابنِ اللہ اور ہمارے گناہوں کاخداکی طرف سےبھیجا ہوا کفارا ہے۔اوراسی کے ہاتھ میں سب کچھ ہے۔لفظ کہاں سےمیں ہم یہ ڈھونڈتے ہیں کہ آیا ماخذایمان معتبر ہے یا نہیں اور لفظ کیا میں ہم یہ تلاش کرتے ہیں کہ وہ چیز جو روح میں رکھی جاتی ہے۔ اس کی ابدی زندگی کے لیے مفید ہےیا نہیں۔پس ہمارے ایمان کو اور اس کے ماخذ کو اور اپنے ایمانوں کو ان کے ماخذوں کو دیکھ کر آپ ہی انصاف کرسکتے ہیں کہ صحیح ایمان کیا ہے؟

صوفیہ وغیرہ کا ایمان نہ روح کی مرضی کے مناسب ہے اور نہ اس کا ماخذ معتبر اس لیے ان کی بنیاد خام رہتی ہے اسی بنیاد خام پر وہ ان پانچ باتوں پر زور دیتے ہیں جن کا اب میں ذکر کرتا ہوں۔

(۱)یہ وہ سچ کتے ہیں کہ اعتقاد واثق چاہیےلیکن سچائی پر اعتقاد واثق چاہیے۔ناکہ باطل بات پر صرف اعتقاد واثق میں ہی خوبی نہیں ہے خوبی سچائی میں ہے۔ بعض بت پرستوں اور جاہل آدمیوں نے غلط باتوں پر اعتقاد واثق رکھ کر جان نثار کی ہے۔تو کیا ان کا بھیلا ہو جائے گا؟ہرگز نہیں۔یہ قول بالکل غلط ہےکہ پیر من خس است اعتقاد من بس است۔

(۲)وہ خلوص کا ذکر بہت کرتے ہیں۔فی الحقیقت خلوص عجیب نعمت ہے۔اور ہر حال میں مفیدہے۔مناسب ہے کہ آدمی بےریا ہو کر پاک نیت سے خدا پرستی اور سب کام دنیاوی بھی کیاکرے۔اس سے کامیابی ہوتی ہے۔لیکن جب خلوص کے ساتھ پتھر بھی پوجےاور ہدایتِ الٰہی کے خلاف راہ اختیار کرے تو اور مکروہ و باطل عقائد میں خلوص کے در پہ ہو تو خلوص سے کیا نکلے گا؟یہی کہا جائے گا کہ یہ آدمی تو نیک نیت ہے مگر نادانی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔کبھی کبھی ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ باخلوص لوگو ں پر خدا کی مہربانی ہوئی ہے۔اوروہ مہربانی یہی ہوئی ہے کہ انھیں راہ راست کی طرف ہدایت کےلئے بعض وسائل بخشے گئے ہیں۔اور ان کی دانانی ان پر ظاہر کی گئی ہے۔اور دکھلایا گیا ہے کہ جہاں سے تم کچھ ڈھونڈتے ہووہاں سے کچھ نہیں مل سکتا ۔مسیح خدا وند کی طرف جاؤ وہاں سے سب کچھ پاسکتے ہو۔پس اگر وہ مسیح کی طرف آئیں تو سب کچھ پاتے ہیں۔ورنہ اپنے خلوص کا ٹوکرا سر پراٹھا کر جہنم میں جانا ہوگا۔

(۳)فروتنی اور خاکساری بھی خوبی کی صفتیں ہیں۔اور دل کی درستی کے نشان ہو سکتے ہیں۔جب کہ سچی خاکساری ہو ورنہ ہوسکتا ہے کہ ظاہر میں فروتنی ہو اور باطن میں پوشیدہ غرور ناپاک مطلب بھرے ہوں۔بعض لوگوں نے فروتنی کو اس لیے اختیار کیا ہے کہ لوگوں سے ان کی تعریف ہواور ان کے بہت دوست اور مرید ہو جائیں۔ایسی فروتنی ناپاک مراد کے ساتھ غیر مفید اور بلکہ عین گناہ ہے۔حقیقیحقیقی فروتنی وہ ہےجس کا ذکر مسیح خداوند نے کیامبارک ہیں وہ جو دل کے غریب ہیں۔خواہ بظاہر شان و شوکت میں ہوں لیکن اندر دل غریب ہے۔ایسے لوگوں کے ساتتد برکت کا وعدہ ہے۔

(۱)صوفیہ کا ریاضت پر بہت زور ہے۔اور اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جب کوئی آدمی دنیاسے الگ ہو کر ریاضیت و عبادت میں مشغول ہوتا ہےتب وہ بہت ہی جلد پیر بن جاتا ہےاور احمق لوگ ریاضت پر فریفتہ ہو کر اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔اوراس کے لیے کرامتیں تصنیف کرڈالتے اورچرچے اڑاتے ہیں۔یہ سب پیر اسی طرح سے پیر مشہور پوتے ہیں۔اوراب بھی اگر کوئی چاہے کہ میں پیر بن جاؤں تو وہ دو کام کرےاول وہ ایسی جگہ جائے جہاں بہت زیادہ جاہل ہوں۔وہاں بیٹھ کر دنیا سے کچھ نفرت دکھائےاور ریاضت کرے۔پھر دیکھو کہ وہ جلد پیر بن جاتا ہےنہیں۔ہندوں اور مسلمان فقیروں نے ریاضت ہی دکھلاکر جاہلوں کو اپنی طرف کھینچا ہے۔لیکن دانشمند لوگ صرف ریاضت پر ہی فریفتہ نہیں ہوتے۔دیکھو رسول کیا فرماتا ہے(فلپیوں۔۔۔۲۔۲۳) یہ چیزیں تو ایجاد کی ہوئیں عبادت اور خاکساری اور بدنی ریاضت اور تن کی عزت نہ کرنا کہ اس کی خواہشیں پوری ہوں حکمت کی صورت رکھتی ہے۔

صورت بغیر جان کے مردہ ہے۔دانشمند جان کی تلاش کرتا ہے۔نہ کہ صرف صورت کی۔مگر جاہل صرف صورت پر فریفتہ ہوتے ہیں۔پھر رسول بتلاتا ہے۔کہ ریاضت کی دو قسمیں ہیں۔ایک بدنی ریاضت ہے اوردوسری دینداری کی ریاضت (۱ تمطاؤس ۴۔۷، ۸) بے ہودہ اور بوڑھیوں کی کہانیوں سے منہ موڑ اور دینداری میں ریاضت کر کہ بدنی ریاضت کافائدہ تھوڑا ہے۔پر دینداری سب باتوں کے واسطے فائدہ مند ہے۔کہ اب کی اور آیندہ کی زندگی کاوعدہ اسی کے لیے ہے۔وہ ریاضت جو دینداری میں ہے۔اس کا علاقہ ایمانِ بر حق اور تمام صحیح عقائد اور حقیقی نیک اعمال اور حمیدہ اخلاق ہےاور بدنی ریاضت کا علاقہ ان جسمانی تکلیفات کی برداشت سے ہے۔جو امور ایجادی ہیں انسانی تجویز سے ہیں۔صوفیہ میں اور ہندو فقیروں میں بدنی ریاضت بہت ہوتی ہے۔لیکن دینداری کی ریاضت صرف ان حقیقی مسیحیوں میں ہے جو خدا کے کلام پر چلنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ان کو دنیا کے درمیان سب معاملات میں رہ کر بڑی نفس کشی کرنی پڑتی ہے۔اور یہی ریاضت مفید و آفرین کے لائق ہے۔

(۲)اور یہ جو ترک دنیا کا ذکر وہ کرتے ہیں۔یہ مضمون بھی سخت غورِ طلب ہے۔ترک دنیا کی دو صورتیں ہیں۔اول دنیا کی محبت اور خدمت دلوں میں ایسی غالب نہ رہے کہ خدا کی محبت اورخدمت میں قصور آجائے۔دنیا کے سب مناسب کاروبار اور اہلِ رشتہ کے حقوق خدا کے حکم سے اور عقل کے حکم سے فطرت کے موافق پورے کرنا انسان کا فرض ہے۔اور ایسا فرض ہے کہ اس میں قصور آئے تو آدمی خدا کا گناہگار ہوتا ہے۔اور وہ اس میں ایسادھسے کہ خداکی محبت اور خدمت میں قصور آئے تو وہ ملعون ہوتا ہے۔اس کو ضرور ہے کہ وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو پورا کرے۔پس جب ہم ترکِ دنیا کا ذکر سنتے ہیں تو یہی مطلب ہمارے خیالوں میں آتا ہے۔کہ دنیا کی محبت خدا کی محبت پر غالب نہ آجائے۔جیسے سب دنیا داروں کی کیفیت ہے۔یہ ہم ہرگز نہیں سمجھتے کہ دنیا کے سب کارو بار کو چھوڑ کر ہمیں جنگلوں میں جانا ضرور ہے۔یہ دنیا کو ترک کرنے کی دوسری قسم ہے۔لیکن اس قسم میں حقوق العباد متعلقہ فوت ہوتے ہیں۔اور خدا کی اور عقل کی اورفطرت کی نافرمانی ہوتی ہے۔پھر ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم ایسے نافرمان ہو کر کیونکر خداسے برکت پائیں گے؟کیا وہ اپنےنافرمانوں کو اپنا دوست سمجھے گا؟

صوفیہ نے یہ سمجھ لیا ہے کہ دنیا سے مطلقاً بھاگنا خدا پرستی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صورت گناہ کی ہے۔مخالفوں کے درمیان کھڑا رہ کر اور جنگ کرکے فتح یاب ہونا بہادری ہے یا مخالفوں کے ڈر سے دور بھاگ جانا اور کہنا کہ میں دشمنوں سے جان بچا کر بھاگ آیا ہوں۔اس لیے میں بہادرہوں۔اب فرمایئے کہ بادشاہ کون سے سپاہی سے کہے گا کہ تو بہادر تیرے لیے انعام ہے پہلا شخص مسیحی ہے اور دوسرا صوفی ہے۔

۱۸۔فصل علم سینہ اور سفینہ کے بیان میں

لفظ سفینہ کے معنی ہیں بیاض اشعار یعنی شعروں کی کتاب اور کشتی کور بھی سفینہ کہتے ہیں۔علمِ سفینہ بااصطلاح صوفیہ وہ علم ہے جو کتب میں مرقوم ہے۔اور اس سے محمدی شرع کی کتابوں پر اشارہ ہوتا ہے۔

علم سینہ ان کے گمان میں وہ باتیں ہیں جو محمد صاحب سے اور صوفی بزرگوں سےسینہ بہ سینہ یعنی خفیہ تعلیم سے ان میں آئی ہیں۔ان باتوں کو وہ چھپا کر رکھتے ہیں۔اور خاص مریدوں کو سکھلاتے ہیں۔اور علم سفینہ کی نسبت اس علم سینہ کی بڑی عزت کرتے ہیں۔گویا اصل معرفت یہی ہے۔مراد یہ ہے کہ محمد صاحب کی عام اور علانیہ تعلیم تو قرآن و حدیث ہےاور خفیہ تعلیم صوفیہ کے پاس پوشیدہ ہے۔

نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت نے دوطرح کی تعلیم دی ہےعلانیہ اور خفیہ۔علانیہ میں کچھ اور ہے خفیہ میں کچھ اور ہے۔اور یہ بات عدم صفائی اور فساد کی ہے دنیاوی مزاج لوگ جن کے دلوں میں اور کاموںمیں صفائی نہیں ہے۔وہ ایسے کام کرتے ہیں کہ خدا کے پیغمبروں نے ایسے کام نہیں کیے۔جو کچھ انہوں نے خدا سے پایاجہاں کے سامنےعلانیہ رکھ دیا تاکہ اہلِ دنیا ان باتوں کو پرکھیں۔مسیح خداوند نےصاف فرمایا کہ (یوحنا ۱۸۔۲۰)میں نے آشکارا عالم سے باتیں کیں۔میں نے ہمیشہ عبادت خانوں اور ہیکل میں جہاں سب یہودی جمع ہوتے ہیں تعلیم دی اور خفیہ کچھ نہیں کہا۔

دیکھو یہ کیسی صفائی کی بات ہےاب کوئی مسیحی یہ نہیں کہ سکتا ہےمجھے کچھ خفیہ تعلیم مسیح سے پہنچی ہے۔پھر یہ کیا بات ہے کہ محمد صاحب سے شرعی تعلیم علانیہ اور تصوفی تعلیم خفیہ ہوتی ہے۔اُسپر لطف کی بات یہ ہے کہ جو کچھ صوفیہ کے پاس خفیہ تھا وہ سب ظاہر ہو گیا اور ان کی کتابوں میں مرقوم ہے۔پس وہ خفیہ اب خفیہ نہ رہااور ظاہر ہو گیا۔کہ اس میں بہت کچھ تعلیم علانیہ کے خلاف ہے۔اور دانش مند کے سامنے نہ اس علانیہ کا اعتباررہا نہ اس خفیہ کا بلکہ معلم کی چالاکی ثابت ہوئی اور نقادوں کو معلوم ہو گیا کہ نہ علانیہ میں زندگی ہے اور نہ خفیہ میں۔

اس وقت شاید کوئی محمدی صاحب کہیں حضرت محمد صاحب نے خفیہ کچھ نہیں سکھلایا ہے۔صوفی لوگ حضرت پر تہمت لگاتے ہیں جو ان کی خفیہ تعلیم کے قائل ہیں۔اس لیے مجھے یہ بتلانا بھی واجب ہے کہ حضرت میں کچھ خفیہ تعلیم کی عادت تو تھی خلافت کا انتظام حضرت علی کے ساتھ تو خفیتہً کچھ اور کیااور ابو بکر کے ساتھ کچھ اور کیا اور اس خفیہ بندو بست سے کس قدر فساداور خون ریزی اور امت میں تفرقہ پڑااگر آنحضرت اس خلافت کا انتظام صاف صاف قرآن میں کہہ دیتے تو کاہے کو وہ فساد ہوتے؟اور کیوں یہ سنی شعیہ بنتے؟دیکھو مسیح نے پطرس کے حق میں صاف صاف کہہ دیا تھا(متی ۱۶: ۱۸سے ۲۰، یوحنا ۲۱: ۱۵ سے ۱۷ اور ۲۳) کہ تو میرے پیچھے ہولے صاف ظاہر ہے کہ اس وقت وہ کلیسیا کے انتظام کے لیے مقررہو گیا اور سب حواری خاموشی سے اس کے پیچھے ہو لیے ہیں۔محمد صاحب نے ایسانہیں کیا ۔بلکہ اس کو کچھ خفیہ کہہ کر فساد برپا کردیا میری اس سے صرف یہ غرض ہے کہ خفیہ تعلیم کی عادت توتھی کیا تعجب ہے کہ تصوفی خیالات کی جڑ خفیہ سکھلائی ہو۔

۱۹۔ فصل بیعت یعنی پیری مریدی کے بیان میں

بیعت کی اصل یہ ہےکہ ۱۰ ہجری میں جب محمد صاحب مکہ میں آئے اور بت پرست قریشیوں کا غلبہ تھااور یہ غلط بات مشہور ہو گئی تھی کہ عثمان قریش کے ہاتھ سے مارے گئے ہیں۔ تو حضرت نے ہمراہی مسلمانوں کو جمع کرکے اس ارادے سے کہ وہ بہاورانہ لڑیں گے۔ایک ایک کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر گویا قسم لی تھی کہ وہ بے وفائی نہ کریں گےاس کا ذکر سورہ فتح کے پہلے رکوع میں ہے۔پیچھے یہ بیعت کادستور مسلمانوں میں جاری ہو گیا۔علمہ محمدیہ اور احکام اس کو عمل میں لانے لگے۔صوفیہ نے اس دستور کو اپنی طرف کھینچ لیااور پیری مریدی میں جاری کیا یہ عہد بندی کا دستور ہےجو دنیا کے اقوام میں اور شکلوں میں چلا آتا ہے۔

