The Teaching of Maulvies As to

Sinlessness of Muhammad

By

Allama James Menro

عدمِ معصومیت محمد

یعنی

حضرت محمد کی بیگناہی پر مولویوں کی تعلیم

مصنفہ

علامہ جیمس منرو صاحب

1902


عدم ِ معصومیتِ محمد یعنی محمد مکیﷺ کی بیگناہی پر مولویوں کی تعلیم

آیا محمدﷺ گناہ میں آلودہ تھے یا بے گناہ ۔ ایک ایسا سوال ہے جس پر اکثر مسیحی مشنریوں اورمسلمانوں میں تنازع رہتاہے۔حالانکہ ا س اہم سوال پر خود مسلمانوں میں اتفاق نہیں ہے۔ لہذا یہ نہایت ضروری ہے کہ قرآن کی تعلیم اس کے متعلق دریافت کریں کہ مولوی لوگ کیا کہتے ہیں اور قرآن اس بارے میں کیا سکھاتاہے؟

رانا گھاٹ ضلع ندیا کے مشنری مسٹر منرو نے ارادہ کیا کہ چند علماء محمدیہ سے ا س سوال کا جواب دریافت کریں تاکہ مولوی صاحب بتلائیں کہ قرآن میں اس کی بابت کیا لکھا ہے؟ انہوں نے اس امر کے بارے میں دو سوال دریافت کئے ۔

۱۔ آیا محمدﷺ کی بیگناہی قرآن کی کسی سورة میں تسلیم کی گئی ہے ؟ اور اگر ایسا ہے تو کس سورة میں؟

۲۔سب سے پہلے مولوی یعنی مولوی جلال الدین صاحب سکنہ شانتی پور نے ان سوالوں کے جواب میں یہ فرمایا۔کہ ان کی معلومات قرآن کی بابت ایسی نہیں ہیں کہ وہ ان سوالوں کا تسکین بخش جواب دے سکیں۔ اور انہوں نے تحریک کی کہ اس معاملے میں مدرسہ کلکتہ کے عالم مولویوں سے استفسار کیاجائے اور مدرسے کے مولویوں میں سے ایک کانام خاص کر تجویز کیا گیا یعنی شمس العلما مولوی احمد صاحب۔

یہی سوال ندیا کے ایک مشہور مُلا بنام مُلا خداداد خاں صاحب سے بھی کیا گیا۔ اس بزرگ نے جواباً یہ لکھا کہ جہاں تک میرا علم ہے قرآن شریف میں ایک بھی ایسی آیت نہیں جس میں ہمارے نبی محمدﷺ کی عدم عصمت کا اقرار کیا ہویا معصومیت سے انکار کیا گیا ہے۔ " انہوں نے بھی تحریک کی کہ اس معاملہ میں شمس العلما مولوی احمد صاحب سے رجوع کیا جائے۔

جناب مولوی صاحب اور مُلا صاحب کی مجوزہ تجویز پر کاربند ہوکر وہی سوالات شمس العلما مولوی احمد صاحب کی خدمت میں ارسال کئے گئے۔ ایک مدت مدید کے بعد مولوی صاحب موصوف نے یہ جواب دیاکہ " ہمارے نبی کی بیگناہی قرآن کی آیتوں میں سے کسی ایک آیت میں بیان نہیں ہوئی ۔ مگر متفرق طور سے بہت سی آیتوں میں اس کا ذکر ہوا ہے"۔

مثلاً سورة یسٰین ۱ ع۲، ۳

إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ

ترجمہ: اے محمد کچھ شک نہیں کہ منجملہ پیغمبروں کے توبھی ہے سیدھے رستے پر۔

قرآن کی تفاسیر میں صراط مستقیم کے معنی جو اس اوپر کی آیت میں مندرج ہے ۔ یہ ہیں کہ وہ راہ جو خدا تک لے جاتی ہے اور دیگر راستوں سے الگ کرتی ہے۔ پس جب کسی کی بابت یہ کہا جائے کہ وہ سیدھے رستے پر قائم ہے۔اس کی نسبت گمان کیا جائیگا کہ وہ بیگناہ ہے۔


سورة الانبیاء ۵ ع ۷۵

وَأَدْخَلْنَاهُ فِي رَحْمَتِنَا إِنَّهُ مِنَ الصَّالِحِينَ

ترجمہ: اورہم نے اپنی مہربانی سے اس کو لےلیا کیونکہ وہ نیک بندوں میں سے تھے۔

سورة ص ۴ع آیت ۴۷

وَإِنَّهُمْ عِندَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الْأَخْيَارِ

ترجمہ: اور وہ ہماری نظروں میں منتخب اور نیک بندوں میں تھے۔

ان آیات میں مولوی صاحب پھر وہی کہہ رہے ہیں کہ نہ صرف محمد ﷺ بلکہ اور انبیاء جو قبل ان کے معبوث ہوئے سیدھی راہ پر ہونے سے معصوم تھے یعنی انہوں نے ہرگز کوئی گناہ کبھی نہیں کیا۔ مگر یہ تعلیم قرآن کے مطابق نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں بہت سی آیات موجود ہیں جن میں بہت سے انبیاء کےگناہوں کا ذکر ہے اورنیز یہ کہ ان گناہوں کے لئے وہ مغفرت کے خواستگار ہوئے ۔ مثلاً دیکھو۔

سورة الاعراف ۲ع آیت ۲۲

فَدَلاَّهُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ

ترجمہ: اوردھوکے سے ان کو مائل کرلیا اور جوں ہی انہوں نے درخت کےپھل کو چکھا ۔

اور اسی سورة کی آیت ۲۳ میں یوں لکھاہے۔

قَالاَ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ

ترجمہ: کہا اے ہمارے رب ہم نے اپنے تئیں تباہ کیا اور اگر تو ہم کو معاف نہیں فرمائیگا تو ہم بالکل برباد ہوجائينگے ۔

اب کیا اس ۲۳آیت سے یہ صاف ظاہر نہیں ہوتا کہ آدم نے گناہ کیا اورا س کی مغفرت چاہی ؟پھر کیونکہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ بیگناہ تھا؟ اسی طرح ابراہیم جیسے نبی الوالعزم کی بابت سورة ابراہیم ۶ع آیت ۴۱ میں یوں لکھاہے۔

رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ

ترجمہ: اے میرے پروردگار جس دن حساب ہو مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اور ایمان والوں کو بخش دیجیو۔

اب کیا قرآن میں یہ صاف طور سے نہیں لکھاہوا ہے کہ ابراہیم نے گناہ کیا اوراس کی معافی چاہی؟ پس کیونکر قرآن کی اس واضح تعلیم کے خلاف یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ معصوم تھا۔ یوں ہی موسیٰ اور ہارون  کی بابت سورة القصص ۲ع آیت ۱۴، ۱۵، ۱۶میں مرقوم ہے۔

وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَى آتَيْنَاهُ حُكْمًا وَعِلْمًا وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ وَدَخَلَ الْمَدِينَةَ عَلَى حِينِ غَفْلَةٍ مِّنْ أَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ هَذَا مِن شِيعَتِهِ وَهَذَا مِنْ عَدُوِّهِ فَاسْتَغَاثَهُ ا


الَّذِي مِن شِيعَتِهِ عَلَى الَّذِي مِنْ عَدُوِّهِ فَوَكَزَهُ مُوسَى فَقَضَى عَلَيْهِ قَالَ هَذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِينٌ قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَ لَهُ

ترجمہ: اورجب موسیٰ اپنی جوانی کو پہنچا اور پورےقد کا ہوا ہم نے ان کو فہم اور علم اور دانش عطا فرمائی اورنیک لوگوں کا ہم اس طرح بدلہ دیا کرتے ہیں اور ایک دن وہ ایسے وقت میں شہر میں آیا کہ لوگ بے خبر سوتے تھے تو اس نے کیا دیکھا کہ دو آدمی آپس میں لڑرہے ہیں ایک اس کی قوم کا اورایک اس کے دشمنوں میں کا تو جو موسیٰ کی قوم کا تھا اس نے اس کےمقابلے میں جواس کے دشمنوں میں کا تھا موسیٰ سے مددمانگی موسی ٰ نے اس کو مارا اوراس کا کام ہی تمام کردیا اور لگا کہنے کہ یہ توایک شیطان کا کام ہے جو دشمن کھلم کھلا اور گمراہ کرنے والا ہے ۔ دعا کی کہ اے میرے پروردگار میں نے تو اپنے اوپر ستم کیا تو میرا گناہ معاف فرما اور خدا نے اس کو بخش دیا۔

سورة الاعراف ۱۸ع آیت ۱۵۰، ۱۵۱

وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَى إِلَى قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِي مِن بَعْدِيَ أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ وَأَلْقَى الألْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ قَالَ ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَكَادُواْ يَقْتُلُونَنِي فَلاَ تُشْمِتْ بِيَ الأعْدَاء وَلاَ تَجْعَلْنِي مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلأَخِي وَأَدْخِلْنَا فِي رَحْمَتِكَ

ترجمہ: اورجب موسیٰ اپنی قوم کی طرف غصے اور رنج میں بھرا ہوا لوٹا اور بولاکہ میرے گئے پر تم نے یہ برُی حرکت کی ۔ کیا تم لوگ اپنے رب کے حکم کے منتظر نہ رہکر جلدی کر بیٹھے۔ اور موسیٰ نے تختیوں کو پھینک دیا اور اپنے بھائی کے سر کے بالوں کو پکڑ کر ان کو اپنی طرف کھینچنے لگا اورکہاکہ اے میرے ماں جائے لوگوں نے مجھ کو بے حقیقت سمجھا اور قریب تھاکہ کہ مجھ کو مار ڈالیں میں تو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اور مجھ کو ان ظالم لوگوں کے ساتھ مت سان۔ دعا کی اے میرے رب میرا اورمیرے بھائی کا قصور معاف کر اور ہم کو اپنی رحمت میں لے لے۔

ان مذکورہ بالا دونو اقتباس سے جو قرآن سے ہم نے کئے ہیں ان میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ موسیٰ نے انسان کا خون کیا اور ہارون نے بُت پرستی ، موسیٰ اورہارون دونوں نے اقبال کیا کہ انہوں نے سخت گناہ کیا اور دونو نے مغفرت چاہی۔ پھر کیونکر کہا جاسکتاہے کہ موسیٰ اورہارون دونوں بے گناہ تھے؟

حضرت داؤد بھی زنا اورخون کرنے سے گناہ کا مرتکب ہوئے جس کے لئے خدا نے اسے ایک تمثیل دے کر تنبیہ کی اوراس نے اپنے گناہوں کی معافی جھک کر مانگی ۔د یکھو۔

سورة ص ۲ ع آیت ۲۴، ۲۵


قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَى نِعَاجِهِ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنْ الْخُلَطَاء لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَقَلِيلٌ مَّا هُمْ وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَفَغَفَرْنَا لَهُ ذَلِكَ

ترجمہ: داؤد کو خیال ہواکہ ہم نے ان کو صرف (اس تمثیل سے) حکم دیا۔ توانہوں نے اپنے پروردگار کے آگے استغفار کیا اور سجدے میں گر پڑے اوررجوع ہوئے تو ہم نے ان کی وہ خطا معاف کردی۔

اب کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ داؤد گناہ میں آلودہ نہ تھے۔ جبکہ یہ لکھا موجود ہے کہ انہوں نے توبہ کی اورکہ وہ گناہ کے مرتکب ہوئے اوراس کی معافی مانگی اور معافی مل بھی گئی ۔

اور یوں ہی یونس کی بابت بھی لکھاہے ۔دیکھو

سورة الصفت ۵ع آیت ۱۳۹، ۱۴۰، ۱۴۱

وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ إِذْ أَبَقَ إِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنْ الْمُدْحَضِينَ فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ

ترجمہ: اوربیشک یونس بھی پیغمبروں میں سے ہے کہ جب بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کے پاس پہنچا قرعہ ڈالا اورہار گیا پھر اس کو مچھلی نے نگل لیا اوراپنے تئیں ملامت کرتا تھا۔

سورة الانبیاء ۶ ع آیت ۸۷

وَذَا النُّونِ إِذ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ أَن لَّن نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ

ترجمہ:اور ذوالنون (یعنی یونس) کویاد کرو جب خفا ہوکر چل دیا اور اس کو ایسا واہمہ گزرا کہ ہم اس پر قابو نہیں پاسکینگے تو اندھیروں کے اندر چلا اٹھا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو پاک ہے میں نے بڑا ظلم کیا۔

اب یہ کیونکر کہا جاسکتاہے کہ یونس بیگناہ تھا جس حال کہ وہ خدا کے سامنے سے بھاگا ۔ اس کی حکم عدولی کی اوراپنے گنہگار ہونے کا اقبال کیا؟ قرآن کو دیکھ کر اور یہ معلوم کرنے سے کہ اس میں بہت سی ایسی آیتیں پائی جاتی ہیں جن میں یہ بتلایا گیاکہ نبیوں نے ایسے ایسے مکروہ گناہ کئے اور خدا سے مغفرت مانگی اور اپنے گناہوں کی مغفرت حاصل بھی کی۔ تب پھر کیونکر کہا جا سکیگا کہ وہ معصوم تھے ؟ لہذا ضرور ہوا کہ مسٹر منرو جناب شمس العلما مولوی احمد سے مکرر یہ اقتباسات پیش کرکے یہ سوا ل کریں۔ ایک سال تک تو مولانا ممدوح کو فرصت ہی نہ ہوئی کہ سوال کا جواب دیں۔ آخر کار بعد مدت مدید کے جوجواب انہوں نے ارسال فرمایا وہ ان لفظوں میں ہے۔