بیعت لفظ بیع سے ہےفروخت کرنا گویا وہ خود کو پیر کے ہاتھوں فروخت کرتے ہیں۔کہ بالکل تیری تابعداری کریں گے۔ہم مسیحی بھی مسیح کے ہاتھوں فروخت ہوئے ہیں۔اس قیمت پر جو اس نے ہماری جانوں کے لیے اپنے کفارے میں دی ہے۔لیکن صوفی لوگ پیروں کے ہاتھو ں مفت فروخت ہوتے ہیں۔اور انہوں نے ان کے لیے کچھ نہیں کیا۔صرف اس امید پر کہ کوئی خفیہ تعلیم تصوف کی شاید کبھی بتلائیں گے۔

پیر یا شیخ بڈھاآدمی ہے جو پچاس برس سے گزر گیاہوا صطلاح صوفیہ میں پیر وہ آدمی ہے جو شریعت طریقت حقیقت کی باتوں میں پورا ماہر ہو اور جانوں کے امراض سے واقف اور شفا بخشنے پر قادر ہو۔اس اصطلاح کے موافق صوفیہ میں ایک پیر بھی نہ ملے گاتو یہی وہ فرض کرتے ہیں کہ فلاں شخص ایسا ہے کہ ایسا شخص تو صرف ایک ہےیعنی یسوع مسیح جو خدا کی مرضی سے کامل واقف ہےاور ہماری جانوں کے امراض سے خبردار ہے اور شفا بخشنے پر قادر ہے۔

قطب بختیارا دشی کاکی فرماتے ہیں کہ پیر وہ ہے کہ جو اپنی باطنی نگاہ کی قوت سے دنیا وغیرہ کا زنگار اپنےمرید کے دل پر سے دور کردے تاکہ کچھ قدرت وغیرہ نہ رہے۔

سید محمد سینی گیسودراز کہتے ہیں کہ پیر وہ ہے جس کو کشف قبور و کشف ارواح ہوا کرتاہو۔اور جس کی ملاقات ارواح انبیا سے ہوا کرتی ہواور افعال صفات الہیہ کی تجلی اور ذات باری تعالیٰ ظہور حاصل ہو یہ سب باتیں صرف مسیح میں ہیں اور کسی میں نہیں مجمع السلوک میں لکھا ہے کہ پیر وہی ہے جو شرع پر مستقم ہو۔اور کچھ ہو نہ ہو شرع الہٰی پر کامل طور پر چلنے والا اور اس کو مکمل کرنے والاصرف یسوع مسیح ہےاور کوئی نہیں۔

اس لیے ہم مسیحی کسی پیر مرشد کی تلاشش میں ہرگز نہیں رہتےہم سب کا ایک ہی پیر مرشد ہے یعنی یسوع مسیح جو ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔اور قادر خدا اور کامل انسان ہے۔ہمارے درمیان بعض ایسے بزرگ مسیحی بھی ہیں جو یقیناً خدا کے دوست ہیں۔اور ہر وقت خدا کی حضوری میں رہتے ہیں اور بابرکت ہیں۔ہم مسیحی ان کی عزت کرتے اور انہیں بزرگ سمجھتے ہیں اور ان کے نیک نمونے اور چال چلن میں اور عبادات میں دیکھتے اور سیکھتے ہیں۔اور ان کی تعلمات سے فائدہ اٹھاتے اوران کو اپنے لیے خدا کی بڑی بخشش سمجھتے ہیں۔لیکن ہم کسی کو اپنا پیر و مرشد نہیں بناتے وہ اور ہم سب پیر بھائی ہیں کیونکہ اپنی روحوں کو سوائے مسیح خداوند کے کسی اور آدمی کے ہاتھ میں سوپنا عقلاً نقلاً ناجائز ہے۔

پھر صوفی کہتے ہیں کہ مرید کو پیر کی نسبت اعتقاد میں مضبوط ہونا اور اطاعت بلا حجت کرنا چاہیے۔ورنہ کامیاب نہ ہو گا۔چنانچہ وہ کہتے کہ پیر من خس است و اعتقاد و من بس است یہ قول تجربہ اور عقل اور کلام اللہ کے خلاف ہے۔اگر خوبی صرف اعتقاد میں ہے تو خوبی ہم میں ہوئی نہ کہ پیر میں کیونکہ اعتقاد ہمارا فعل ہے۔ہم خوب جانتے ہیں کہ خوبی صرف خدا میں ہے۔نہ کسی آدمی میں نہ کسی آدمی کے فعل میں۔ہاں اعتقاد گویا ایک ہاتھ ہے جو بھیک مانگنے کے لیے خدا کےآگے پھلایا جاتا ہے۔اگر ہم آگ کی نسبت اعتقاد کریں کہ وہ سرد ہے۔یا سانپ کی مانند کہ کہ وہ گوگا پیر ہے۔تو یہاں سے کیا نکلتا ہے جلنا اور بت پرستوں نے بتوں پر اعتقاد کرکے کیا نکالا یہ کہ خود پتھر ہو گئے۔پس اعتقاد نے ان کے لیے وہی چیز نکالی جو وہاں تھی صوفیہ نے مردوں اور قبروں پر ایمان باندھا وہاں سے کیا پایا؟یہ کہ دلوں میں زیادہ مردگی چھا گئی تمیزیں سن ہوگئیں۔

ہاں اگر وہ زندہ خدا پر اور اس کے کلام پر بھروسہ یا اعتقاد کرتے اورتو زندگی اور روشنی روحوں میں آجاتی۔جیسے حقیقی مسیحیوں کے دلوں میں آگئی ہے۔کیونکہ جس چیز پر دل ٹکتا ہے وہ اسی چیز کا اثر دل میں ہوتا ہے۔اور وہ جو کہتے ہیں کہ پیر کی اطاعت ہر امر میں بلا حجت کرنا چاہیےاور یہ شعر سناتے ہیں کہ

بمے سجادہ رنگین کن گرت پیر مغان گوید

کہ سالک بے خبر بنود زراو رسم منزلہا

اس بارے میں ہم یوں کہتے ہیں کہ صرف پیغمبروں کی اطاعت بلاحجت فرض ہےکیونکہ وہ خدا کی طرف سے ہادی اور معلم ہیں۔سوائے پیغمبروں کے اورکسی کی اطاعت بلا سمجھے ناجائز ہے۔کسی پیر فقیر اور پنڈت اور مولوی اورکسی پادری کا یہ منصب نہیں ہے کہ اس کی اطاعت بلا حجت کی جائے جب وہ کچھ کہے گا تو ہم سوچیں گے کہ خدا کے کلام کے موافق کہتا ہے کہ یا نہیں اگر نہیں تو اس کی ہرگز نہ مانیں گے کیو نکہ ہم خدا کےفرمانبردار ہیں نہ کہ کسی آدمی کےاور ہم نے خداسے بیعت کی ہے۔نہ کہ کسی پیر سے۔

۲۰۔فصل تصور شیخ کے بیان میں

سب صوفی اس بات کے قائل ہیں کہ تصورِشیخ ابتدا میں مرید کے لیے ضرور ہےیعنی خیال کے وسیلے سے پیر جی کی صورت اپنے دل میں قائم کرنا اور ایسا قائم کرنا کہ گویاوہی صورت اس کا معبود ہے۔اور یہ شعر سناتے ہیں کہ

چون دیدہ عقل آمد اَحول


معبود تو پیر تست اول



حضرت مجدد صاحب اپنی جلد ثانی کے ۳۱ مکتوب میں اور حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی کتاب قول جمیل میں اس کی تعلیم دیتے ہیں اور کتاب رشحات کی فصل اول مقصد دوئم رشحہ چہارم میں ایک آیت قرآنی یعنی سورہ توبہ کی ۱۱۹آیت(وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ)کی تفسیر خواجہ احرار سےیوں منقول ہےکہ صادقین کے ساتھ ہونا دو معنی رکھتا ہے۔

اول مجالست جسمانی۔دوئم باطنی تصورات پس دیکھو کہ یہ صوفی قرآن کے مطالب کو کس ظلم اور زبردستی سے اپنے مطلب پر کہنچتے ہیں با لکل نیچریوں کی تفسیروں کی مانند یہ تفسیر ہے۔عقل اس تفسیر کو قبول نہیں کر سکتی۔ میں پوچھتا ہوں کہ اس تعلیم میں اور بت پرستی میں کیا فرق ہے؟ حضرت مرزا مظہر جان جانان سے کتاب معمولات مظہر یہ میں منقول ہے کہ نواب مکرم خان نے اپنے پیر خواجہ محمد معصوم صاحب کی خدمت میں خط لکھا اور کہا کہ آپ کی محبت خدا و رسول کی محبت پر غالب آ گئی اور میں اس سے شرمندہ ہوں۔پیر صاحب نے جواب دیا کہ پیر کی محبت عین خداا و رسول کی محبت ہے۔اور پیر کے کمالات مرید میں آجاتے ہیں۔یہ تو سچ ہے کہ جب پیر معبود ہو گیا تو جوکچھ پیر میں ہےاس میں تاثیر کرے گا۔جیسے بت پرستی سے سنگدلی اور خدا پرستی سے زندگی حاصل ہوتی ہے۔لیکن پیر صاحب میں کیا ہے صرف ہمہ اوست کا خیال ہےکہ ویسے ہی یہ ہو جائیں گے۔ہم جانتے ہیں یہ سب بدعتی لوگ خدا اور انسان کے درمیان بعض جسمانی وسائل قائم کرتے ہیں۔لیکن خدا کے کلام میں صاف لکھا ہے کہ خداایسے پرستاروں کو چاہتا ہے کہ جو روح اورراستی سے پرستش کرتے ہیں۔مگر یہ تصور شیخ کی وہی بات ہے کہ ہے جیسے بت پرست لوگ بت کو اپنے اور حقیقی خدا کےدرمیان قائم کرتے ہیں۔

۲۱۔فصل نفی اثبات کےبیان میں

دوسری تعلیم جو پیر لوگ مرید کو کرتے ہیں نفی اثبات کا ذکر ہے یعنی لاالہ الااللہ کا ذکر لا الہ میں نفی ہے اور الا اللہ میں اثبات ہے۔

طریقہ اس کا یوں بتلاتے ہیں کہ آدمی وضو کرکے رو بکعبہ چار زانو یا دو زانو بیٹھے اور آنکھیں بند کرکے صنوبری قلب کی طرف متوجہ ہو اور سانس کو ناف کے نیچے بند کرکے لفظ لا کو ناف سے دماغ کی طرف سانس میں کھینچے اور وہاں سے لفظ الہ کو دہنے کولہے کی طرف لائےپھر یہاں سے لفظ الہ اللہ کو سانس کے زور کے ساتھ دل کے گوشت پر ایسا زور سے مارے کہ سارے بدن میں صدمہ پہنچے۔اگر آواز ہوں ہوں کی نکلے تو ذکر جہری جو قادریوں کا دستور ہےہوگیااور جو آواز مطلق نہ نکلے تو ذکر خفی نقشبندیہ کا طور ہےاور یہ ضرب کہلاتی ہے۔اسی طرح جس قدر چاہے دل پر ضربیں لگائے۔

مگر یہ ضرور ہے کہ لفظ لا الہ میں کل محدثات کی نفی کا اور لفظ لاالہ میں اثبات ذات حق کا خیال پختہ رہے یعنی جہاں کی سب چیزیں نیست ہیں صرف خدا موجود ہے۔

صوفی لوگ ابتدا میں اس ذکر کی خوب مشق کرتے ہیں اور خاص وقت پر اکھٹے ہوکر اکثر ایسا کام کرتےہیں اور ہر وقت چلتے پھرتے سانس میں یہ ذکر چلا جاتا ہے۔اور اس میں مشتاق ہوجاتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ دل میں اس سے کچھ نور چمکےگالیکن کبھی کچھ نہیں چمکتا۔

یہ ہمہ اوست کے خیال کی ابتدا ئی مشق ہے۔اور یہ محمد صاحب کی تعلیم نہیں ہے۔بلکہ محمد صاحب کی مراد کے خلاف ہےفقرہ لالہ الاللہ میں محمد صاحب نے غیر معبودوں کی نفی کرکے باری تعالیٰ کے وجودِحق کا اثبات کیا ہے۔جو ایک دفعہ سمجھ لینا کافی ہے۔صوفیہ نے زیادتی کرکے لااللہ میں کل محدثات میں نفی اقرار دی ہے۔پس غیر معبودوں کی نفی کو کل محدثات کی نفی اقرار دینا محمد صاحب کی مراد کے خلاف ہےاور عقل کے بھی خلاف ہے بلکہ کفرہے۔

اور اس سےفائدہ کیا ہوتا ہے؟کثرت ضربات دل کمزور اور ناتواں ہو جاتا ہے۔بلکہ بعض اوقات دلی بیماریاں لا علاج پیدا ہوجاتی ہیں۔اوراس سے جنون بھی ہوتا ہے۔جس کو وہ لوگ جذبہ الہٰی سمجھتے ہیں۔یہ جذبہ الہٰی نہیں ہےاور نہ اس میں کلمہ کی کچھ تاثیر ہے۔یہ تو صرف سانس کے رگڑوں کی تاثیر ہےجو حرارت پیدا کرتی ہے۔اگر کلمہ کو درمیان سے نکال کر بے معنی جلد جلد بزور سانس لیں تو بھی وہی کیفیت پیدا ہوتی ہےکیونکہ یہ برقی حرارت ہے جو سب جسموں میں موجود ہےاور رگڑ سے محسوس ہوتی ہے۔

اوراس سے وجد بھی آتا ہے جب کہ صوفی صاحب کسی قبر پر بیٹھ کر اندر ہی اندر ضربات خفیہ کی حرارت پیدا کرتے اور اوپر سے ڈھولک کی تان اور راگ کا لطف اور قوالوں کی ٹپاٹپ تالیاں تاثیر کرتی ہیں تب وہ کودنے لگتے ہیں اور لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے دل میں کچھ ظاہر ہوا ہے۔پس یہ نفی اثبات کچھ پسند کے لائق چیز نہیں ہے۔ہم صرف ایمان کی آنکھ سے سچے خدا کی طرف دیکھتے ہیں اور اس سےہمارے دلوں میں الہٰی محبت جوش مارتی ہے۔تب ہم سب نیک کاموں کے لیے مستعد ہوتے ہیں نہ کہ کودنے کے لیے۔

۲۲۔فصل حبس کے بیان میں

تیسری تعلیم صوفیہ کی حبس ہے۔ جب وہ دیکھتے ہیں نفی اثبات کے ذکر سے دماغ میں خلل نہیں آیا تب حبس یعنی سانس گھوٹنے کی تعلیم دیتے ہیں۔