" ہماری دینیات کی کتابوں سے یہ ظاہر ہے ہوتاہے کہ کوئی نبی بعد عہدہ نبوت حاصل کرنے کے قصداً یا غیر قصداً کسی گناہ کبیرہ کا مرتکب نہیں ہوا اورنہ قصداً کوئی گناہ صغیرہ اس سے سرزد ہوا گو قبل پانے عہدہ نبوت کے اس نے کسی قسم کا گناہ کیا ہو۔ یہ توبالکل حق ہے۔ کہ بعض آیات سورة الاعراف میں آدم کی لغزش کا اشارہ ہے۔ مگر یہ لغزش اس وقت ظہورمیں آئی جبکہ وہ حّوا کے ساتھ بہشت میں رہتا تھا اورابھی نبی کے عہدے پر مقرر نہ ہوا تھا۔پس اس کے اس گناہ کا حوالہ کسی طرح بھی ہماری مذہبی تعلیم کے مخالف نہیں ۔ کیونکہ اس گناہ کا تعلق نبی کے قبل زمانہ عہدہ نبوت پانے سے متعلق ہے۔۔۔۔۔ یہی دلیل دوسرے انبیاء مثل موسی ،ابراہیم ، داؤد اورہارون کے لئے بھی کافی ہے۔ کیونکہ انہوں نے بھی کبھی قصداً یا غیر قصداً کوئی گناہ کبیرہ نہیں کیا اور نہ بعد پانے عہد نبوت کے کوئی گناہ صغیرہ قصداً آیا غیر قصداً کیا۔ اگرکبھی کوئی خطا ان سے ہوئی ہوگی تو یہ غیر قصداً یا سہواً ہوئی ہوگی ۔

کیسی حیرت انگیز با ت ہے۔ لائق مولوی صاحب نے پہلے فرمایا کہ نبیوں کا صراط مستقیم پر ہونا ان کےمعصوم ہونے کی دلیل ہے ۔ جب مولوی صاحب کے اس دعوے کو پوچ ثابت کرکے دکھلایا گیا کہ یہ بیان قرآن کے اس حصے کے بالکل خلاف ہے جہاں نبیوں کے گناہوں کا ذکر تفصیل وار ہوا ہے۔ تواس کے بعد عالم اجل مولوی صاحب ایک دوسرا دعویٰ کرتے ہیں کہ کسی نبی نے کبھی بعدہ عہدہ نبوت پانیکے کوئی گناہ کبیرہ قصداً یا غیر قصداً نہیں کیا اورنہ کوئی گناہ صغیرہ قصداً ان سے سرزد ہوا ۔ لیکن مولوی صاحب کا یہ بیان بھی کلیتاً قرآن کی تعلیم کی ضد میں ہے کیونکہ عالم اجل شمس العلما مولوی احمد صاحب جب ایسا بیان فرماتے ہیں کہ کسی نبی نے کوئی گناہ بعد عہد ہ نبوت پانے کے نہیں کیا ۔ تو یقیناً قرآن کی بہت سی سورتوں کو فراموش کردیتے ہیں جہاں بڑی صفائی سے لکھا ہے کہ آدم گناہ کبیرہ کا ملزم ہے۔

اب سنئے کہ قرآن بعض نبیوں کی بابت کیا کہتاہے ۔ اول آدم ۔

سورة الاعراف ۱۴ع آیت ۱۹۰

فَلَمَّا آتَاهُمَا صَالِحاً جَعَلاَ لَهُ شُرَكَاء فِيمَا آتَاهُمَا فَتَعَالَى اللّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ

ترجمہ:جب خدا ان کو پورا بچہ عنایت کرتا ہے پھر اس سے جو خدا نے ان کو عنایت کی تھی خدا کے شریک بنانے لگتے ہیں سو ان کے شریکوں سے خدا کی شان بہت اونچی ہے ۔

دیکھو قرآن بتلاتاہے کہ آدم نے بُت پرستی کا قبیح گناہ کیا۔ محمدیوں اورعیسائيوں کے نزدیک بُت پرستی سے بڑھ کر اور کون سا گناہ ہوسکتاہے ؟ اوراب دیکھو کہ یہ گناہ اس نے کب کیا ؟ بعد اس کے کہ وہ عہد نبوت پر مقرر ہوچکا تھا۔ ہاں اس کے بعد جب وہ گناہ کرنے کےباعث بہشت سے نکالا گیا۔ ہاں اس وقت جب وہ زمین پر مثل ایک نبی کے مقرر تھا۔ پھر کیونکر مولوی صاحب کہنے کی جرات کرتے ہیں کہ آدم نے بعد نبی بننے کے کوئی گناہ نہیں کیا؟

ان کا یہ بیان بالکل غلط ہے اور قرآن کی تعلیم کے خلاف ہے۔

دوم۔ موسیٰ :ہم دکھلا چکے ہیں کہ موسی  نے ایک انسان کا خون کیا ۔ گنہگار ہوکر خدا سے اس طرح معافی مانگی۔

سورة القصص ۲ ع آیت ۱۵

قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي


ترجمہ: اے پروردگار میں نے تو سچ مچ اپنی جان پر ستم کر ڈالا پس مجھ کو بخش دے۔

کب حضرت موسیٰ نے گناہ کیا ؟ دیکھو

سورة القصص ۲ ع آیت ۱۳

وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَاسْتَوَى

ترجمہ ۔جب موسیٰ اپنی جوانی کو پہنچا اورپورے قدکا ہوا۔

ہاں اس وقت کہ وہ نبی ہوچکا تھا۔ پھر مولوی صاحب کیونکر انکار کرتے ہیں کہ موسیٰ بعدنبی بننےکے کسی گناہ کا مرتکب نہیں ہوئے ؟ ان کا یہ کہنا غلط ہی نہیں ہے۔ بلکہ قرآن کی تعلیم کے بھی مخالف ہے۔

سوم۔ ہارون ۔ ہم اوپر بیان کر آئے کہ قرآن میں یہ لکھاہے کہ ہارون نے بت پرستی کا گناہ کیا اوریہ گناہ ایسا کریہ تھا کہ موسیٰ  اس کی تاب نہ لاسکے اور غصے میں اس کے سر کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا ۔ (سورة الاعراف ۱۸ع آیت ۱۵۰) اب کب ہارون  نے یہ گناہ کیا؟ بعد اس کے کہ وہ نبی ہوا اور اس وقت جب وہ موسیٰ کا جانشین ہوکر کام کررہا تھا اورموسی ٰ سے ایک خاص حکم اس بارے میں پایا تھا۔ اور وہ حکم یہ ہے۔