طریقہ اس کا یہ ہے کہ خلوت میں اکیلا دو زانوں میں بیٹھے اور دونوں ہاتھوں کے دونوں انگوٹھوں سے کانوں کے دونوں سوراخ بند کرکے اور انگوٹھوں کے پاس والی دونوں انگلیوں سے دونوں آنکھیں بند کرے اور درمیانی دو انگلیوں سےدونوں سوراخ ناک کے دباکر بند کرے پھر دو انگلیوں سے اوپر کے ہونٹ اور دو سے نیچے کے ہونٹ خوب دباکر بند کرےایسا کہ سانس لینے کی جگہ کہیں نہ رہےاس وقت خیال میں گدی کی طرف متوجہ ہو کیونکہ روح ان کے گمان وہاں رہتی ہے۔اور اب جو ہوا سانس کے اندر بند ہو گئی ہےاس سے ذکر نفی اثبات کا دل میں جاری کرے جب تنگ ہو کے جان اندر سے گھبرائے تو ہاتھ ہٹا کر سانس لینا چاہیےپھر اسی طرح بند کر لینا ۔ہر روز ایسا کرنے سے سانس گھوٹنے کی عادت بڑھتی جائے گی۔یہاں تک کہ دیر دتک سانس گھونٹا کرے گا۔یہ ایسی مشقت ہے کہ ایامِ سرما میں عرق آجاتاہےاور رگوں اور پٹھوں میں تشنج اور عضا رئیسہ کے فطری کام میں خلل آتا ہے اور اس خلل کو وہ الٰہی جذبہ سمجھتے ہیں۔یہ تعلیم ہند و جوگیوں سے صوفیوں نے اڑائی ہےاور محمدی کا کلمہ کا ذکر اس میں اپنی طرف سے ملا دیا ہے۔اورجو کچھ اس سے بدن پر تاثیر ہوتی ہےوہ اس کو کلمہ کی تاثیر سمجھتے ہیں حالانکہ وہ مشقت کی تاثیر ہے اور دیوانگی کی جسمانی تاثیر ہے وہ فضلِ الٰہی کا اثر نہیں ہے۔بعض محمدی اس طریقہ حبس کو بدعت کہتے ہیں لیکن صوفی نہیں مانتے کیونکہ ان کا اس سےبڑا مطلب نکلتا ہےمرید کی عقل مارکر جلد اسےولی بناتے ہیں۔افسوس یہ ہے کہ یہ لوگ خدا کے کلام کے پاس نہیں آتے نہ خدا کی راہوں کو دریافت کرتے ہیں۔فقیروں کے بہکائے ہوئے اِدھر اُدھر بے فائدہ مشقت کھینچتے پھرتے ہیں اور دماغی خلل حاصل کرکے سمجھتے ہیں کہ ہم خدا سے ملیں گے۔خدا کیا ہے؟اور اس سے کیونکر مل سکتے ہیں؟ اور اس سے مل کراس دنیا میں ہمیں کیا حاصل ہوتا ہے؟اور کیسی امید آئندہ کے لیے ہوجاتی ہے؟ان باتوں کو انہوں نےا ب تک دریافت نہیں کیا۔

یاد رکھو کہ سانس کی رگڑوں سےاور دم گھوٹنے سے اور کسی جسمانی زور سے خدا نہیں ملتا ۔پاک اور صحیح ایمان کی قلبی توجہ سے وہ ملتا ہےیہ بابئل کا طریقہ ہے۔

۲۳۔فصل روزوں اور شب داریوں کے بیان میں۔

روزے اور شب داریاں بجائے خود قربتِ الٰہی کے لیے مفید اور خاص قسم کی عبادات تو ہیں اور اس سےفائدہ تو ہوتا ہے۔اس آدمی کو جو فی حقیقت خدا کا طالب ہے اورسچے ایمان سےخدا کے حضور میں چلتا پھرتا ہے۔روزوں اور شب داریوں کے ساتھ جب سچی طلب اور سچا ایمان نہ ہو تو ان سے صرف جسمانی دکھ حاصل ہوتا ہے۔بعض صوفی صایم الدہر بنتے ہیں یعنی سال بھر برابر خفیہ روزہ رکھتے ہیں محمدی فقہ کے امام کہتے ہیں کہ یہ کام منع ہےمحمد صاحب نے صایم الدھر ہونے سے حدیث میں منع کیا ہے۔صوفی کہتے ہیں کہ ہم عیدیں اور تشریق من روزہ نہیں رکھتے اس لیے اس لیے ہم صایم الدہر نہیں ہیں۔اور وہ شب داریاں بھی کرتے ہیں اور بعض ان میں ایسے ہیں کہ جو خفیتہً کہ کوئی نہ جانے ساری ساری رات جاگتے کبھی آسمان کو تکتے کبھی ٹہلتے کبھی دیوار سے کمر ٹکا کر بیٹھ جاتے کبھی کبھی ساری رات کسی قبر پر بیٹھ کر اس مردہ خاک شدہ کی منت کرتےہیں کہ ہمیں بھی کچھ نعمت دے۔اگر حقیقی روزے اور حقیقی شب داریاں ہوتیں تو ضرور تقرب الٰہی ہوتا مگر وہ تو کچھ دیوانگی کی حرکتیں دکھاتے ہیں۔اس لیے ان کی شب داریوں میں سوائے نیند کی بربادی کے سبب مزاج میں خلل آتاہےصبح کو آنکھیں سرخ نظر آتی ہی۔دل کہتا ہے کہ ہم نے رات بھر خدا کی عبادت کی ہے۔ سبحان اللہ ہم کیا خوب آدمی ہیں اب ہم کوئی دن میں ولی ہوتے ہیں اور جب ہم صاحبِ تایثر ہو جائیں گے۔فلاں فلاں مخالف کا بد عا ستیاناس کردیں گے۔ہائے افسوس یہ شیطان جو ایک بدروح ہے۔انسان کے کان میں کیسا پھس پھساتا رہتا ہےاور نیک آدمیوں کے سب اعمال حسنہ کو جو وہ گر پڑکے کچھ کرتے بھی ہیں یہ برباد کردیتا ہے۔ریااور فخر اور ناپاک امیدیں اور طرح طرح کے بد منصوبے لے کر ہر عابد زاہد بلکہ حقیقی خدا پرست کے پاس بھی جاتا ہے۔اور اس کی مٹی خراب کرتا ہےوہ جس کا بھروسہ اعمال پر ہے۔ہمیشہ شرمسار اور ناامید رہتا ہے۔اور فی الواقع آخر کو شرمندہ ہو گااگر خدا صادق القول ہے۔

مگر وہ مسیحی جس کا بھروسہ صرف مسیح پر ہے اعمال حسنہ کی بربادی اپنی طرف سے اور شیطان کی طرف سے جب دیکھتا ہے اور جب بڑا زور مارکر نیکی کرتا ہے اور دیکھتا ہے کہ اس میں بھی نقصان رہا تو کہتا ہے کہ سچ ہے کہ میں اعمال سے نہیں بچ سکتا مجھے یسوع مسیح کی بڑی ضرورت ہے۔

حاصل کلام یہ ہے روزے اور شب داریاں وغیرہ عبادات اگرچہ زمانہ گزشتہ کے بزرگوں کے اطوار ہیں اور مفید بھی ہیں۔مگر باطل خیالات کے ساتھ ان سے کیا ہوسکتا ہےصرف یہ کہ روزوں سے قوت بدنی میں خلل آئے اور معدہ ضعیف ہو اور شب داریوں کی کثرت سے دماغ میں خلل اور پٹھوں میں ہل چل ہو اور اس کے اوپر سانس کی رگڑوں سے دل ضعیف ہو جائے اور حبس کی تاثیر سے مزاج بدل جائے اور یوں یہ ساری حرکتیں مل کر اسے دیوانہ سا بنا دیں اور وہ ولی سمجھا جائے ۔

ان حرکتو ں سے بعض بشدت دیوانے ہو جاتے ہیں۔دو تین شریف زادوں کے نام مجھے معلوم ہیں جوکہ انہیں حرکتوں سےپاگل ہوگئے۔اور وہ مجذوب سمجھے جاتے ہیں۔بعض میں قدرے دیوانگی آتی ہےان کو سالک مجذوب کہتے ہیں۔

پس ان باتوں کے سوا جن کا اوپر ذکر ہوا صوفیہ کے پاس اور کچھ نہیں ہے صرف یہی ان کی اصولی باتیں ہیں۔اب ناظرین انصاف سے کہیں کہ یہ ان کے طریقے خدا سے ملنے کے ہیں یا دیوانگی سے ملاقات کرنے کے ہیں؟

۲۴۔فصل چلہ کشی کے بیان میں

صوفی لوگ کبھی کبھی چلہ کشی بھی کرتے ہیں یعنی چالیس دن تک بظاہر دنیا سے الگ ہو کر کسی اپنے خاص طور کے ساتھ کوئی وظیفہ پڑھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس وظیفہ کی زکواۃ دے کر اسے اپنے قابوں میں لائیں گئے۔

اور اس چلہ کشی کے لیےموسیٰ کا چالیس دن تک پہاڑ پر رہنا اور خداوند مسیح کا دن رات کا روزہ اور جنگل میں رہنا اور محمد صاحب کا غارِ حرا میں رہنا بطور سند کے پیش کرتے ہیں۔

میں اس بارے میں یوں کہتا ہوں کہ البتہ کبھی کبھی اکیلا ہو کر خدا سے رفاقت کرنا اور دعا کے وسیلے سے ہم کلام ہونا کلام اللہ کے مطابق بزرگوں کاشیوا ہوا ہے لیکن اس پاک اصل کو پکڑ کر صوفیہ کے طور میں لانا اور قصیدہ غوثیہ یا حزب البحر وغیرہ کی فرضی زکواۃ میں وقت برباد کرنا کلام اللہ کے مناسب نہیں ہے اوراس سے روحانی فائدہ کچھ نہیں ہوتا۔

جس قدر بزرگ صوفی میری اس تحریر کو پڑھیں گے میں ان سے یوں عرض کرتا ہوں کہ آپ لوگوں نے ضرور کچھ چلے بھی کیے ہوں گے۔ خدا کے سامنے اپنی اپنی تمیزوں کو جواب دوکہ تم نے چلوں کے وسیلے سے کیا پایا ہے؟صرف یہ کہ مریدوں نے اورآس پاس کے جاہل لوگوں نے آپ کو بزرگ پیر سمجھا اور آپ کی د نیاوی دکانداری کی آمدگرم ہو گئی۔بعض خانقاہوں کی طرف دیکھو کہ وہ سجادہ نشین جنہیں تم جانتے ہو کہ زنا کار اور شراب خور اور رشوت دوست اورپورے دنیا دار ہیں۔جب کہ ان کے دادا صاحب کا عرس نزدیک آتا ہے چلہ کرتے ہیں۔کسی مکان میں الگ ہو بیٹھتے ہیں۔صرف ہم راز وہاں آتے جاتے ہیں۔تسبیح ہاتھ میں اور حقہ میں رہتا ہے۔اور دل میں یہ خیال رہتا ہے کہ اس عرس میں کتنی آمد اور خرچ کیا ہو گا۔پھرعرس کے دن چلہ سے باہر آتے ہیں اور عوام الناس پیر پوجنے کو باہر کھڑے رہتےہیں اور بڑی دھوم مچتی ہے کہ حضرت پیر جی صاحب چلہ میں سے باہر آتے ہیں۔فوراً ان کو ہاتھ لگا کر آنکھوں کو لگانا چاہیےوہ برکتوں سے بھرے ہوئے باہر آتے ہیں۔

اور بعض وہ صوفی ہیں ایسے نہیں مگر مثلِ ہندو جوگیوں کے جنگلوں میں سے چلےاور ریاضتیں کرتے ہیں۔کیا تمہارا دلی انصاف کہتا ہے کہ انکے یہ افعال اور خیالات پیغمبروں کے کاموں کے برابر ہیں؟صرف لفظ چلہ تو وہاں سےلیااور جو کچھ اس میں ہوتا ہےوہ بت پرستوں سے لیکر اس میں داخل کیا۔ پھر کہتے کہ جیسے پیغمبروں نے کیا ہم ویسے کرتے ہیں۔کیا تمہارے دلوں میں خدا کا خوف نہیں ہے۔یہ تو وہی بات ہوئی کہ جسم انسان اور روح شیطان کی۔

اب میں تمہیں ایک پاک چلہ کا طریقہ بتلاتا ہوں جیسے سچے بندگان ِ خدا نے بھی کیا ہے ۔اگر اس کو عمل میں لا ؤ تو دیکھنا کہ کیسی برکت اللہ سے پاؤ گے۔چالیس روز تک ہر روز ایک آدھا گھنٹہ پاک نیت سے خفیتہً خلوت میں جا کر خدا سے جو حاضر وناظر ہے۔اپنی اردوو زبان میں بات کیا کرواور اس سے کہو کہ اے ہمارے خالق مالک ہم گناہگاروں پر رحم کرہمارے گناہوں کو معاف کردے ہمیں اپنی راہ راست دکھا۔سب رکاٹوں کو جو تیرے پاس آنے سے روکتی ہیں۔دفع کر ہمیں اپنا خاص بندہ بنا لے وغیرہ ۔جہاں تک چاہوں باتیں کرو ۔لیکن اس چلہ کے ساتھ کچھ پرہیز بھی درکار ہے۔نہ صرف چالیس دنوں تک بلکہ ساری عمر بھر اور وہ یہ ہے کہ خدا کے ان دس حکموں پر بہت لحاظ رہے۔جوکتاب خروج کے ۲۰ باب میں مرقوم ہیں اور خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کی انگلی سےایک لوح پر لکھ کر موسیٰ کو دئیے تھے۔بلکہ ہرایک تمیز دار انسان کی روح میں وہ خداکی طرف سے جلوہ گر ہیں اور محمدی شریعت کے موافق بھی ہیں وہ یہ ہیں۔

  • تو میرے سوا کسی اور خدا نہ جاننا۔پس ہمہ اوست کو چھوڑنا ۔

  • کسی مورت کی پوجا نہ کرنا۔پس قبر پرستی اور پیر پرستی مطلق چھوڑنا ۔

  • خدا کا نام بے جا نہ لینا۔پس اللہ اللہ کرکے اور ہو حق بک بک نہ کرنا چاہیے۔

  • سبت کو ماننا۔ یہودی لوگ ہفتے کے دن کوسبت مانتے تھے۔مسیحی اتوار کو سبت مانتے ہیں۔محمدی لوگ جمعہ کو عزت دیتے ہیں۔لیکن وہ بھی مسیح کی صلیبی موت کا دن ہے۔

  • والدین کی عزت کرنا۔تعظیم اور خدمت اور اطاعت واجبہ سے ناکہ غیر واجبہ سے۔

  • خون نہ کرنا۔یہ تو خواہ مخواہ ہی مانوں گے کیونکہ خونی کو سرکار پھانسی دیتی ہےلیکن دل میں بھی کسی کی خون ریزی کا خیال نہ کرنا

  • زنانہ کرنا۔اس گناہ کے سبب سے بڑی لعنتیں خدا سے آتی ہیں۔اور خانہ خرابیاں ہوتی ہیں۔

  • چوری نہ کرنا۔خدا کو سب کچھ معلوم ہےاس سے ڈر کر ایسا کام ہرگز نہ کرنا۔

  • جھوٹی گواہی نہ دینا۔نہ صرف کچہری میں درمیان کسی مقدمہ کے مگر پیروں اور قبروں کی نسبت جھوٹی کرامتیں سنانا بھی جھوٹی گواہی ہے۔

  • غیر کی چیز کا لالچ کرنا۔اپنے حصے پر قناعت چاہیئے پس اس پرہیز گاری کے ساتھ چلہ کشی مفید ہو گی۔

۲۵۔فصل صوفیہ کے وردوظائف کے بیان میں

صوفیوں کے پاس بہت ورد وظائف ہیں جو کہ ان کے بزرگوں نے انہیں بتلائیں ہیں بعض کوئی درود پڑھتے ہیں بعض کسی قرآنی سورۃکا ورد پڑھتے ہیں۔بعض کوئی حزب البحریاقصیدہ غوثیہ وغیرہ کااستعمال کرتے ہیں۔لیکن کوئی نہ کوئی مختصر عربی فقرہ عربی کا یہ سب لوگ ہر وقت پڑھنے کے لیے پیروں سے پہنچا ہوا۔ضرور وردِ زبان رکھتے ہیں۔اور سمجھتے ہیں کہ ان عبارتوں کے پڑھنے سے الٰہی برکت آتی ہے۔یہ طریقہ قدیم پرستوں کا اور اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوتاصرف وقت ضائع اور دماغ خالی ہوتا ہے۔اور بے فائدہ بک بک میں یہ سب وظائف داخل ہیں۔مسیح نے ہمیں ان کاموں سے منع کیا ہے۔اور فرمایا ہے کہ غیر لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کی زیادہ گوئی سے ان کی سنی جائے گی لیکن تم مسیحی ایسے کام نہ کرویہ خدا کے سامنے بک بک ہےصحیح طریقہ ہے کہ کلام اللہ میں غور اور فکر کرکے خدا کی راہوں کو دریافت کرنا اور اپنی انسانی راہوں سےاس کا مقابلہ کرکے ہر روز برائی سے الگ اوربھلائی سے میل پیدا کرتے جانا یہ حقیقی وظیفہ خوانی ہے۔ناکہ ہزار دفعہ ہر روز بد ہوُ یا بد ہوَ کہنا جیسے سید میران بھیک کے مرید کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

۲۶۔فصل۔نقشبندیہ کی بعض اصطلاحات کے بیان میں۔

ان لوگوں کے پاس گیارہ لفظ ایسےعمدہ ہیں جن کے سنانے سے وہ سادہ لو حوں کے دلوں کو اپنی طرف خوب کھینچتے ہیں کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ جس آدمی میں یہ گیارہ باتیں ہوںوہ تو ضرور ولی اللہ ہوں گے۔وہ گیارہ لفظ یہ ہیں۔

وقوف قلبی وقوف زمانی وقوف عددی ہوش دروم نظر برقزم۔سفر دروطن۔خلوت درانجمن۔یاد کرد باز گشت۔نگاہ داشت۔یاداشت۔

وقوف قلبی یہ ہے کہ ذکر کے مفہوم سےذاکر کا قلب آگاہ رہے۔

میں کہتا ہوں کہ ضربوں کی دہمادم میں ذکر کا مفہوم ایسا گم ہوتا ہے کہ سوا جسمانی رگڑوں کے اور کچھ نظر نہیں آتاپھر ذکر ہوتا ہے۔لاالہ الااللہ کا جس کا مفہوم یہ ہے کہ سب جھوٹے معبود باطل ہیں خدا سچا معبود برحق ہےصوفیہ نے اس کا مفہوم ہمہ اوست نکالا ہے۔جو لفظوں سےکچھ تعلق نہیں رکھتاپھر وہ کیونکر لفظوں سے چسپاں رہ سکتاہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ وقوف قلبی یہ ہے کہ دل ہر وقت خدا کی حضوری میں رہےذکر ہو یا نہ ہو اور یہ برکت ہم مسیحیوں کو بافضلِ مسیح بلامشقت خوب حاصل ہےکیونکہ اس نے جس کے ہم مرید ہیں ہمارے دلوں میں خدا کی محبت کو جاری کردیا ہے۔

وقوف زمانی یہ ہے کہ صوفی اپنے حال سے آگاہ رہے۔کہ اس کا ہروقت اطاعت میں گزرتا ہےیا معصیت میں۔یہ کیسی بات ہے جب کہ صوفی ہمہ اوست کا قائل ہے۔اور فاعل ہر فعل کاخدا کو مانتا ہے۔اورو حدت الوجود میں غرق ہے۔پھر اطاعت اور مصیبت کیا چیز ہے۔کیا وہ ایمان لاتا ہے کہ میں فعل مختار انسان ہوں اور بدی مجھ سے ہوتی ہے نہ کہ خدا سےاگر وہ ایسا مانتا ہے تو صوفی نہیں ہے۔پھر ذکر کا فرضی مفہوم اس کے پاس کہاں ہے۔سچاو قوف زمانے سچے مسیحیوں سے ہوتا ہے۔کہ وہ ہر وقت اپنا حساب آپ لیتے رہتے ہیں۔

وقوف عددی اس کو کہتے ہیں کہ نفی اثبات کا ذکر برعایت طاق ہوا کرے جفت نہ رہے یعنی ۲۰ نر ہے اکیس بارو غیرہ ہوجائے تاکہ جفت جفت الگ کرکے آخر کو تین جو طاق ہیں باقی رہیں۔کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان اللہ وتر یحب الوتر۔اللہ طاق ہے اور طاق کو پیار کرتا ہے۔

مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں کا بیان ۔ حدیث ۸۰۸

اسماء باری تعالیٰ کو یاد کرنے کے لئے بشارت

راوی:

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " إن لله تعالى تسعة وتسعين اسما مائة إلا واحدا من أحصاها دخل الجنة " . وفي رواية : " وهو وتر يحب الوتر

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یعنی ایک کم سو جس شخص نے ان ناموں کو یاد کیا وہ ابتدا ہی میں بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہو گا۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔ (بخاری ومسلم)

یہ حدیث ہے محمد صاحب کی اور یہ مقام صوفیوں اور مسلمانوں اور مسیحیوں کے لیے فکر کا ہےکیونکہ اس میں محمد صاحب گواہی دیتے ہیں کہ اللہ طاق ہے۔محمدی صوفیوں کو چاہیئے کہ لفظ طاق کا بیان کریں کہ کیا ہے؟کیو نکہ مجرد واحد تو طاق نہیں ہوسکتا۔اوریہ حدیث معتبر حدیثیوں میں سے ہے۔اورسب اہلِ ہندسہ جانتے ہیں کہ ایک کا عدد نہ طاق ہےنہ جفت دو جفت ہے اور تین طاق ہےاورتمام محمدی فلاسفر کہتے ہیں کہ عدادنیٰ نام ہےتین کا جس کو انگریزی کالم پرائم نمبر کہتے ہیں۔ اور ہم مسیحی بہدایت کلام اللہ تعالیٰ کو طاق یعنی تثلیث سمجھتے ہیں۔اور یہ بھی سچ ہے کہ خدا طاق سے پیار کرتا ہے۔کیونکہ اس کی ذات پاک کواس سے مناسبت ہے۔اور یہی سبب ہے کہ اس کی حمد میں آسمان پر فرشتگان عدد طاق کی رعایت رکھتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ قدوس قدوس قدوس رب الافواج۔

صوفی کہتے ہیں کہ ذکر میں عدد طاق کی رعایت رہے تاکہ خدا اس کو پسند کرے۔ہم کہتے ہیں کہ ذات پاک میں بھی طاق کی رعایت رہےپس ہمارا وقوف عددی کامل ہے ناکہ ان کا انہوں نے ان اللہ وتر کو تو چھوڑ دیاجو اصلی بات تھی اوراس کی جگہ میں ہمہ اوست رکھ دیا۔لیکن یحب الوتر عمل کرنا چاہتے ہیں۔اخیر اینہم غنیمت است اس مقام کوکئی بار غورسے پڑھواور اس کا مطلب حفظ کرلو۔

ہوش دروم کے معنی یہ ہیں کہ صوفی ہر سانس سے آگاہ رہے کہ وہ غفلت میں نہ گزرے۔یہ بات محال ہے جو ہو نہیں سکتی کیونکہ غفلت جسم کا خاصہ ہے۔دیکھو خود محمد صاحب کیا فرماتے ہیں؟

مشکوۃ شریف ۔ جلد دوم ۔ استغفار وتوبہ کا بیان ۔ حدیث ۸۵۷

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توبہ و استغفار

راوی:

وعن الأغر المزني رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " إنه ليغان على قلبي وإني لأستغفر الله في اليوم مائة مرة " . رواه مسلم

ضرت اغر مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ بات ہے کہ میرے دل پر پردہ ڈالا جاتا ہے اور میں دن میں سو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں۔ (مسلم)

(انہ لیغانُ علی قلبی)میرے دل پر غفلت کا پردہ آجاتا ہے۔بندے نے اس حدیث کا بیان تعلیمِ میں مفصل لکھ دیا ہے۔اگر خوب سمجھنا چاہوتو وہاں دیکھو۔

نظر برقدم یہ ہے کہ جب صوفی کہیں اٹھ کر جائے تو اس کی نظر پیر کی پشت پر رہے تاکہ متفرق چیزوں کو دیکھنے سے طبیعت پراگندہ نہ ہواور نظر بے جا نہ ہو جائے۔پس اس بات کو پسند نہیں کرنا چاہیےکہ سب چیزوں کو جو دنیا میں ہیں دیکھیں۔خدا نے آنکھیں اسی لیے دی ہیں کہ ہم اس جہان کی چیزوں کو دیکھیں اگر ہم اللہ کے لوگ ہیں اور خدا ہمارا دوست ہو کر ہمارے ساتھ ہےتو ہم ضرور نیک نظر رہیں گے۔اگر خدا ہمارے ساتھ نہیں ہےاور زبر دستی اس کی حضوری کو اپنے خیال میں رکھتے ہیں۔تواس بناوٹ سے ہم کہاں تک نیک رہیں گے۔خواہ نظر بر قدم ہوں۔خواہ بر فلک بد خیالات ضرور دل میں پیدا ہوں گے۔

سفر در وطن۔یہ ہے کہ صفات بشریہ سے نکل کر صفات ملکیہ میں جاناصوفی لوگ توہمات میں مبتلا ہیں ہم کیونکر یقین کریں۔کہ وہ صفات بشریہ سے نکل کرصفات ملکیہ میں جایا کرتے ہیں۔یہ ہم مانتے ہیں کہ جب قیامت کے دن مومنین نئے بدن میں ہو کر مسیح میں اٹھیں گے۔تب فرشتوں کی مانند ہوں گے۔فی الحال کبھی ایسا وقت بھی آ جاتا ہے کہ خدا کی حضوری کےآثارزیادہ دلوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔اس وقت عجیب خوشی اور جلال کا سایہ دلوں میں محسوس ہوتا ہےاور حمد و ثنا کا لطف آتا ہے جو کہ بیان سے باہر ہے۔میرے گمان میں سفر دروطن یہ ہے کہ کہ آدمی ہمیشہ قدوسیت میں ترقی کرے۔اور جسمانی بد خواہشوں میں سے نکلتا رہےگویا وہ اپنے وطن کےقریب آتا جاتا ہےاور اپنی روح میں آسمانی مسافر ہےجب سفر تمام ہو گا۔تب وطن میں جا پہنچے گا۔ہاں یہ کیفیت ہمارے تجربے میں آ چکی ہےاس لیے ہم اس کے مقر ہیں۔مگر یہ بخشش صرف مسیحی ایماندار کو حاصل ہوتی ہے۔جب کہ وہ خداوند مسیح کا پیرو ہے سوائے مسیحی کے ہو نہیں سکتا کہ کبھی کسی کو حاصل ہو۔

خلوت در انجمن۔ اس کے معنی ہیں کہ بظاہر جماعت میں اور باطن خدا کے ساتھ رہنا یہ دلی حضوری کا بیان ہے۔جو کہ بہت سے مسیحیوں کو مسیح کے فضل سے حاصل ہے۔صوفیہ کو اگر کچھ حاصل ہوا بھی تو یہی ہو گاکہ وہ جماعت میں بیٹھا ہے۔اور دل میں اس کے ہمہ اوست ہے۔جو خدا نہیں ہےایسی خدا کی حضوری سے کیا فائدہ ہے کیونکہ اگر ہمہ اوست کا خیال صحیح ہو تو خلوت درانجمن تحصیل حاصل ہے۔

یادکرو۔یہ ہے کہ غفلت کو بکوشش دور کرنا ۔غفلت سے کیامراد ہے؟اگر غفلت فی الاحکام مراد ہے توفرض ہے کہ وہ غفلت بکوشش دور کی جائےاور ہم بھی اس بات میں اتفاق رکھتے ہیں۔مگر صوفیہ کی مراد یہی معلوم ہوتی ہےکہ خدا کی یاد میں اگر غفلت آئے تو بکوشش دور کرنی چاہیے۔خدا موجود ہے۔یہ خیال تو ایک ایسا بدیہی ہے کہ ہر حال میں آدمی کو یاد رہتا ہے۔لیکن ہمہ اوست کا خیال جو باتکلف ذہن میں جمایا جاتا ہےوہ ضرور خیال سے نکل بھاگنے والی چیزہے۔اس کے لیے وہ زور اورکوشش کام میں لاتے ہیں۔

باز گشت۔یہ ہے کہ پہلے روح میں اللہ کو یاد کریں پھر بزبان دل یاد کریں۔

نگاہداشت۔یہ ہے کہ کیفیت آگاہی کی حفاظت کی جائے۔

یادداشت۔یہ ہے کہ نگاہداشت میں پائداری ہو۔یہ سب کچھ بھلا ہے۔بشرطیکہ ذہن میں اس خدا کاخیال ہو جو فی الحقیقت خدا ہے۔کوئی بت پرستوں کا بت نہ ہو۔ورنہ اس کے یہ سب حجت بے فائدہ اور مضر ہو گی۔بت پرستوں نے پتھر ولکڑی وغیرہ کے خدا تراشے ہیں اور اہلِ عقل و صوفیہ وغیرہ نےخیالی خدا تراشے ہیں وہ خیالی بت ہیںحقیقی خدا وہی ہے جس کا ذکر بائبل میں ہے۔کیونکہ خدا نے خود بتلایا کہ میں کیا ہوں؟پس سچے خدا کے لیے جتنی محنت کرو گے۔پھل پاؤ گے۔اورخیالی بتوں کےلیے جو محنت ہو گی۔شرمندگی کا باعث ہو گی۔

۲۷۔ فصل لطائف خمسہ کے بیان میں

طریقہ مجددیہ والے کہتے ہیں کہ تمام عالم کی دو قسمیں ہیں۔عالم خلق اور عالم امر۔ عرش یعنی خدا کے تخت کے نیچے کا جہان عالم خلق ہے اورعرش کے اوپر کا جہان عالم امر ہےان دونوں عالموں کے مجموعہ کانام عالم کبیر ہےاور عالم صغیر ہر ایک انسان ہے۔

عالم خلق کے پانچ اصول ہیں۔یعنی نفس اور عناصر اربعہ اورعالم امر کے پانچ اصول ہیں قلب ۔روح۔سرخفنی ۔اخفیٰ پس عالم کبیر مرکب ہے۔اجزا عشرہ ہیں پھر وہ کہتے ہیں کہ جب خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے تو عالم کبیر کے سانچے پر گویا ایک عالم صغیر سا بنایاہے کیونکہ انہیں عالم کبیرکی سب چیزیں اس میں معلوم ہوتی ہیں۔پانچواں اصول عالم خلق کے اس میں ہیں یعنی اربعہ عناصر اور نفسِ ناطقہ اورپانچواں اصول عالم امر کے اس میں یوں فرض کرتے ہیں۔کہ قلب کو جو عالم امر کا ایک لطیفہ ہے۔صنوبری گوشت کے ٹکڑے میں اللہ نے رکھا ہے۔اورروح کو عالم امر کا دوسرالطیفہ ہےبائیں پسلی کے نیچے رکھا ہےاورسر کو وسطی سینہ اور روح کے مابین جگہ دی ہے۔اور خفی کو روح اور سرکے درمیان رکھا اور اخفی کو ٹھیک وسط سینہ میں رکھا دیاہے۔

پس اب کمال حاصل کرنے کے لیے اولاً قلب کی صفائی چاہیےپھر دیگر لطائف میں بذریعہ ذکر کے صفائی ہوتی رہے گی۔اور جب تمام لطائف صاف ہوں گےتب آدمی فنافی اللہ ہو جائے گا۔