سورة الاعراف ۱۷ع آیت ۱۴۲

وَقَالَ مُوسَى لأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلاَ تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ

ترجمہ: اورموسیٰ اپنے بھائی ہارون سے کہتے گئے ۔ میری قوم میں میری نیابت کرتے رہنا۔ میل جول رکھنا اور مفسدوں کے رستے نہ چلنا۔

اب کیونکر مولوی صاحب یہ بڑہانک سکتے ہیں کہ ہارون نے کبھی کوئی گناہ بعدنبی کے نہیں کیا؟ ان کا یہ کہنا نادرست اورقرآن کی تعلیم کے منشا کے بالکل خلاف ہے۔

چہار۔ حضرت داؤد ۔ کب داؤد  زنا اور قتل کے گناہ کا مرتکب ہوئے جس کے لئے خدا نے ایک مثال سے جتلایا ۔ جس کے لئے اس نے اپنے رب سے مغفرت مانگی اور جھک کر توبہ کی ؟ جیسا ہم پیچھے سورة ص ۲ع آیت ۲۴، ۲۵ میں بتلاآئے ہیں۔ یعنی بعد اس کے کہ وہ نبی ہوگیا تھا بلکہ اس وقت جب وہ زبوروں کا بہت بڑ ا حصہ پاچکا تھا۔ پھر کیونکر مولوی صاحب دُرفشاں ہیں کہ حضرت داؤد نے کوئی گناہ نبی ہونے کے بعد نہیں کیا ؟ ان کا یہ بیان بالکل غلط اور قران کی تعلیم کے خلاف ہے۔

پنجم۔ ابراہیم : کب ابراہیم نے تین گناہ جھوٹ بولنے کے کئے جن کو وہ روز قیامت یاد کریگا (جیسا کہ مشکوةالمصابیح جلد ۱باب فوزا لتکبیر میں لکھاہے ) اورانہیں گناہوں کے ساتھ وہ دوسرے گناہوں کا بھی ذکر کرتاہے اوریوں لکھتا ہے۔ دیکھو

سورة ابراہیم ۶ ع آیت ۴۲

رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ

ترجمہ: اے میرے رب مجھ کو ۔ میرے ماں باپ کو میرے سب ایمان والوں کو حساب کےدن بخش دیجئیو۔


کیا یہ گناہ اس نے اس وقت کئے کہ وہ نبی نہ تھا؟ نہیں۔ہر گز نہیں۔ بلکہ نبی ہونے کے بہت مدت بعد ۔ پھر نہ معلوم کیونکر مولوی صاحب کہہ سکتے ہیں کہ ابراہیم سےنبی الوالعزم نے ہرگز نبی ہونے کے بعد کوئی گناہ نہیں کیا؟ یہ تو صریح خلاف بیان ہے اور قرآن کی تعلیم کے بھی خلاف ہے۔

ششم۔ حضرت یونس ۔ یہ نبی جیسا کہ ہم دیکھ چکے خدا کے حضور سے فرار ہوا۔ خدا کا حکم عدول کیا۔ خود اپنے آپ کو ملامتی اورظالم بتلایا۔ دیکھو سورة الانبیاء ۶ع آیت ۸۷ اورسورة الصفت ۵ ع آیت ۱۳۹) اب یہ گناہ کب اس نے کئے ؟ بعد اس کے کہ وہ نبی ہوا۔ پھر کیونکر مولوی صاحب کہتے ہیں کہ یونس نے کوئی گناہ نبی ہونے کے بعد کبھی نہیں کیا؟ یہ بالکل خلاف ہے اور قرآن کی تعلیم کو رد کرنا ہے؟

یہ تمام باتیں مولوی احمد صاحب کے سامنے پیش کی جاتی گئیں مگر انہوں نے کوئی جواب نہ دیا اور دیتےکیونکر۔ وہ تو پہلے ہی پیش بندی کرکے مطلع کرچکے تھے کہ ان کو مباحثہ جاری رکھنے کی فرصت نہیں ہے۔

اب مذکورہ بالا جوابوں سے اس قدر باتیں بڑی صفائی سے ثابت ہوئی ہیں۔

اول ۔ کہ کسی قرآن کی سورة میں انبیا ء کو معصوم نہیں بتلایا گیا۔

دوم۔ اگرچہ بعض نبی الوالعزم ہیں مثل ابراہیم۔ موسیٰ،داؤد اورآدم وغيرہ۔ اور ان سب کی نسبت یہ بھی لکھاہے کہ وہ سیدھی راہ پر تھے۔ مگر ان سبھوں نے گناہ کیا اورعاصی ہوئے۔

سوم۔ یہ کہ جو گناہ ان نبیوں نے کئے وہ گناہ کبیرہ تھے اورنیز کہ ان سے کہ بعد عہدہ نبوت پانے کے یہ گناہ سرزد ہوئے۔

چہارم۔ جبکہ مولوی احمد صاحب یہ فرماتے ہیں کہ انبیاء معصوم تھے تو یہ بیان ان کا اپنا ہے جس کے لئے قرآن میں کوئی سند نہیں اوریہ قرآن کی تعلیم کے خلاف ہے۔

پنجم۔ جبکہ مولوی احمد صاحب یہ کہتے ہیں کہ کسی نبی نے نبی ہونے کے بعد کوئی گناہ نہیں کیا تو یہ ان کا بیان واقعات کے خلاف ہے اورکلیتاً قرآن کے الفاظ کو رد کرتاہے۔

اب ہم یہ دیکھیں کہ کیا محمد اور دیگر انبیاء میں جو ان سے پیشتر مبعوث ہوئے کوئی فرق ہے؟ دیکھو وہ اپنی نسبت خود کیاکہتے ہیں؟

سورة حم آلسجد ۱ع آیت ۵

قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ

ترجمہ: تو کہہ میں بھی تم جیسا بشر ہوں۔

سورة النجم ۳ عآیت ۵۶

هَذَا نَذِيرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْأُولَى

ترجمہ: یہ (رسول) اگلے ڈر سنانے والے میں سے ایک ڈر سنانے والا ہے۔

سورة آ ل عمران ۱۵ع آیت ۱۴۴

وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ


ترجمہ:محمد اس سے بڑھ کر اورکچھ نہیں مگر ایک رسول ہے اوربس اس سے پہلے اوربھی رسول ہوگذرے ۔

جو کچھ اس سے پہلے لکھا گیا۔ اس سے بخوبی مثل آفتاب نصف النہار کے روشن ہوگیاکہ نبی الوالعزم مثل آدم ، ابراہیم، موسی، داؤد، ہارون، وغیرہ قرآن کی تعلیم کے مطابق معصوم تھے ۔ پس جب یہ قرآن بیان کرتاہے ۔ کہ محمد ﷺ بھی دوسرے نبیوں میں سے جوان کے قبل ہوگذرے کسی بات میں الگ نہ تھے۔ تو کیا اس سے یہی سمجھا نہ جائیگا کہ دوسرے انبیا کے مطابق وہ بھی گنہگار تھا؟کیا قرآن میں کوئی سورة ایسی ہے جس میں بیان ہوا ہو کہ وہ معصوم تھے؟ نہیں ایک بھی نہیں اورمولوی احمد صاحب اورمُلا صاحب ندیا قبول کرتے ہیں کہ قرآن کی کسی سورة میں براہ راست محمدﷺ کی بیگناہی کا ذکر نہیں ہوا۔ توپھر کس بنیاد پر کہا جاتاہے کہ محمدﷺ معصوم تھے؟ یہ دعوے بلا دلیل ہے ۔ ماسوا اس کے قرآن تو خود صفائی سے پکار کر کہہ رہا ہے کہ وہ بھی مثل دوسرے نبیوں کے تھے یعنی گنہگار ۔کیا اس کے معنی یہ ہیں کہ جب آدم ،موسیٰ ،ابراہیم ،داؤد اوردیگر انبیاء نے گناہ کیا اور خدا سے مغفرت مانگی اسی طرح محمدﷺ نے بھی گناہ کیا اور مغفرت مانگی۔ بالضرور کیونکہ قرآن کا بیان یہی ہے۔ دیکھو۔

(۱۔) سورة المومن ۶ع آیت ۵۴

فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ

ترجمہ: صبر کرو بیشک خدا کا وعدہ برحق ہے اوراپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہو۔

(۲۔)سورة محمد ۲ع آیت ۱۹

فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ

ترجمہ:جانتے رہو کہ الله کے سوا کوئی معبود نہیں اوراپنے گناہوں کی معافی مانگتے رہو اور ایماندارمردوں اور ایماندار عورتوں کے لئے بھی ۔

(۳۔)سورة النسا ۱۶ع آیت ۱۰۵، ۱۰۶۔

وَلاَ تَكُن لِّلْخَآئِنِينَ خَصِيمًاوَاسْتَغْفِرِ اللّهِ إِنَّ اللّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا

ترجمہ:دغابازوں کے طرفدار نہ رہو اور الله سے گناہوں کی معافی مانگو۔

(۴۔)سورة النصر ۱ع آیت ۳

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ

ترجمہ:اپنے پروردگار کی حمد وثنا کرو اوراس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو۔

(۵۔) سورة الاحزاب ۵ع آیت ۳۷

وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ


ترجمہ:اوریاد کرو اس بات کو ۔۔۔۔۔اورتم جس کو چھپاتے تھے اپنے دل میں جس کو الله ظاہر کرنے والا تھا اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے اوراس کا زیادہ حق دار الله ہے کہ تم اس سے ڈرو۔

(۶۔)سورة الفتح ۱ع آیت ۱، ۳

إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًالِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ

ترجمہ: حقیقت میں ہم نے کھلم کھلا تمہاری فتح کرادی تاکہ خدا تمہارے اگلے اور پچھلے گناہ معا ف کرے۔

یہ مذکورہ بالا چھ آیتیں قرآن میں موجود ہیں جن میں بڑی صفائی سے ذکر ہوا ہے کہ محمدﷺ گنہگار تھے اوران کو خدا کی طرف سے فہمائش ہوئی کہ اپنے خاص گناہوں کی معافی مانگیں ۔ شمس العلما مولوی احمد صاحب فرماتے ہیں کہ " کہ ایسی آیتوں کے معنی عام ہیں کہ محمد ﷺ کو اپنے لئے حکم نہیں ہوا تھا کہ توبہ کرو مگر یہ ہدایت ان کو کی گئی کہ اپنی اُمت کو ایسا کہنا سکھلاؤ کہ جب وہ گناہ کریں تو کہیں توبہ "۔ مگر مولوی صاحب کی یہ تعلیم بھی نادرست ہے اورہم بیان کرکے ثابت کرچکے ۔ کہ مولانا ممدوح کی تعلیم قرآن کے بالکل خلاف ہے خاص کر جب یہ کہتے ہیں کہ تمام انبیاء معصوم تھے تو یہاں وہ ایک اور دوسری خطا کرتے ہیں کہ محمدﷺ کو خاص طور سے اپنی ذات کے لئے حکم توبہ کرنے کا نہیں ہوا تھا "۔ اب اس کے لئے ہم ثبوت پیش کرتے ہیں۔

اول۔ (الف) جب آدم نے خدا کی نا فرمانی کی تو یوں کہا جیسا کہ

سورة الاعراف ۲ع آیت ۲۳ میں ہے۔

قَالاَ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ

ترجمہ: اور دونو لگے کہنے کہ ہمارے پروردگار ہم نے اپنے تئیں آپ تباہ کیا اور اگر تو ہم کو معاف نہیں فرمائیگا اورہم پر رحم نہیں کریگا۔ تو ہم بالکل برباد ہوجائینگے۔

اب کیا اس سے یہ صاف معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اپنے اور حوّا کے گناہوں کی معافی مانگتا تھا ؟ پھر کیونکر کہا جاسکتا ہے کہ وہ دوسروں کو معافی مانگنا سکھلاتا تھا جس حال کہ کوئی دوسرا آدمی زمین پر موجود نہ تھا۔

(ب )جب موسیٰ نے خون کیا تو یوں کہا ۔

سورة القصص ۲ ع آیت ۱۶

قَالَ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَ لَهُ

ترجمہ: دعا کی کہ اے میرے پروردگار میں نے تو اپنے اوپر ستم کر ڈالا تو میرا گناہ معاف فرما اور خدا نے اس کو بخش دیا۔

اب کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ اس نے اپنے ہی گناہ کی مغفرت مانگی؟ دیکھو کیا لکھا ہوا نہیں ہے کہ خدا نے اس کو بخش دیا؟

(ج) جب ابراہیم نے کہا۔ سورة ابراہیم ۶ ع آیت ۴۱


رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ

ترجمہ: اے میرے پروردگار جس دن حساب ہونے لگے مجھ کو اور میرے ماں باپ کو اورایمان والوں کو بخش دیجیو۔

کیا اس نے اپنے ہی گناہوں کی معافی کا اوراپنے ماں باپ اور ایمان والوں کے گناہوں کا ہی ذکر نہیں کیا؟

(د) جب نوح نے کہا ۔ سورة ہود ۸ ع آیت ۴۷

قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَإِلاَّ تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُن مِّنَ الْخَاسِرِينَ