میرے گمان میں یہ ان کا بیان بے اصل صرف وہم ہے۔کیونکہ وہ خوداپنے اس بیان کو نہیں سمجھاسکتے کہ یہ کیا بات ہے؟اور نہ اس کا ثبوت دے سکتے ہیں ۔ہاں عناصر کی بابت کچھ باتیں کرسکتے ہیں۔سو بھی اسی درجہ کے تک اہلِ علم نے لکھا ہے کہ مگر لطائف کی بابت جو کہتے ہیں کہ وہ وہمی بیان ہے۔عالم کبیر کو کسی بشر نے نہیں دیکھااور نہ انسان دیکھ سکتا ہے۔کون جانتا ہے کہ عالم کبیر کی کیفیت کیا ہے؟یہ علم صرف خدا کو ہے۔اور محمد صاحب فرماتے ہیں کہ (وما اوتیتم من العلم الاقلیلاً)تم کو بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔پھر ان صوفیہ نے کیونکر عالم کبیر کی کیفیت سےآگاہ ہو کر اس کا خلاصہ انسان میں پایا ہے۔خیر اس بحث کوچھوڑتا ہوں کہ انسان عالم صغیر ہے کہ نہیں۔لیکن اس بات کومانتا ہوں کہ انسان خدا کی صورت پر بنایاگیااورآزاد تھا۔اس کی وہ صورت الٰہی گناہ اور اس کے وبال کے سبب سے بگڑ گئی ہےاور وہ لعنتی ہو گیا ہے۔مسیح خداوند اس لیے دنیا میں آیا کہ فرمانبردار مومن کی بگڑی ہوئی صورت کو اپنی قدرت کی تاثیر سے بحالی بخشے اوراس پر سے لعنت کو ہٹا دے۔

یہ بھی سچ ہے کہ اولاً قلب کی صفائی چاہیے کیونکہ قلب ہر انسانیت کی انسانی زندگی کا مرکز ہے۔لیکن میرا سوال صوفیہ سے یہ ہے کہ پہلے صاف صاف ان باتوں کا فیصلہ کرو۔کہ قلب وغیرہ میں کیوں کدورت آگئی اور کیا کدورت ہے؟بگمان شماسب کچھ خدا میں سےنکلا ہے۔کیا کدورت بھی خدا میں سے نکلی ہے؟اگر وہاں سے نکلی ہے توکدورت بھی خدا ہے۔اسے کیوں پھینکتے ہو۔کیوں ریاضت بے فائدہ کرتے ہو۔ایک قدم پیغمبروں کے گھر میں دوسرا بت خانے میں رکھتے ہو۔پس تم سوچو کہ کدھر کے ہو اور کہاں کی بولتے ہو۔

۲۸۔فصل حلقہ اور توجھ کے بیان میں

سرگرم پیروں کا ایک خاص وقت خصوصاً مغرب کے بعد مقرر ہوتا ہے۔جب وہ اپنے مریدوں کو لے کر ذکر فکر میں مشغول ہوتے ہیں۔اس کو حلقہ اور توجہ کا وقت کہتے ہیں۔اور ان کے خاندانوں میں اس کے جداجدا طور ہیں چشتیوں کا اور طور ہے۔نقشبندیوں کا اور ہے۔مگر میں یہاں قادریوں کا طور بیان کرتاہوں۔کیونکہ ان کے حلقوں میں جانے کا مجھ کو اکثر اتفاق ہوا ہے۔

مغرب کی نماز کے بعد پیر صاحب ایک کوٹھڑی میں جا کرپشت بدیوار اپنی مسند پر بیٹھے ہیں۔اور میرید آتے رہتے ہیں۔چند منٹ میں سب لوگ جمع ہو کر دائرے کی شکل میں پیر کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں اوردروازہ بند کیا جاتا ہے۔تب پیر صاحب آنکھیں بند کرکے اپنے دل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔اور سب مرید پیر کے منہ کی طرف برابر تکتے رہتے ہیں اور پیر صاحب شوں شوں کی آواز سے ذکر کی دھونکنی جاری کرتے ہیں۔ جب سانس کی رگڑوں کی گرمی بدن میں آتی ہے۔اس وقت آنکھ کھول کر بائیں طرف والے مرید کو گھور کر غور سے دیکھتے ہیں۔اور شوں شوں کا جٹکا دیتے ہیں۔فوراً وہ مریدبھی اسی طرح ہوں ہوں میں ذکر جلی جاری کرتا ہے۔یعنی وہی نفی اثبات کا ذکر شروع کرتا ہے۔اور پیر صاحب پھر بطور سابق اپنے دل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔پھر آنکھ اٹھا کر دوسرے کو جھٹکا دیتے ہیں۔علیٰ ہذا لقیاس سب مریدوں سے یہ معاملہ ہوتا ہے۔اور سب مرید مع پیر صاحب گھنٹہ گھنٹہ تک ہوں ہوں کا شور کرتے رہتے ہیں۔اور عرق عرق ہو جاتے ہیں اور تھک تھک کر چپ کرتے جاتے ہیں۔جب سب چپ ہو گئے۔پیر صاحب ہاتھ اٹھا کر الحمد وغیرہ پڑھتے ہیں۔اورسب لوگ منہ پر ہاتھ پھیر لیتے ہیں۔یہ مشق ہر روز ہوتی ہے۔اس نشست کے دائرہ کا نام حلقہ ہے۔اور پیر صاحب کے گھور کر جھٹکا دینے کانام توجھ ہے۔گویا پیر صاحب اپنے اندر سے کچھ برکت نکال کر روز روز مریدوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں۔اس سے کبھی کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔اگر کہیں کچھ تاثیر ہوئی بھی ہو تو یہ نشان ولائت نہیں ہے۔بلکہ مسمریزم( mesmerism)کی بات جو مومن اور کافر سب کرسکتے ہیں۔توجھ کی صوفیہ میں بڑی عزت سمجھی جاتی ہے کہ پیر میں کچھ قدرت ہے۔وہ ہم میں اثر کرے گی۔ہمیشہ اس توجھ کے لیے کاملین کی تلاش میں رہتے ہیں۔اور کبھی دل سیر نہیں ہوتا۔میں نے اکثروں کو بڑی تمنا سے یہ شعر پڑھتے سنا۔

انانکہ خاک بنظر کمیا کنند آیا بود کہ نظر سے برمن گدا کنند

اللہ کا دروازہ چھوڑ دیا پیر وں کا دروازے پر بھیک مانگتے پھرتے ہیں جب کچھ نہیں پاتے تو کہتے ہیں کہ ہماری قسمت۔ارے نادان قسمت کیا چیز ہےتو خدا سے بھیک مانگ وہ دے سکتا ہے۔تونے بھوکوں کے دروازوں پر جا کر بھیک مانگی اور خالی آیا۔وہ جو غنی ہے اس کے دروازے پر کیوں نہ گیا؟کہ وہ تجھے سیر کرتااس کا وعدہ ہےکہ جو کوئی میرے پاس آتا میں اسے نکال نہ دوں گا۔

میں نے بھی ان صوفیوں کی بہت خاک چھانی بلکہ خاک پھانکی اُس وقت میں مسیحی دین سے ایسا ناواقف تھاجیسے اِس وقت بعض دیہاتی ناواقف ہیں میں نے سچے اعتقاد اور نیک نیتی سے ایسا کیا جیسا کرنا چاہئےمیں ہمیشہ جنید بغدادی اور بشیر حانی اور سری سقطی وغیرہ کی روشوں کو نگاہ رکہتا تھا۔اور صرف خدا سے یہ سننے کا محتاج تھا کہ تیرا انجام بخیر ہےپیربن کےروپےاور عزت لینے سے مجھے نفرت تھی۔تمام جفاکشی کے بعد مجھے یہی معلوم ہوا کہ یہ راہ خدا سے ملنے کی نہیں ہے۔اس سے صرف یہی حاصل ہوتا ہےکہ آدمی جاہلوں میں پیر کہلائے اوردنیا کمائے عاقبت کا دغدغہ روح میں سے نہیں نکلتا۔پس میں ان مشقتوں سے تھکا مانندہ اور ناامیدبلکہ متنفر ہو کر قرولی سے پانی پت میں آیا یہاں میرے ایک بزرگ مہربان مولوی عبدالسلام امام صابر بخش دہلوی کے داماد قاضی ثنا اللہ کے پوتوں میں سے تھے۔اورصوفی عالم گوشہ نشین کم گو اہلِ فکر میں سے تھے۔میں خلوت میں جا کر ان سےاس مذاق کی باتیں کیا کرتا۔اب آکر میں نے ان سے کہا کہ نہ اسلام سے میری تسلی ہوتی ہےاور نہ تصوف سے۔میں اب ان سب طریقوں کی پابندی چھوڑتا ہوں اورخدا کی تلاش دنیا کے اور فرقوں میں جاکر کروں گا۔اگر آپ مجھے بدلیل روک سکتے ہیں تو مہربانی کرکے روکیں۔نیچے سر کر لیا اور چپ کرگئے۔آخر میں سلام کرکے چلا آیاسات سال کے بعد مجھ پر یہ ظاہر ہوا کہ خدا کا دین صرف مسیحی دین ہے۔اور عاقبت بخیر اسی سے ہوتی ہے۔اس وقت میں لاہور میں تھا۔اور جب مجھ پر یہ ظاہر ہوا۔تب میں نے ہٹالہ والے صاحب سے یعنی شاہ مولوی میر احسن صاحب سےکہ صوفی عالم تھے۔یہ بھید خفیتہً وزیر خان کی مسجد واقع لاہور میں بیٹھ کر کہا کہ اگر آپ بدلیل میری تسلی کرکے مجھے مسیحی ہونے سے روک سکتے ہیں تو خدا کے لیے یہ کام کیجیے۔فرمایا کہ روکنے کی دلیلیں اور تسلی کی طاقت میں نہیں رکھتا مگر یہ کہتا ہوں کہ مسیحی ہونے سے تمہاری مولویت عزت تو جاتی رہے گی۔مسلمان گالیاں دیں گے رشتےدار چھوٹ جائیں گےاور مسیحی لوگ یعنی انگریز بھی تمہاری کچھ پرواہ نہ کریں گے۔عام مسیحیوں کی طرح مارے مارے پھرو گے۔تب میں نے کہا کہ اگر عزت و آرام کی حفاظت کرتا رہوں تو خدا ہاتھ سے جاتا ہےاور اگر خدا کو تھامتاہوں تو یہ سب چیزیں ہاتھ سے جاتی ہیں۔ایک نقصان تو مجھے بہر حال ہاتھ سے اٹھاناہے۔عقل کا حکم ہے کہ ایسی حالت میں چھوٹے نقصان کو گوارا کرنا چاہیےکہ بڑا نقصان نہ ہوپس میں سلام کرکے چل دیااور مسیحی ہوگیا۔اور میری روح میں تسلی آگئی۔کہ یقیناً میری عاقبت بخیر ہے۔اور اب جو میں دنیا میں زندہ ہوں ہزارکمزوریاں مجھ میں ہوں پرواہ نہیں ہے مسیح نے مجھے بچالیا ہے۔میں نجات یافتہ ہوں۔خدا کی اور میری صلح ہو گئی۔میرے گناہ بخشے گئے۔میں نے اپنی روح میں خدا سے فضل پایا۔ہاں دنیاوی دکھوں کی موجوں میں ہوں لیکن پر پار اتر کر خدا کے پاس آرام میں ابد تک زندہ رہوں گا۔کیونکہ خدا ہر وقت میرے ساتھ ہے۔

ناپاک دل کو تاہ اندیش بازاری مسلمانوں جوچاہا سو مجھے کہا اور بعض جھوٹے دینی بھائیوں نے بھی جو دکھ دیا میرا دل اور خدا جانتا ہے۔بلکہ جسمانی رشتے داروں سے ایذا پائی لیکن اسی صبر سے کام نکلا۔جو پیغمبروں میں تھااور خدا نے اپنے فضل سے دل میں القا کیا۔یہ سب کچھ خدا وند یسوع مسیح کی پاک توجہ سے ہوا جس نے مجھ پر رحم کیا۔۔وہ ایک ہی شخص ہے جس کی توجہ خاک سےافلاک پر پہنچاتی ہے۔وہ بات بالکل غلط ہے کہ دنیا میں ایسے کاملین بھی ہیں کہ جن کی توجہ سے بیڑا پارہوتا ہے۔پیر فقیر تو الگ رہے۔سچے پیغمبروں کی توجہ سے بھی کچھ نہیں ہوتا۔ایک ہی شخص ہے جس کی توجہ سے اولین و آخرین نے فضل پایا ہے۔بغیر اس کے فضل کے نہ کوئی ولی ہو سکتا ہے۔نہ کوئی نجات پا سکتا ہے۔نہ کسی کا دل صاف ہو سکتا ہے اور نہ ہی معرفت حاصل ہوتی ہے۔صرف اسی کی توجہ سے سب کچھ ہوتا ہے۔

وہ جو کہتےہیں کہ ہم مسیح کو پیچھے ہٹا کر صرف خدا سے فضل کے امید وار ہیں۔وہ سخت غفلت میں ہیں اور نادان ہیں۔کیونکہ خدا جس نے اپنا کلام یعنی بائبل پیغمبروں کے وسیلےسے دنیا کو یہ ثبوت دیا ہے۔وہ صادق القول اور لا تبدیل خدا ہے۔اور اس نےا س بات پر مہر کردی ہےکہ بغیر خداوند یسوع مسیح کے کوئی نہیں بچ سکتا اور نہ روحانی برکت پا سکتا ہے۔

پس اے میرے ہم ملک پیارے بھائیوں اٹھو فکر کرو اور باانصاف کلام اللہ کو پڑھوسمجھو اور سب واہیات مہلک خیالات پھینک دو اور مسیح پر ایمان لا کرپاک ہو جاؤتب خدا تمہارے پاس آئے گااورتم اس کے پاس جا سکو گے۔بغیر اس ایمان کے خدا اور انسان میں دشمنی رہتی ہے۔اور کسی بات پر الٰہی توجہ نہیں ہوتی حقیقی حلقہ خدا کی کیتھولک کلیسیا ہےاور حقیقی توجہ خداوند یسوع مسیح سے ہوتی ہےاس بات پر بہت سوچو۔

۲۹۔فصل مراقبہ کے بیان میں

لفظ مراقبہ اگر رقابت سےہے تو محافظت کے معنی میں ہےاور جو رقوبت سے ہےتو انتظاری کے معنی ہیں۔صوفیہ مراقبہ بہت کرتے ہیں۔گھروں میں، مسجدوں میں،جنگلوں میں اور خصوصاً بزرگوں کی قبروں پر بیٹھتے ہیں۔اور آنکھیں بند کرکے لطائف خمسہ میں سے کسی لطیفے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔زیادی تر قلب کی طرف۔اور اس کام کی طرف مستغرق ہو جاتے ہیں۔اس امید سے کہ اندر کچھ روشنی نظر آئے گی لیکن اندر کیا ہے صرف اندھیرا۔

جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ میں نے مراقبہ کا عمدہ طور بلی سے سیکھا ہے۔وہ چوہے کے سوراخ پر ایسی دبکی لگا کر بیٹھی تھی کہ اس کا بال تک نہی ہلتا تھا ۔مجھے خیال آیا کہ مراقبہ اسی طرح چاہیے۔پس میں ایسا ہی مراقبہ کرنے لگا۔(از معمولات مظہریہ)