ترجمہ:کہ اے میرے پروردگار میں تیری ہی پناہ مانگتا ۔۔۔۔۔ میرا قصور معاف نہیں کریگا تو میں برباد ہوجاؤ نگا۔

کیا اس نے اپنے ہی گناہ کی معافی نہیں مانگی جو اس نے خدا کی مرضی کے خلاف کیا ۔ یعنی اپنے بیٹے کے لئے سفارش کی تھی جس کی بابت خدا نے کہا تھاتھاعَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ یعنی یہ کام اچھا نہیں ہے۔

(ہ) جب داؤد نے کہا ۔ سورة ص ۲ ع آیت ۲۴، ۲۵۔

وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ

ترجمہ: اس کو خیال ہوا کہ ہم نے اس کو صاف اس تمثیل سے حکم دیا ہے تو ا س نے اپنے پروردگار کے آگے استغفار کی اور سجدے میں گر پڑا اور رجوع کیا اور معافی مانگی۔

کیا اس سے صفائی سے ظاہر نہیں ہوتا کہ اس نےاپنے اس بڑے گناہ یعنی زنا اور خون کی معافی مانگی ؟ کیا یہ نہیں لکھاہے؟

فَغَفَرْنَا لَهُ ذَلِكَ

اور ہم نے اس کی وہ خطا معاف کردی "۔ کیا اس سے خدا نے ا س کو تنبیہ نہیں کی ؟ کہ زنا میں پھر نہ ہونا۔ دیکھو خدا کیا کہتاہے۔

(د) جب یونس یوں چلایا " سورة الاانبیاء ۶ ع آیت ۸۷

فَنَادَى فِي الظُّلُمَاتِ أَن لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ

اندھیرے کے اندر چلا اٹھا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے میں نے بڑا ظلم کیا۔

تو کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ اس نے اپنے ہی گناہ کے لئے توبہ کی کیونکہ اسی سورة کی آیت ۸۸ میں یوں لکھاہے

فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَنَجَّيْنَاهُ مِنَ الْغَمِّ

" تو ہم نے اس کی سن لی اوراس کو غم سے نجا ت دی ۔۔۔"

کیا ان تمام آیتوں سے بلاکسی تزع کے یہ ثابت نہیں ہوا۔ کہ یہ تمام انبیاء مثل آدم ، موسیٰ ، ابراہیم ، نوح ، داؤد ،یونس نےجب لفظ توبہ کا استعمال کیا اور جن گناہوں کے وہ مرتکب ہوئے تھے اور جن کے لئے انہوں نے توبہ کی تھی اور وہ ان کو معاف بھی ہوئے وہ ان کو ہی معاف ہوئے ۔


دوم۔اب محمدﷺ کی بابت قرآن ہم کو بتلاتاہے کہ یعنی کہ وہ بھی مثل دیگر انبیاء کے ہیں۔ مثل دوسرے نبیوں کے انہو ں نے بھی گناہ کیا انہیں کی مانند ان کی فہمائش ہوئی کہ اپنے گناہ کے لئے توبہ کریں۔

(الف)سورة محمد ۲ ع آیت ۱۹ میں ان زور کے ساتھ یوں کہا۔

وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ

ترجمہ : اپنے گناہ اور ایماندارمردوں اور عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگ۔

کیااب اگر محمدﷺ کو اپنے گناہوں کے لئے معافی مانگنے کا حکم نہ ہوتا یعنی ان گناہوں کے لئے جو گناہ انہوں نے خود کئے اورساتھ ہی ایمانداروں کے ان گناہوں کی معافی کے لئے جو ان سے سرزد ہوئے تو پھر ان الفاظ کے کیا معنی ہوسکتے ہیں ؟

(ب) سورة النساء ۱۶ع آیت ۱۰۵ میں محمدﷺ کی بابت یوں لکھاہے ۔

وَلاَ تَكُن لِّلْخَآئِنِينَ خَصِيمًا

ترجمہ : دغابازوں کا طرفدار نہ بن۔

دیکھو کیا اس آیت کی بابت معزز مفسرین مثل جلال الدین اور یحییٰ نہیں کہتے ہیں کہ یہ آیت اس لئے نازل ہوئی کہ محمدﷺ کو اس کے برُے ارادے کے لئے ملامت کی جائے کیونکہ" تیماً ابن اوبیراک نے کوئی کپڑا چرُایا تھا مگر محمدﷺ کو اس کی رعایت منظور تھی اس کے عوض ایک بیگناہ یہودی کو ملزم قرار دینا چاہتے تھے؟ کیا اس سے یہ صاف ظاہر نہیں ہوتا کہ محمد ﷺ کو حکم ہوا کہ اپنے اسی گناہ کی جو ان سے سرزد ہوئے معافی مانگیں۔

(ج)سورة الاحزاب ۵ع آیت ۳۷

وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ

ترجمہ: اور تو جس کو چھپاتا تھا اپنے دل میں جس کو الله ظاہر کرنے والا تھا اور تو لوگوں سے ڈرتا تھا اور خدا اس کا زیادہ حق دار ہے کہ گو تو اس سے ڈر۔

کیا اس کے صاف معنی یہی نہیں ہیں کہ خدامحمدﷺ کو ملامت کرتاہے اس گناہ کے لئے جس کے لئے وہ خدا کی نسبت آدمیوں سے زيادہ ڈرتے تھے؟ اور کیا مفسرین مثل الجنابی البیضاوی نے اس کی تفسیر میں یہ نہیں سنایاکہ یہ اس گناہ سے علاقہ رکھتاہے جو محمدﷺ صاحب کے اپنے متنبیٰ بیٹے زيد کی جورو سے نکاح کرنے کی بابت تھا؟

(ہ)سورة الفتح ۱ ع آیت ۱، ۲ میں یوں لکھاہے

إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًالِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ

ترجمہ: حقیقت میں ہم نے کھلم کھلا تجھ کو فتح کردی تاکہ خدا تیرے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کرے۔

کیا یہ فتح یعنی مکہ پر محمدﷺ کا قبضہ کرادینے سے متعلق نہیں ہے؟ تو کیا اس سے یہ صاف ثابت نہیں ہے کہ جس شخص کو فتح دی جاتی ہے اس کے اگلے اورپچھلے گناہ بھی بخشے جاتے ہیں ؟ تو کیا یہ شخص محمد نہیں ہے اور کیامفسرین مثل الذمخشری ، البیضاوی ،جلال الدین اوریحیی ٰ نے اگلے پچھلے ان


گناہوں کی بابت یہ نہیں کہاکہ پہلے گناہ تو وہ ہیں جو ماریہ قبطیہ کےساتھ محمدﷺ کی روسیاہی کرنے میں ہوئے۔ دوسرے گناہ جو زینب یعنی اپنے متنبیٰ بیٹے کی جورو سے نکاح کرنے میں ہوا۔ اب چاہے مفسرین کی رائے درست ہو یا نہ ہو مگر اس سے اس قدر ثابت نہیں ہوتا کہ محمدﷺ کی نسبت اگلے اور پچھلے گناہوں کے کرنے کا ذکر ہے ؟اسی کا ذکر کتاب مشکواة المصابیح (جلد ۴ باب الحوض والشفاعت مطبوعہ نولکشہور صفحہ ۴۱۲، ۴۱۳) میں ہے اس میں یوں لکھاہے کہ روز قیامت کو مسلمان کوشش کرینگے کہ انبیاء ان کے لئے سفارش کریں ۔ مگر سب انبیاء عذر کرتے ہوئے کہینگے وہ اس قابل نہیں ہیں اور آخر کار کہینگے کہ محمد کے پاس جاؤ جو خدا کا بندہ ہے جس کے اگلے پچھلے گناہ خدا نے بخش دئیے ہیں۔ پوری حدیث حسب ذيل ہے۔

" اور روایت ہے انس سے کہ تحقیق روکے جائينگے مسلمان روز قیامت اور ٹھیرے ہونگے سکتہ کی حالت میں پس کہینگے کہ کاشکہ طلب کرتے کسی کو شفاعت کرتا ہماری اورپہنچاتا ہم کو راحت کے مکانوں میں پس روئینگے مسلمان حضرت آدم کے پاس کہینگے کہ تم آدم ہو باپ سارے لوگوں کے پیدا کیا تم الله تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے اوررکھا تم کو بہشت میں اور سجدہ کروایا واسطے تمہارے اپنے فرشتوں سے اور سکھائے تم کو نا ہر چیز کے شفاعت کرو ہماری نزدیک اپنےپروردگار کے اور پہنچاؤ ہم کو راحت کے مکانوں میں ۔ پس کہینگے آدم کہ نہیں ہوں میں اس مقام میں اس رتبہ میں یاد کرینگے وہ گناہ اور تقصیر اپنی کہ پہنچی ہیں ان کو کھانے کے درخت سےلیکن جاؤ تم نوح کے پاس کہ اول نبی مرسل ہیں کہ بھیجا انکو اوپر کافروں روئے زمین کے اور یاد کرینگے نوح گناہ اپنا کہ پہنچے اس کو کہ وہ سوال کرتے تھے پروردگار اپنے سے نجات بیٹے کی غرق ہونے سے نادانستہ ولیکن جا ؤ تم ابراہیم کےپاس کہ دوست خداے ِ مہربان کے ہیں۔ پس روئینگے لوگ ابراہیم کے پاس کہینگے وہ بلاشبہ میں نہیں ہوں اس مرتبے کا اور یاد کرینگے وہ تین جھوٹ کہ کہا تھا ان کو دنیا میں لیکن جا ؤ تم پاس موسیٰ کے کہ ایک بندہ ہے الله کا کہ دی ہے ان کو الله تعالیٰ نے ان سے بے واسطہ نزدیک کیا ان کو پس آئينگے وہ حضرت موسیٰ کے پاس وہ کہینگے کہ تحقیق میں نہیں اس مرتبے کا اوریاد کرینگے وہ اپنی اس خطا کو کہ جو پہنچی تھی ان کو ایک شخص کے قتل کرنے سے لیکن جا ؤ تم عیسیٰ کے پاس کہ بندہ خاص خدا کا ہے اور رسول اس کا اور روح الله کی او رکلمہ اس کا ہے پس آئینگے عیسیٰ کے پاس پس کہینگے عیسیٰ میں نہیں ہوں اس مرتبے کا لیکن جا ؤ تم محمد کے پاس کہ ایک بندہ ہے کہ بخش دئے ہیں خدا تعالیٰ نے ان کے اگلے اور پچھلے گناہ۔

اب کیا اس آیت سے سورة الفتح کی تصدیق نہیں ہوتی کہ محمد صاحب نے اگلے اور پچھلے گناہ کئے اورانہیں کی معافی مانگی اوراپنے خاص گناہوں کےلئےتوبہ کی ؟

سوم۔ محمدﷺ کی عدم عصمیت ہردوفریق یعنی سنیوں اور شعیوں دونو کی حدیثوں میں بھی مرقوم ہے۔

(الف) حیات القلوب جلد دوم صفحہ ۷۵ میں امام جعفر سے روایت ہے کہ ایک رات جب محمدﷺ اُم سلمہ کے گھر میں نماز پڑھ رہے تھے کہ انہوں نے روکریوں کہا ۔ " اے میرے پروردگار مجھ کو دوبارہ ان گناہوں کی طرف جن سے تونے مجھ کو نجات دی نہ جانے دے اورمجھ کو ایک پل بھی اپنی مرضی پر نہ چھوڑ"۔ اُم سلمہ نے ان سے کہا آپ کیوں ایسا کلمہ منہ سے نکالتے ہیں جبکہ خدا نے آپ کے اگلے اورپچھلے گناہ معاف کردئے ہیں۔ انہوں نے درد سے کہا " اے بی اُم سلمہ مجھ کو کیونکر چین آئے یا تسکین ہو جبکہ خدا نے یونس کو صرف ایک ہی خطا کے لئے خوار کیا تھا ؟ اب کیا یہ صفائی سے ظاہر نہیں کرتا کہ محمدﷺ نے اقرار کیا کہ انہوں نے گناہ کئے ہیں اور کہ یونس نبی نے بھی گناہ کیا تھا؟ کیااس سے یہ بھی ظاہر نہیں ہوتا کہ بی اُم سلمہ بھی اس سے باخبر تھیں کہ نبی ممدﷺ نے گناہ کئے تھے جبکہ خدا نے بخش دیا تھا؟ اورکیا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ امام جعفر نے اپنی کتاب میں محمدﷺ کی عدم عصمت کو درج کیا ہے؟


(ب) حیات القلوب جلد دوم صفحہ ۳۰۱ ۔ ایک دن محمدﷺ خطبہ پڑھ رہے تھے ۔ خدا کی حمدوثنا کے بعدانہوں نے لوگوں کو مخاطب کیا اورآخر میں مکرر اپنے گناہوں کا اقرار کیا ۔ اورکہا خدا مجھے اورمیری اُمت کو بخش دے "۔ اور پھر لوگوں کی طرف مخاطب ہوکر کہا کہ " میں تمہارے اوراپنے گناہوں کی معافی خدا سے مانگتا ہوں"۔ اب کیا یہ حدیث اس با ت کو نہیں بتلاتی ہے کہ محمدﷺ اپنے ہی گناہوں کے لئے لفظ توبہ کا استعمال کیا؟