معلوم ہو جائے کہ کسی آدمی کے اندر کچھ روشنی نہیں ہے۔صرف گناہ،ناپاکی اور تاریکی ہے۔اگر روشنی دیکھنا چاہتے ہو توکلام اللہ کے مضامین میں فکر کروزندگی کا نور وہاں سے دیکھو گے۔اور اگر چاہو کہ وہ نور ہم میں جلوہ گر ہو تو ایمان کے ساتھ خدا کے احکام بجا لانےاور دعا سے یہ ہو گا۔اور کیا ہو گا؟کہ نہ مثل شعلہ آگ کے اور یامثل دنیاوی دھوپ کے کوئی روشنی چمکے گی۔مگر خیالوں میں ایسی روشنی آجائےگی۔کہ نیک و بد میں خوب تمیز کرو گے۔اور حق کو پہچانوں گے۔اور خدا کے بعض پوشیدہ بھید سمجھو گے۔اور شیطان کی گہرائی دریافت کرکےاس کے جالوں سے بچو گے۔اور روح میں ایک تازگی اور زندگی ظاہر ہوگی اور اس آیت مقدس کا بھید منکشف ہوگا۔کہا جہان کا نور میں ہوں۔صوفیہ ان مراقبوں میں بے فائدہ وقت خرچ کرتے ہیں۔اس طور سے نہ کسی کو کچھ حاصل ہوا ہے اور نہ ہو گا۔ہم مسیحی بھی کبھی کبھی آنکھیں بند کرکے۔ذراچپ ہوجاتےہیں۔یہ اس لیے ہے کہ نادیدہ خدا کی طرف ذرا دل کو متوجہ کریں اور دلی حضوری سے خدا کے سامنے جائیں یا اس کا کلام پڑھیں۔اوردعا و نصیحت کریں۔یہ دلی توجہ ہے اور یہی ہمارا مراقبہ ہے۔

۳۰۔فصل شجرون اور اجازت کے بیان میں

صوفیہ اپنے پیروں کےشجرے رکھتے ہیں کہ فلاں شخص کا مرید فلاں تھا۔اور اس کا فلاں مرید ہوا۔اپنے سے لے کر حضرت علی تک پہنچاتے ہیں۔اور جب مریدوں کو شجرے دیتے ہیں تولفظ باحق فلاں یا باطفیل صاف لکھتے ہیں۔اور آخر میں کچھ فقرہ دعا خیر کا ہوتا ہے۔مرید ان شجروں کو پڑھ کر منہ پر ہاتھ پھیر لیتے ہیں۔یا سارے بدن پر دم کر لیتے ہیں۔یہ کیا لغو کام اور بری عادت ہے۔

تمام بزرگ تو یہ کہتے ہوئے دنیا سے چلے گئےکہ ما عرفناک حق معرفتک وماعبدناک حق عبادتک اور دلی تمیز صاف کہتی ہے کہ کہ سوا خداوند یسوع مسیح کے کوئی ایسا شخص کبھی دنیا میں ظاہر نہیں ہوا۔جس کی معرفت اور عبادت کامل ہو اور جس کے اعمال حسنہ ایسے بے نقص ہوکہ وہ کچھ حقوق خدا پر ثابت کرے۔سب کے سب شرمسار اور امید وار ہیں۔میں نہیں جانتا کہ ان پیروں نے کیاحقوق ان بزرگوں کے خدا پر ثابت کررکھے ہیں۔جن کے واسطے سے مراد براری کے اُمید وار ہیں۔

ہم مسیحی لوگ خداوند مسیح کے نام سے دعا مانگتے ہیں۔کیونکہ اس نے فرمایا ہے کہ میرے نام سے دعا مانگو اور اس نے وہ کام بھی کیے ہیں۔جو ہماری مقبولیت کا وسیلہ ہیں اس کا تجسم ،ولد،ختنہ،بپتسمہ ،فاقہ،امتحان اورشیطان سے باطنی کشتی اور لہو کا پیسنااور اذیتِ صلیب اورموت وتدفین اور تیسرے دن جی اٹھنااورآسمان پر جانااورروح القدس کا نازل فرمانایہ سب کام بندگان کے فائدے کے لیے ہوئے ہیں۔اس کو خودان کاموں میں سے کسی کی حاجت نہ تھی اور یہ برحق حقوق ہیں۔جن کے سبب سے وہ ہمارا وسیلہ بنا۔پیروں نے کون سے کام مریدوں کے لیے ہیں۔جو کچھ پیر صاحب نے تصوف میں جفا کشی کی اسی ارادہ اور نیت سےکی تھی کہ ہمہ اوست کے خیال میں خود فنا ہو جائیں۔یہ مرید ناحق ان کے پیچھے چمٹ گئےہیں۔ بعض سمجھتے ہیں کہ شجروں سے یہ تواریخی فائدہ ہے کہ اپنے سلسلوں کے نام معلوم رہتے ہیں اور دوسرا فائدہ یہ بھی ہو سکتاہے کہ کسی بات کی سند اوپر تک پہنچ جائے۔مگر صوفیہ اپنے تصوف کی سند اوپر تک نہیں پہنچا سکتےان کے مسائل اور عقائد اوراطوار وقتاً فوقتاً اِدھر اَدھرسے جمع ہوتے ہیں۔نہ حضرت علی سے نہ محمد صاحب سے پھر سلسلہ اور شجرہ سے کیا فائدہ ہوا صرف یہ کہ ان بزرگوں کے نام سے جاہلوں کو اپنے قابوں میں لائیں اور آپ معتبر ثابت ہوں۔

اجازت بے شک ایک سنجیدہ بات ہے۔کیونکہ دین کی خدمت معتبر بزرگوں سے اجازت حاصل کرکے کرنا مناسب ہے۔تاکہ نالائق آدمی انتظام دین میں خلل انداز نہ ہوں اور بدعتیں نہ نکلیں مگر صوفیہ سمجھتے ہیں۔کہ کسی پیرانٹ اور منتر میں اجازت سے تاثیر ہوتی ہے۔یہ وہمی بات ہے۔

۳۱۔فصل صوفیہ کے بعض خاص دعوؤں کے بیان میں

اگر کوئی آدمی کہے کہ میں ایسی قدرت رکھتا ہوں۔کہ اڑ کر ستاروں میں پہنچوں اور آ جاؤں تو ہم اس کو کیا کہیں گے۔صرف یہ کہ حضرت اڑ کر دکھلاؤ۔

صوفیہ کےپاس پانچ دعوے اسی قسم کے ہیں۔جن سے وہ احمقوں کو دھوکا دیتا ہیں۔اور جب کبھی ان دعوؤں کا ذکر آتا ہے۔تو کہتے ہیں کہ ہم میں جو کاملین ہیں وہ ایسے کام کر سکتے ہیں۔لیکن کسی کامل کا نام اور پتہ نشان نہیں دیتے۔کہ وہ کون ہےاور کہاں ہے؟پس اب کیا کیا جائے گا؟کچھ نہیں دعوؤں کی طرف دیکھناہوگا کہ کیا دعوے ہیں۔اور جب ہم ان کے دعوؤں کو دیکھیں گے۔تو صاف عقل سے معلوم ہو جائے گا۔کہ بعض باتیں ممکن ہیں لیکن ولایت اور قربت الٰہی کا نشان نہیں ہیں۔اور بعض باتیں ہیں جو بالکل باطل نہیں ہیں۔ان کا ماننا بے وقوفی ہے۔

• وہ کہتے ہیں ہم سلب امراض کرتے ہیں۔اور طریقہ یوں بتلاتے ہیں۔کہ بیمار کو سامنے بیٹھا دیں۔اور اپنے سانس کولمبا اندر کی طرف کھینچیں اورخیال کریں کہ ہم نے بیمار کی بیماری کو اپنے اندر کھینچ لیا ہے۔پھر باہر کا سانس لیں اور خیال کریں کہ ہم نے اس کو باہر زمین پر پھینک دیا ہے۔اسی طرح دیر تک کرتے رہیں۔وہ بیمار اچھا ہو کر چلا جائے گا۔اس بارے میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ وہ کونسا پیر آپ لوگوں میں ہے۔جوا یسا کرتا ہے۔اور یہ بھی کہتے ہیں کہ مسمریزم والے بھی ایسےعمل کے مدعی ہیں۔وہ تو بڑے ولی اللہ ہوں گےکیا یہ ولی اللہ کا نشان ہےیاترکیب ہے؟

• وہ کہتے ہیں کہ ہم دلوں کا حال جان سکتے ہیں طریقہ یوں بتلاتے ہیں صوفی کو اپنی کیفیت سے خالی ہوکر خدا کی علمی صفت میں مستغرق ہونا چاہیےاور باعاجزی کہنا کہ یا علیم یا خبیر اس شخص کا حال مجھے بتلادے پس جوکچھ اس وقت دل میں آئے وہی حال اس شخص کا ہے۔خدا سےکہنا کہ تو بتلادے کہ یہ تو مناسب کام ہے۔لیکن خدا ان کوبتلا دیتا ہے۔اس کا ثبوت کیونکر ہو؟اس کا ثبوت اس طرح ہو سکتا ہےکہ کوئی صوفی اٹھےاور خدا سے ہمارے دل کی بات پوچھ کر ہمیں سنائے۔اس وقت ہم کہیں گے کہ غلط ہے یا صحیح۔

• وہ کہتے ہیں کہ ہمیں مکاشفے اور الہام ہوتے ہیں۔آج کل مرزاغلام احمد صاحب کو الہام ہو ر ہے ہیں۔اور صوفی صاحبان کہتے ہیں کہ ہاں صاحب ہوتا ہو گا۔فلاں فلاں پیروں کوفلاں فلاں وقت ہوا تھا۔یا نہیں۔دہرنیچریوں کوان کے خلاف الہام ہو رہا ہے۔آسودہ حال اور پیٹ بھرے آدمیوں کو ایسی باتیں بہت سوجھتی ہیں۔اس بارے میں اتنا کہنا کافی ہے۔کہ گزشتہ زمانے میں جو پیغمبروں کو الہام ہوئے ہیں۔ ان کی ایک خاص صورت ہےاور خاص وجہ یہ تھی کہ خدا کو اپنی مرضی بندگان پر ظاہر پر کرنا منظور تھا۔سو اس نے کیا۔اور صورت یہ تھی کہ ایسے دلائل قدرتیہ کے ساتھ وہ الہات پیش ہوئے کہ عقل کی مجبوری سےان کا ماننا لازم ہے ان صوفیہ کے الہا مات اور مکاشفات کی وجوہات اور صورتیں اس لائق نہیں ہیں۔کہ ان کا خدا کی طرف سے ہوناثابت ہو وہ تو ہمات اور ذہنی خیالات ہیں۔اور میں کیا کہو ؟مگر یہ کہ اگر وہ الہامات خدا کی طرف سے ہیں تو ان میں جمع کرکے قرآن کے ساتھ مجلد کرو کہ مسلمان لوگ نماز میں پڑھا کریں۔

• وہ کہتے ہیں کہ ہم صرف توجہ سے آدمی کو نیک اطوار بنا دیتے ہیں۔

اس کا طریقہ یوں لکھا ہے کہ بھلا آدمی بنانا منظور ہےاسے سامنے لا کر بٹھاؤاوراگر وہ حاضر نہ ہو تواس کا تصور کرو اور بوسیلہ خیال کے اس کے دل میں توبہ ڈالواور شوق پھینکو پس وہ توبہ کرکے نیک ہو جائے گا۔

میں کہتا ہوں کہ حضرت محمد صاحب سے تو ہرگز نہ ہوا۔بہت چاہا کہ ابو جہل چچا مسلمان ہو جائےپر وہ ایمان نہ لایا اور تمام سچے پیغمبروں سے بھی یہ نہ ہوااورتمام گزشتہ صوفی بزرگوں سے بھی ایسا نہ ہوا۔بعض رشتے داروں کے لیے سر پٹ کر رہ گئےخیر اب اگر کوئی کامل صوفی دنیا میں ہے تووہ اٹھے اور ہم مسیحیوں اور ہندووں کی زندگی میں اپنے اسلام یا تصوف کو پھینکے۔لوگوں کے حق میں دعائے خیر سے توکبھی کبھی کچھ فائدہ دیکھا گیا ہےلیکن پھینکنا کچھ بات نہیں ہے۔وہی وہم ہے۔

• وہ کہتے ہیں کہ صوفی لوگ خلع دُلبس کرسکتے ہیں۔

خلع کے معنی ہیں چھوڑنالبس کے معنی ہیں پہننامراد یہ ہے کہ صوفی لوگ اپنے بدن کو چھوڑ کر کسی غیر کے بدن میں اپنی روح کو لے جا سکتے ہیں۔اس کا طریقہ یوں ہے کہ میں اپنی روح کو پیروں کی انگلیوں سے شروع کرکے کھینچو اور تمام بدن میں سےاکٹھا کرتے ہو ئے دماغ میں لئے جاؤجب ساری روح وہاں اکٹھی ہو جائےتب منہ یا ناک کی راہ سے نکالواور کسی غیر مردہ بدن جو کہ سامنے پڑا ہو داخل کرو پس تمہارا بدن مر جائے گا۔اور وہ ،مردہ بدن جی اٹھے گااور تم جانوں کہ میں اس میں آگیا ہوں۔یہ پرانےزمانے کی جھوٹی باتوں میں سے ایک بات ہے۔ لیکن صوفیہ کو اس پر یقین ہے۔معلوم نہیں کہ علم الیقین یا حق الیقین یا عین الیقین ہے؟

۳۲۔فصل تناسخ کے بیان میں

سب صوفی تو نہیں مگر بعض صوفی تناسخ کے بھی قائل ہیں اور ایسے ایسے شعر سناتے ہیں

ہم چو سبزہ بارہاروئیدام


یکصدور ہفتا وقالب ویدہ ا م



میں سمجھتا ہوں کہ قرآن تناسخ کا قائل نہیں ہے۔اور محمدی بھی تناسخ کو نہیں مانتےوہ بعض صوفی جو تناسخ کے قائل ہیں انہوں نے بہت باتوں میں اسلام کو اپنے دلوں میں سے نکال رکھا ہے۔اور وہ ہمیشہ بت پرستوں کے خیالات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔

شرح مواقف و غیرہ میں جو تناسخ کی بابت مرقوم ہے اس کا خلاصہ یہ ہے۔اہلِ تناسخ جو جسمانی قیامت کے منکر ہیں یوں کہتے ہیں کہ ارواح مردم جب اپنے کمالات کو پہنچ جاتے ہیں تب عالم قدوس میں جا شامل ہوتی ہے۔اور ہمیشہ کو بدنوں الگ ہو رہتے ہیں۔لیکن وہ روحیں جن کے کمال میں نقص رہتا ہےایک بدن سے دوسرے بدن میں انتقال کرتی رہتی ہیں۔اور اس انتقال کانام نسخ ہےجب انسانی بدن سے کوئی آدمی اپنی حالت کے مناسب حیوانی بدن میں آتی ہے۔مثلاًشجاع آدمی مرکر شیر بن گیا یا بزدلا آدمی خرگوش بن گیا۔یا احمق آدمی مر کر گدھا بن گیا۔تو ایسی تبدیلی کو مسخ کہتے ہیں۔

اور جب ایسی تبدیلی ہوتی ہے توارواح مردم نباتات بن جاتی ہیں تو اس تبدیلی کورسخ کہتے ہیں ۔

اور جب کسی کی روح جمادات بن جاتی ہے تو یہ فسخ کہلاتا ہے۔پس لفظ تناسخ جو کہ نسخ سے نکلا ہےاس کی تین قسمیں ہیں۔مسخ، رسخ اور فسخ جب تک ارواح اپنے کمالات علمیہ اور اخلاقیہ کو نہ پہنچیں ان میں ایسی ہی تبدیلیاں رہتی ہیں۔اور جب کمالات کو پہنچیں تو تب عالم قدوس میں شامل ہو جاتی ہیں۔امام فخرالدین رازی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ سورہ انعام کے رکوع چار ۴ اور آیت ۳۸ میں لکھا ہے کہ

وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا طَائِرٍ يَطِيرُ بِجَنَاحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُم

یعنی جو پائی اور پرندی جس قدر دنیا میں موجود ہیں یہ سب تم محمدیوں کی مانند امتیں ہیں۔یعنی تم مسلمان ایک امت ہو ویسے ہی یہ جانور بھی تمہاری مانند امتیں ہیں۔

پھر سورہ فاطر کے ۳ رکوع اور آیت ۲۴میں لکھا ہے کہ

وَإِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ

کوئی امت باقی نہیں جس میں خدا نے کوئی ڈرانےوالا یعنی پیغمبر نہ بھیجا ہو۔

اہل تناسخ کہتے ہیں کہ آیت بالا میں لفظ امثال تمام ذاتی صفات مساوات کا مقتضی ہےاور کہ چوپائے اور پرندے بھی ہماری مانند امتیں ہیں۔ اور بموجب آیت دوئم کےہر امت میں پیغمبر آیاہےتو اب جانوروں میں بھی پیغمبر آئے ہوں گے۔اس لیے جانوروں کو خدا کا اور نیکی و بدی کا علم حاصل ہو گا۔کیونکہ ان کے پیغمبروں نے انہیں سکھلایا ہوگا۔میں کہتا ہوں کہ اگر لفظ کم سے مراد تم انسان ہو تومطلب ظاہرہے کہ تم انسان حیوان کی ایک نوع ہو ایسے تمام جانور انواح ہیں ہاں اگرلفظ کم سے مراد امت محمدیہ ہو تو شاید اہل تناسخ کا کچھ مطلب نکلے گا۔اور وہ جو محمد صاحب نے کہا ہے۔کہ ہر امت میں ایک پیغمبر پہنچایا گیا ہے۔یہ کلام حق کےخلاف ہے۔کیونکہ اگلے زمانے میں خدا نے یہود کےسوا سب قوموں کو چھوڑ دیاتھا۔کہ اپنی تمیز کے موافق کام کریں۔ان کے پاس کچھ پیغام نہیں پہنچایا گیا۔لوگوں نے اپنے خیالات سے جوسوچا کیا اور جو چاہا سو بولااگر خدا سے سب قوموں میں پیغمبر آتے تواس قدر اختلاف نہ ہوتاجیسا اب دیکھ رہے ہیں۔یہ جدائیاں اور جھگڑے اور ایمانی اختلافات خدا کے نذیروں کے ڈالے ہوئے نہیں ہیں۔بلکہ یہ آدمیوں کی سمجھ سے ہیں۔ہاں جب نجات کاکام مسیح نے پورا کردیا توتب نذیر سب قوموں میں پہنچائے گئے ہیں۔نہ صرف نذیر بلکہ بشیر پس جانوروں میں نذیروں کا آنا تو درکنار ساری دنیا کی قوموں میں بھی ہادی نہ آئے تھےصرف یہود میں پیغمبر آئےتھے۔

(ف) میں نہیں سمجھتا کہ ہمہ اوست میں اور تناسخ میں کیا علاقہ ہے۔صوفی کہتے ہیں از روےتحقیق ہمہ عین است نہ غیر و از روئے تعین ہمہ غیر است نہ عین۔پس تحقیق اصل بات ہےاور تعین ایک امر اعتباری ہےجو شخص محو ہوگیاہےوہ عالم بالا میں پہنچا توکیااور جو محو ہوا تو کیا؟دونوں خدا کے اندر تو رہتے ہیں۔اور اگر سکھ ہے تو خدا کو ہےاور جو دکھ ہے تو خدا کو ہے۔پس اپنا تصوف لے کرگھر جاؤوہ کسی کام کی چیز نہیں ہے۔ہم تو اس بات کو مانتے ہیں کہ اگر دکھ ہے تو ہمیں ہے۔جو سکھ ہے تو ہمیں ہے۔اور جب ہم خدا سے مل کر سکھ میں جاتے ہیں تو ہم میں اور خدا میں دوری رہتی ہے۔کہ ہم انسان ہیں۔وہ خالق ہے۔وید والوں نے بھی جب ہمہ اوست کی تعلیم دی تھی۔تو انہیں تناسخ سے ڈرانا بے جا کام تھا۔

ہمہ اوست اور تناسخ کا خیال یونانی ہےاور ہندوستانی ہے۔قدیم بت پرستوں کا ذہنی ایجاد تھا۔اور ہندوستان کے بعض ہندووں کے درمیان ایسا سرائیت کیے ہوئے ہے۔جیسے بت پرست مسلمانوں میں تقدیر کے خیال نے سرائیت کی ہے۔لیکن وہ اس تناسخ کے خیال کا کچھ ثبوت نہیں رکھتے صرف یہی کہنا پڑتا ہے کہ ایسی کتابوں میں ایسا لکھا ہوا ہے۔

یہ تو سچ ہے ان کی کتابوں میں ایسا لکھا ہوا ہے۔مگر بحث اس میں ہے کہ آیا تمہاری کتابیں کہاں سے ہیں؟خدا سے یا آدمیوں سے پس امور ذیل پر بحث آجاتی ہے کہ آیا ان کے مصنف کون تھے؟کس زمانے میں تھے؟اورکس طرح کے اشخاص تھے؟ان کی تحریر سے ان کے دلوں اور خیالوں کی کیا کیفیت معلوم ہوتی ہے؟صفائی کہاں تک تھی؟اور مبالغوں کی کیا کیفیت ہے؟وہ کتابیں تو مبالغوں اور واہی تباہی خیالات سے بھری ہیں۔اس لئے وہ اہلِ عقل کے سامنے غیر معتبر ہیں۔کیونکہ انہیں کے خیالات نے جو ان کتابوں میں مرقوم ہیں انہیں باطل ثابت کیا ہے۔پس ان کتابوں کے درمیان جو غیر معتبر ہیں۔تناسخ کا ذکر ثبوت تناسخ کی دلیل نہیں ہو سکتا۔

ہم مسیحی جو بعض امور کی نسبت یہ کہہ دیا کرتے ہیں۔کہ خدا کے کلام میں ایسا لکھا ہے کہ ہماری اس بات کاماننا اس لیے واجب سمجھا جاتا ہے۔ کہ ہم نےن اولاً دیگر کتب میں ثابت کردیا ہےکہ وہ کتابیں کلام اللہ ہیں۔اور معتبر خدا پرست اورخدا ترس لوگوں سے لکھی گئی ہیں۔اور خدا نےا پنی قدرتوں سے کلام پر گو اہیاں دی ہیں۔اور اس کلام کی صدہا تعلیمات عقلاً واجب اُلتعمیل ظاہر ہو گئیں۔پھر اگرکوئی تعلیم اس میں ایسی بھی نظر آجائے جو خدا کی ذات پاک سے علاقہ رکھتی ہو۔اور فہم انسانی سے بلندو بالاہوتو صرف کلام میں مذکورہونے کےسبب سے ہم بغیر سمجھے جرات اور دلاوری سے ادب سے قبول کر لیتے ہیں۔اور یہ مناسب کام ہے۔

ہندووں اور مسلمانوں کو ایسا کہنا جائز نہیں کہ یہ بات قرآن میں یا ویدوں میں شاستروں میں لکھی ہے۔اس لیے حق ہے کیونکہ وہ اپنی کتابوں کو من جانب اللہ ثابت نہیں کر چکے ہیں۔اور نہ کر سکتے ہیں۔اسلئے جو دعوئے وہ اپنی کتابوں سے لائیں گے۔اس کا ثبوت انہیں خارج سے دینا پڑے گا۔

اور تناسخ ہمہ اوست کے لیے خارج میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔تب ان کے بے دلیل دعووں کو اس بارے میں ہم کیونکر قبول کر سکتے ہیں۔تناسخ کے لیے سوائے اس دعوئے کے جو غیر معتبر اشخاص سے ہوا ہےدلائل اثباتیہ محض معدوم ہیں دلائل انکاریہ ضرور موجود ہیں۔اور کئی ایک ہیں ان میں سے تین دلیلیں یہ ہیں۔جن کا ذکر کرتا ہوں۔

• جس چیز کا نام نفس ناطقہ ہے۔وہ سوا ءانسان کے کسی اورحیوان میں پایا نہیں گیا۔پھر کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ ایک ہی روح کبھی انسان میں اور کبھی حیوان میں آتی رہتی ہے۔

• قوت حافظہ نفس ناطقہ کی ذاتی صفت ہے ناکہ عارضی پس کیا سبب ہے؟ کہ کسی آدمی کو کچھ کیفیت تولد اورسابقہ جنم کی کیفیت معلوم نہیں ہے۔آیا اس کیفیت کے نقش و نگار محو ہو گئے ہیں یا دب گئے ہیں۔محو تو ہو نہیں سکتے کیونکہ حافظہ ذاتی صفت ہےہاں دبے جا سکتے ہیں۔مگر دبی ہوئی بات پھر یاد آسکتی ہے۔جب یاد دلانے والی کوئی چیز سامنے آئے۔آدمیوں کے سامنے سب حیوان پھرتے ہیں۔اور ان کے خصائص ان پر ظاہر ہیں۔اگر وہ آدمی کبھی کوئی جانور تھے۔تو ان کو ان کے ملا خط سے اپنی سابقہ کیفیت یاد کیونکہ نہیں آتی؟

• تناسخ کا انتظام خدا نے کس غرض سے کیا ہے؟جواب یہی ہے کہ سزائے اعمال کے لیےہم پوچھتے ہیں کہ سزائےا عمال کیا چیز ہے؟بے فکر اس بات کو نہیں جانتے دنیاوی احکام سے جو سزا ہوتی ہے۔ناسمجھ لوگ الٰہی سزا کو اسی کے موافق خیال کرتے ہیں۔ معلوم ہو جائے کہ دنیاوی سزا مجازی سزا ہے۔خدا کی طرف سے جو سزا ہےوہ حقیقی سزا ہے۔دیکھو زید نےبکر کا لاکھ روپیہ چوراکر باکل برباد کردیا۔اب بکر زید سے کہتا ہے کہ میرا روپیہ مجھے دےدو ورنہ میں تجھے کسی میعاد کے لیے قید کرادوں گااور خوب پٹواؤں گا۔زید کہتا ہے کہ جو چاہوسو کرو میرے پاس تو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔پس بکر نے جو کچھ کر سکتا تھا کرکے صبر کیا زید کچھ میعاد تک دکھ پاکر چھوٹ گیا۔اب بتلاؤ کہ اس میں بکر کا نقصان کیونکر پورا ہو گا؟اورزید کیونکر ظلم سے بری ہوگا؟شاید سزا کا میعادی دکھ اور وہ روپیہ مساوی چیز ہوں۔

مگر بتلائیے کہ خدا کی بے عزتی کس میعادی دکھ کے مساوی ہے؟اس لیے خدا کی سزا یہ ہے کہ یا تو کوڑی کوڑی ادا کرو یا ابدالاباد دکھ میں رہو۔لاانتہا برسوں تک کبھی سکھ کا منہ نہ دیکھو۔یہ سزا خدا کی شان کے مناسب ہے۔اور ظلم کے بھی مناسب ہے۔تناسخ کے دکھوں میں یہ سزا کیونکر پوری ہو جاتی ہے؟تناسخ میں دکھ کیا ہے؟کچھ بھی نہیں۔اگر گدے ہیں تو گدہے کا کام کرتے ہیں اور خوش ہیں۔اور بلے ہیں تو میاؤں میاؤں میں خوش ہیں۔سزاکیا ہے؟سزا کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ مجرم اپنے گناہوں سے آگاہ ہوکر دکھ اٹھائے تاکہ نادم ہو۔اور جانے کہ میں نے فلاں کام غیر مناسب کیا تھااس لئے دکھ میں ہوں۔بتلاؤ کہ ان غریب ،ناچار،بیمار فاقہ زدہ اور مصائب کشیدہ آدمیوں میں اور ان جانوروں میں کون آگا ہ ہے؟کہ میں فلاں جرم کے سبب سے اس حالت میں ہوں۔یہ تو الٰہی حکمت کے انتظام ہیں۔اور ہر جانور اپنی فطری حالت میں خوش ہے۔اور تناسخ کا خیال غلط ہے۔

خدا کے پیغمبروں نے خدا سے معلوم کرکے ہمیں یوں سکھلایا ہے کہ حیوانات کی روحیں فانی ہیں اور سب حیوانات آدمیوں کی خدمت اور خوراک کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔نباتات میں اور اُن میں قدرے فرق ہے۔اور ان میں انسانی روح ہرگز نہیں ہے۔انسان کی روح جو ایک مخلوق شے ہے۔ایک دفعہ دنیا میں آتی ہے۔اور جب وہ مر گیابدن مٹی ہو جاتا ہے۔اور روح اس کی عالم غیب یعنی عالم ارواح میں رہتی ہیں۔عدالت کےدن تک سب روحیں وہاں جمع رہیں گی اور ان کے لیے آسائش یا دکھ حسبِ ان کی حالت کے رہے گا۔قیامت کے دن خداوندیسوع مسیح آئے گا۔اور جہان کی عدالت وہی کرے گااسی کو خدا باپ نے ساری عدالت سونپ دی ہے۔کیونکہ وہ اللہ انسان ہے۔اس کے سامنے سب روحیں اپنے بدنوں میں اٹھیں گی۔اورعدالت کے بعدایماندار جن کا بھروسہ مسیح کے کفارہ پر ہےابد تک خدا کی رحمت میں آرام سے رہیں گے۔اور بے ایمان ابدی دکھ میں چلے جائیں گے۔پھر وہاں سے کبھی نہیں چھوٹ سکتے اور یہ بات کہ خدا ایک جدا شے ہے۔اور انسان وغیرہ جدی چیزیں ہیں۔برابر قائم رہیں گی۔مفرد و مجرد سب جھوٹے ثابت ہوں گے۔جب سزا کا منہ دیکھیں گےتوساری تفرید تجرید بھول جائے گی۔ہائے ہائے سوجھے گی۔ابھی قبروں کا حلوہ اور روٹی کھا کر مست ہو رہے ہیں اور اوست کے دم مارتے ہیں۔وقت آتا ہے کہ اوست کا پوست اترے گا اور میں تو کی سوجھے گی۔

سواء یسوع ابن مریم کے ہر ایک آدمی پیر ہو یا پیغمبر گناہگار اور ابدی سزا کا مستحق ہے۔کیونکہ سب نے خدا کی شرع کوتوڑا۔ سب نے نامناسب کام کیے۔سب بگڑی ہوئی جڑ کی ڈالیاں ہیں سب دوزخ کی آگ میں جلنے کے لائق ہیں لیکن خدا نےمہربانی کرکے عدالت سے پہلے مسیح خداوند کو بھیج دیاجس نے دنیا میں آکر سب اولین اور آخرین یعنی کل بنی آدم کے لیے الہٰی قرضے کو ادا کیا۔اور دکھوں کو اٹھایا۔اور سب کے لیے شریعت الٰہی کو پورےطور پر عمل میں لایاپھر عام منادی کرائی کہ جوکوئی اس پر ایمان لائے یعنی اس کے فضل کو منظور اور قبول کرےاور کہے کہ میں اس بات سےراضی اور خوش ہوں کہ تونے میرا قرضہ ادا کیا اور مجھے بچا لیا۔میں اب تیرا غلام ہوں سب باتوں میں تیرا فرمانبردار رہوں گا۔توآگے کو بھی میری مدد اور حمایت کر تو وہ آدمی آئندہ سزاسے بچ جائےگا۔اور جو وہ کہے کہ تو کون ہے؟میں ادا کیا ہوا قرض کیوں منظور کروں؟تونے میرا دکھ کیوں اٹھایا؟میں آپ اپنا دکھ اٹھاؤں گا۔آپ نیک اعمال کرکے بچوں گا۔مجھے یقین بھی نہیں آتا کہ تونے میرا قرض اٹھا لیا۔فلاں پیر یا فلاں پیغمبر میری شفاعت کرے گا۔یا خدا آپ رحم کرکے مجھے بخش دے گا۔ایسے آدمی کو اختیار ہے کہ جدھر چاہے وہ ادھر جائے۔اور جو چاہے سو کرے مسلمان رہے یا صوفی بنے یا نیچری ہو۔لیکن یاد رکھیں کہ ابدی سزا میں ضرورپھنسا ہو گا۔خدا اس پر کبھی رحم نہیں کرے گا۔اس لیے کہ اس نے خدا کے انتظام اور رحم کو جو مسیح میں اس کے لیے ہوا تھارد کیا ہے۔اور مسیح نے جواس کا قرض ادا کیا ہےاس شخص نے اپنی رضامندی اس بارے میں الگ کرکےاپنے حق میں اس ادا کیے ہوئے قرضے کومنسوخ کرایا ہے۔اور اپنے اوپر بحال کھوایا ہےاب یہ خود قرضہ ادا کرے یا ابد تک دکھ میں رہے۔

سارےگناہوں کی فہرست ابد تک پیشِ نظر رہے گی اور سب حسرتوں سےبری حسرت یہ ہوگی۔ہائے میں نے مسیح کے فضل کو رد کرکے اپنے سارے گناہوں کے تدارک کو جو مجھے مفت ہاتھ آیا تھاکیوں نادانی سے قبول نہ کیا تھا۔ہائے میں نے مسیح کو رد کرکے اپنی ابدی آسائش کو رد کردیا اور اب کچھ نہیں ہوسکتا رحم کا دروازہ ابد تک بندا ہو گیا عدالت کا منہ ابد تک چبانے کو کھلا ہے۔

۳۳۔فصل صوفیوں کی وہ کیفیت جو اب ہے

جو کیفیت علم سلوک اور سالکین کی اس کتاب میں کتب تصوف سے سنا چکا ہوں اور اس کا ابطال بھی دکھلا چکا ہوںوہ کیفیت حال کے صوفیہ میں برائے نام ہے بلکہ ایک اور کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔جو پہلی کیفیت کی بانسبت زیادہ تر بری ہے۔

شروع میں پہلی کیفیت کے لوگ ہندوستان میں ظاہر ہوئے تھے ان کے چند شاگرد ویسے ہی ہو گئے تھے۔مثلاً معین الدین چستی، قطب الدین بختیار کاکی، فرید الدین مسعود یعنی بابا فرید،قطب جمال الدین احمد ہانسوی،نظام الدین اولیا، علاؤالدین صابر۔شاہ ابو المعانی شاہ ابوالعلااور سید بھیک وغیرہ یہ سب لوگ پہلی کیفیت کے شخص تھے۔

ان کے بعد یہ کارخانہ نہایت بگڑ گیااب صرف نام کے صوفی پھرتے ہیں اور وہ جو اُن میں نامی ہیں اکثر خاندانی پیر زادے ہیں۔جن کا جداعلی کوئی نامی صوفی تھا۔جس کا مزار کہیں کہیں عالی شان عمارت سے بنایا اور خوب سجایا ہے قبر پر عمدہ عمدہ غلاف ڈالے ہیں۔پھولوں اور خوشبوں سے معطر کیا ہے۔رات کو بہت چراغ جلاتے اور ادب سے زیارت کرتےاور کراتے ہیں ۔قبرکے قدموں پر جھک کر بھوسے دتیے ہیں خادم یا مجاور جو مقرر ہیں۔وہ صفائی رکھتے اور مور کی دم کے پرو سے جھاڑوں دیتے ہیں۔سال میں ایک بار موت کی تاریخ میں میلا کرتے ہیں۔کسبیوں کا ناچ ہوتاہے۔جس سےوہ پیر صاحب اپنی زندگی میں بے زار تھے۔قوالوں کے راگ درویشوں کے وجد ہوتے ہیں۔ہو حق کا نعرہ بلند ہوتا ہے۔

جاہل منتیں مانتے نذر نیاز روپیہ پیسہ کوڑیاں اور قسم قسم کے کھانے مٹھائی ریوڑیاں خوب آتی ہیں مزے اڑتے ہیں۔خدا کو چھوڑ دیا قبروں کو معبود بنا لیاہے۔جس پیر زادے کے خاندان میں کسی بزرگ کا ایسا مزار بن گیا ہے اس کے لیے تو دنیا میں ایک جاگیر پیدا ہوگئی ہے۔وہ زمینداروں سے اچھا رہتا ہے۔اور کتنے گھرانے اس قبر سے خوراک حاصل کرتے ہیں۔سارا خاندان اس مزار کو مزارشریف کہتا ہے۔بلکہ اس شہر کو بھی اس مزار کی وجہ سے شریف کہتے ہیں اور رات دن مداحی میں مصروف ہیں۔کرامتیں اور قدرتیں اس مزار کی نسبت ہمیشہ تصنیف ہو کر اڑتی رہتی ہیں دیکھو آج کل ایک کتاب نکلی ہےجس کانام حقیقتِ گلزار صابری ہے۔اس کے مصنف نے باطل روایتوں کے فروغ دینے کو بعض کتابوں کے نام بھی دل سے فرض کر لیے ہیں۔کہ یہ بات مکتوب نطاب وغیرہ میں لکھی ہے۔نہ مکتوب نطاب وغیرہ کوئی چیز ہے اور نہ ہی وہ بات صحیح ہے صرف گلزار صابری کی بہار ہے۔

محمدی مولوی ہمیشہ چلاتے رہتے ہیں کہ اے ظالموں کیا کرتے ہو۔یہ نہ صوفیت ہے اور نہ اسلام ہےیہ تو بت پرستی ہے۔مگر پیر زادےکب مانتے ہیں۔نالائق دلیلوں سے ان کا مقابلہ کرتے اور ایسی بری نگاہوں سے ان کو دیکھتے ہیں۔جیسے متعصب مومن کافر کو دیکھتا ہے۔پس حال کے صوفیہ کی ایک تو یہ صفت ہے کہ جس کا بیان ہوا۔افسوس کی بات ہے کہ اڈیٹران اخبارات جو اکثر برہمو اور آریوں اور نیچریوںوغیرہ کی نسبت کچھ لکھتے رہتے ہیں۔ان صوفیوں کی طرف سے کیوں چپ ہیں چپ رہنے میں ان ہزارہاآدمیوں کا نقصان ہے۔اور چھڑ چھاڑ میں فائدہ ہے کہ آدمی جگائے جاتے ہیں۔لیکن ادب اورشا ئستگی سے کلام کرنا مناسب ہے۔

کچھ نہ کچھ چھیٹر چلی جائے ظفر


گر نہیں وصل تو حسردت ہی سہی



دوسری بات ان میں یہ ہے کہ ہر کوئی کسی نہ کسی پیر صاحب کا مرید ہےاس سے شجرہ لیا ہے۔اور کچھ وظیفہ سیکھاہاتھ میں تسبیح لی جمعرات کو زیارت کے لیے کچھ قبریں انتخاب کیں سالانہ عرسوں میں برابر حاضر ہیں اورکچھ کوشش بھی کرتے ہیں۔کہ لوگوں کو متعقد بنا دیں تاکہ روپیہ آئے اور عزت سے رہیں یہ مقصد اعلیٰ اکثروں کا ہے۔

میں ان صاحبان سے بمنت کہتا ہوں کہ اگر تم منصف آدمی ہو تو آپ ہی انصاف سے کہو کہ یہ تسبیح اور وظیفہ کس مطلب سے ہے۔کیا فتوحات اور کشائش روزی اور دست غیب اوررجوعات اور تسخیر قلوب کے وظیفے ڈھوندھ ڈھونڈھ کر تم نے اپنے لیےاختیار کررکھے ہیں۔یا نہیں اور اپنی اولاد کو بھی سکھلاتے ہو کہ نہیں۔پس یہ سر پرستی ہے یا خدا پرستی ہے۔تم کس منہ سے کہا کرتے ہوکہ فلاں شخص دنیا حاصل کرنے مسیحی ہو گیا ہے۔کیا تم خدا کے طالب ہواور وہ دنیا کاطالب تھا؟خدا سے ڈور سچا انصاف کرومیں تو مدت دراز تک صوفیہ میں رہا۔ان کے گھر کے بھید سے خبر دار ہوں۔میں نےتم میں کوئی کوئی آدمی دیکھا جو خدا کا طالب تھا۔اکثر دنیا کے طالب دیکھے اوروہی وظیفے تلاش کرتے رہے۔جن سے دنیا حاصل ہو دنیا کے طالب خود ہو دوسروں کی نسبت کیوں بد گمانی کیا کرتے ہو؟اگر تم خدا کے طالب ہوتے تو ضرور خدا کو پاتے وہ اپنے طالبوں کو بے مراد نہیں پھرنےد یتا میں نے یہ کتاب ایذا رسانی کے لیے نہیں مگر دلی محبت اور دوستی کا حق ادا کرنے کے لیے لکھی ہے تاکہ خوابِ غلفت سے جگاؤں۔

تیسری بات جو ان میں ہے یہ ہے کہ جب ان صوفیہ نے دیکھا کہ ہم میں نہ کچھ قدرت ہے نہ تاثیر ہے۔اورہم لوگوں سے کہتے پھرتے ہیں کہ ہمارے گزشتہ بزرگ ایسی ایسی قدرت اور تاثیر کے شخص تھے۔ہم میں کچھ تو ہوتاکہ عزت رہےاور ہم بھی صاحبِ تاثیر مشہور ہوں۔اور جاہل سمجھیں کہ قبر والے بڑے پیر کی قدرت حضرت سجادہ نشین صاحب میں بھی ہے۔پس وہ تعویذوں اور گنڈوں اورفلتیوں اورفال اور رمل اوربعض سفلی جادوں کی طرف مائل ہوتے ہیں بلکہ رات دن دعا میں مشغول رہتے ہیں۔

دو تین انگل کا یک مربع کاغذ لے کر اس پر لکیروں سے خانے بناتےاور خانوں میں ۲ و ۴ اور ۸ وغیرہ لکھتے اور جاہلوں کو دیتے ہیں۔کہ لو گھول کر پی لو یا گلے میں ڈال لو۔تمہاری حفاظت ہوگی۔یہ تعویذ کی صورت ہے۔

گنڈوں کی یہ صورت دو تین بالشت کا کچا دھاگا سات تار کا لیتے ہیں اوراور اس میں سات گانٹھیں دیتےاور گانٹھ میں اپنے منہ کی ہوا کو منت پڑھ کر باندھتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ لو اپنے لگلے میں باندھوں بخار نزدیک نہ آئے گا۔اور کسی چڑیل وغیرہ کی تاثیر نہ ہو گی۔یا بھینس کے سینگ میں باندھوں خوب دودھ دے گی۔

فلتیوں کی یہ صورت ہے کہ جب کوئی آدمی بھوت کا بیمار سمجھا جاتا ہے تو پیر صاحب کاغذ پر فرشتوں کے یا پیغمبروں کےنام لکھتے ہیں۔اور بتی کی مانند لپیٹتے ہیں اورکہتے ہیں کہ اسے جلا کر بیمار کی ناک میں دھواں چڑھاہو۔تاکہ اس کا دماغ خراب ہو اوروہ کچھ بکے اور یہ کہیں کہ فلیتے کی تاثیر سے بھوت آیا ہےوہ بولتا ہے۔اورجو بیمار مضبوط ہو اوراس دھوئیں سے نہ بکےتو ایک اور فلیتہ لکھتےاور نیلے چتھڑے میں لپیٹتے ہیں۔جس کا دھواں زیادہ گھبرا دیتا ہے اور جو وہ اس سےبھی نہ بکے تو مرچیں جلا کر دھواں دیتے ہیں یہاں تک وہ بک اٹھتا ہے۔اور کہتے ہیں کہ ہاں اب بھوت قابوں میں آیا ہے۔اب میں اس کو جلا دو گا۔چولہےمیں بیری کی لکڑیاں جلاؤ اس پر کوری ہنڈیا خالی رکھواور پاس بیٹھ کر ماش کے دانے پر کچھ پڑھتے ہیں۔اور ہنڈیا میں ڈالتے جاتے ہیں اور آستین میں ایک بکری کا پتہ جس میں سرخ نری کا رنگ بھر لاتےچھپار ہتا ہے اور موقع پا کر فوراً ہنڈیا میں ڈالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ لو بھوت جل گیاآؤ اس کا خون دیکھ لو ارے احمقوں روح میں خون کہاں سے آ سکتا ہے؟پھر کہتے ہیں کہ ہنڈیا کو باہرلے جا کر گہرے غار میں دفن کر دوکہ بھوت پھر سے نہ نکل آئے اور جلد ایک سفید جوان مرغ ، گھی ،چاول، میدا اورمیوہ وغیرہ لاؤ کہ ان فرشتوں کانذرانہ دوں جنہوں نے اس بھوت کو پکڑ کر جلایا ہے۔اورمجھےجو کچھ دینا ہے وہ جدا نقددیدو۔تب وہ جاہل غریب دیہاتی جو تنگ دست ہوتے ہیں جس طرح ہو سکتا ہے وہ یہ نذرانہ دیتے اور پیر صاحب اپنے گھر میں مرغا پلاو کہتے اورہنستے ہیں۔

فال کی یہ صورت ہے کہ ایک کتاب بنا رکھی ہے۔جس کے اول میں ایک صفحہ پر ایک نقشہ ہے ہر خانے میں کوئی حرف لکھا ہے جیسے کہ الف بے وغیرہ اورحرف کا بیان کتاب میں کچھ لکھا ہے۔

غریب مصیبت زدہ جاہل عورتیں اپنی تنگیوں میں چپ چاپ پیر صاحب کے پاس حاضر ہوتی اور اپنا دکھ روتی ہیں اور پیر صاحب فالنامہ یعنی وہی کتاب نکالتے اور وہ عورت نذرانہ کتاب پر رکھ دیتی ہے۔تب فرماتے ہیں کہ اپنی انگلی کسی خانہ پر رکھ۔جس خاننے پر وہ انگلی رکھی۔اسی کے حرف کابیان کتاب میں سےنکال کرسناتے ہیں۔اگراچھا بیان ہے توفال مبارک ہوئی اور اگربرا بیان ہے تو عورت غمگین ہو گئی۔کہ میرے لیے یہ آفت آئے گی۔تب کہتے ہیں کہ یوں صدقہ دواور یوں یوں کرو بلا دفع ہو جائے گی۔بعضوں نے رمل سیکھ لیا ہے۔وہ رمل سےمثلاًً راول جوگیوں کے کچھ بتلاتے ہیں ۔ اوریوں جناب پیر صاحب کی بزرگیاں ظاہر ہوتی ہیں۔ایسی باتوں میں اسلام کا ذکر ہے۔

یہ تین باتیں جو میں نے یہاں لکھی ہیں ان میں سے پہلی بات گویا ان کاسلوک یا صوفیت ہے۔دوسری بات میں وہ گویا طرق سلوک پورےکرتے ہیں۔تیسری بات میں ان کا عروج ہے۔جو کہ ان کی صوفیت سے حاصل ہوا ہے فقط آخر میں پھر کہتا ہوں کہ اگر خدا سے ملنا چاہتا ہو ےتو بائبل مقدس کی طرف دیکھو اور دین مسیحی کی کیفیت اور ماہیت دریافت کرنے کے لیے کوشش کرو۔

راقم بندہ :عماد الدین لاہز