(ج) مشکواة المصابیح میں بخاری ومسلم کی سند سے ذکر ہے کہ محمدﷺ نے اپنے گناہوں کا اقرار کرکے یوں دعا کی۔

" میرے گناہوں کو معاف کرخواوہ پیچھے کے ہوں یا آگے خواہ پوشیدہ خواہ آشکارا اورجنہیں توہی جانتاہے۔

اب کیا اس میں محمدﷺ اپنے ہی گنہگار ہونے کا اقرار نہیں کرتے؟

(د) مشکواة المصابیح جلد دوم باب الاستغفار صفحہ ۳۰۶ مطبوعہ نولکشوری میں بخاری اورابوہریرہ سے مروی ہے کہ " محمدﷺ نے کہا قسم ہے الله کی تحقیق میں البتہ استغفار کرتا ہوں الله تعالیٰ سے اورتوبہ کرتا ہوں طرف اس کی دن میں زیادہ ستربار سے۔

اسی کے نیچے ایک اور حدیث میں یوں لکھاہے ۔

" اور تحقیق میں البتہ استغفار کرتا ہوں الله سے دن میں سوبار۔

اسی کی جلد دوم کے صفحہ ۱۰۴۵ میں مسلم عائشہ سے روایت کرتاہے۔

" یا الہیٰ دھوگناہ میرے برف کے پانی سے اوراولے سے مجھ کو پاک کر گناہوں سے ساتھ طرح طرح کی مغفرتوں کے جیسا کہ لوگ کرتے ہیں کپڑے کو پاک اورپاک کر میرے دل کو برُے اخلاق سے جیساکہ پاک کیا جاتا ہے کپڑا۔ اورمیرے گناہوں کو مجھ سے ایسا ہی دورکردے ۔ جیسا کہ مشرق سے مغرب دور ہے۔

اسی مقام پر صفحہ ۳۴۶ میں عائشہ سے ایک اور حدیث مروی ہے۔

" یا الہیٰ میں پناہ مانگتا ہوں تجھ سے اس برُےکام کےلئے کہ کیا میں نے اور برُائی اس کام کی سے کہ نہیں کیا میں نے ۔

اور مشکواة المصابیح کی چوتھی جلد کی حدیث میں ہم نقل کرچکے ہیں جس میں محمدﷺ کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دئے۔

(ہ) اوراسی طرح مشکواة المصابیح جلد اوّل باب التکبیر مطبوعہ نولکشوری میں ابوہریرہ کی روایت سے آیا ہے کہ محمدﷺ سے لوگوں نے پوچھا کہ آپ درمیان تکبیر اورسورہ کے کیا کہا کرتے ہیں۔

" اس کا جواب یہ دیا۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ اے میرے پروردگار میرے گناہوں کو مجھ سے الگ کر جس طرح تونے پورب اورپچھم کا فاصلہ رکھاہے ایسا ہی مجھ سے میرے گناہ دور ہوں۔ اے میرے رب میری خطاؤں کو اورمجھ کو ایسا ہی صاف کر جیسا کہ کپڑے میل سے صاف کرتے ہیں۔ اے میرے رب میرے گناہوں کو برف کے پانی سے دھو۔

اسی مشکواة المصابیح میں علی ابن ابو طالب کی روات سے آیا ہے ۔ کہ جب نبی ﷺ نماز کےلئے کھڑے ہوتے تھے اورمنتوں کے علاوہ یہ منت بھی کرتے تھے۔ اے میرے رب میرے وہ گناہ جومیں نے کئے معاف کر اور وہ بھی جن کا قصور وار میں ہوں۔ اور وہ جو پوشیدہ کئے اور وہ جو بظاہر کردئے اور وہ جن کو صرف تو ہی جانتا ہے کیونکہ تو ا ن کو مجھ سے زيادہ جانتا ہے۔


اب اس سے زیادہ الفاظ اورکون سے درکار ہیں ؟ کیا یہ حدیث میں نہیں آیا کہ محمد ﷺ گنہگار تھے اور زور مرہ بلاناغہ خدا سے اپنے گناہوں کے لئے توبہ کیا کرتے تھے ؟

پس قرآن اورحدیث کے یہ کل اقتباسات بوجوہات فیل انبیاء اور محمدﷺ کی عدم عصمت پر اقبالی ڈگری دیتے ہیں۔

(۱) کہ قرآن کی کسی سورة میں محمدﷺ کو معصوم نہیں بتلایا۔

(۲)قرآن کی کسی سورة میں دیگر انبیاء کو معصوم نہیں بتلایا۔

(۳) قرآن کے بہت سے مقامات میں یہ واضح طورپر بیان ہواہے کہ انبیاء مثل آدم، نوح، ابراہیم، موسیٰ ،ہارون اور داؤد اوریونس غیر معصوم تھے۔

(۴) بہت سے مقامات میں قرآن سے ثابت کیا گیا کہ انبیاء نے اپنے اپنے گناہوں کی معافی کےلئے توبہ کی ۔

(۵)قرآن کے بہت سے مقامات سے ثابت ہوا ہے کہ محمدﷺ بھی مثل ان دوسرے انبیاء کے ہیں جوان سے قبل معبوث ہوئے ۔

(۶)قرآن کے بہت سے مقامات میں محمد ﷺ کو فہمائش ہوئی اپنے خاص گناہوں یعنی ہر دواگلے اورپچھلے کےلئے توبہ کرے۔

(۷)کئی حدیثوں میں محمدﷺ کی عدم عصمت کا واضح طور سے ذکر ہوا جس کا اقرار خود محمدﷺ نے آپ ہی کیا ہے۔

پس اب جب شمس العلما مولوی احمد صاحب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انبیاء معصوم تھے اور نیز کہ محمدﷺ نے کوئی گناہ نہیں کیا اورنہ کسی گناہ کی معافی مانگی۔ تو یہ ان کا کہنا قرآن اور حدیث کی تعلیم کے بالکل خلاف بلکہ لغور ہے۔

اب جب یہ حالت ہے کہ کیونکر کوئی انسان مثل ابراہیم، یا موسیٰ یا داؤد یاوہ تمام انبیاجن کے گنہگار ہونے کا ذکر قرآن میں ہوا کسی کو بچاسکتے ہیں اورکیونکر کوئی انسان مثل محمدﷺ کے وہ بھی قرآن کی رو سے گنہگار ثابت ہوئے کسی گنہگار کو نجات دے سکتے ہیں؟

ہمیں گناہ سے صرف وہی بچا سکتا ہے جس نے ایک دفعہ یہ فرمایا تھاکہ "

تم میں سے کون ہے جو مجھ پر گناہ ثابت کرسکتاہے۔ وہ تھے جناب سیدنا عیسیٰ مسیح۔او روہی ہمیں نجات دے سکتے ہیں۔