#


GOSPEL OF BARNABAS

انجیلِ برنباس

از

علامہ سلیم عبدالاحد صاحب بی۔ اے

اور

علامہ ڈبلیو ایچ۔ ٹی۔گیرڈنر صاحب بی۔ اے


Christian Literature Society for India
Punjab Branch Ludhiana, 1910


جسکو

کرسچن لٹریچر سووسائٹی فار انڈیا نے
شائع کیا


۱۹۱۱

AN
ESSAY AND INQUIRY

OF

GOSPEL OF BARNABAS

BY

SELIM ABD-UL-AHAD

AND

W.H.T. GAIRDNER



#

William Henry Temple Gairdner

(31 July 1873 – 22 May 1928)

was a British Christian missionary with the
Church Missionary Society in Cairo, Egypt



اِنجیلِ برنباس

تمہید

انجیلِ برنباس کی ایک عالمانہ طبع اطالیہ زبان میں انگریزی ترجمہ تمہید(کسی بات کا آغاز) اور حواشی (حاشیہ کی جمع۔ کنارے)کے ساتھ شائع ہونے کے سبب سے مشرقی ممالک کی توجہ و دلچسپی اِس کتاب کی طرف سے زیادہ ہو گئی ہے۔

ہندوستان اور مصر میں اگرچہ اس عجیب کتاب کے نفس مضمون سے کسی کو کچھ آگاہی نہیں تو بھی اس کا نام مدتوں سے مشہور چلا آتا ہے اور اگرچہ ان لوگوں کے پاس صرف نام ہی نام ہے تو بھی اس کا بہت چرچا کرتے ہیں۔ اہل ہند اور اہلِ مصر نے نہ کبھی اس کو دیکھا ہے اور نہ پڑھا ہے اور اگر سیل صاحب تمہید(کسی بات کا آغاز) ِقرآن میں اس کا ذکر نہ کرتے تو شاید ان لوگوں کو کبھی نام بھی معلوم نہ ہوتا لیکن یہ دین ِ عیسوی کے مخالف بڑے زور سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انجیل برنباس نئے عہد نامہ کی تردید کرتی ہے اور اہل اسلام جو کچھ مسیحی کتب اور مسیحیت کے خلاف کہتے ہیں اس کی موید و مصدق(تائید کرنے والا، مددگار) ہے۔ پس ان لوگوں نے یہ سخت غلطی کھائی ہے کہ ایک ایسی کتاب کو اپنا سب سے بہتر اوزار تصور کر کے استعمال کیا ہے جس کی بابت سوائے نام کے انہیں مطلق کچھ علم و واقفیت حاصل نہیں ہے۔
مفہوم۔اب انجیل ِ برنباس کی ایک سہل الحصول(جو حاصل کرنے میں آسانی ہو) طبع شائع ہو گئی ہے اس کے لیے ممکن الحصول ہے اور اس بات کی بہت سی علامات دیکھنے میں آئی ہیں۔ کہ سب لوگوں میں عموماً اور اسلامی ممالک میں خصوصاً اس کی طرف توجہ و شوق میں ترقی ہو رہی ہے۔ ہندوستان اور مصر میں ترجمے شائع ہو رہے ہیں اور اس کتاب کی تواریخ حقیقت کے باب میں نہایت سرگرمی سے تحقیق و تدقیق(اصل بات جاننے کے لیےغور و فکر کرنا) ہو رہی ہے نہایت افسوس کی بات ہے کہ دینی مناظروں اور مباحثوں (بحث کی جمع) میں در حال یہ کہ حق جوئی کا خیال مقدم ہو نا چاہیے اکثر لوگ کوتاہ اندیشی سے حقیقت کو چھپاتے اور صریح لغویات کو حق و راستی کے نام سے پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ اس کتاب میں ہم اس کا مفصل بیان کر ینگے۔
حق بات تو ہمیشہ خود ہی ظاہر ہو کر رہتی ہے اور اہم اسکو اس بات سے فی الحقیقت بہت خوشی ہے کہ اس افسانہ کے بہت سے ترجمے شائع ہو رہے ہیں شاید دینی مباحثوں میں ہم آئندہ کو انجیل ِبرنباس کا نام نہیں سُنا کرینگے۔ ہمیں پختہ یقین ہے کہ جب مشرقی ممالک میں دیانتدار اصحاب اس کتاب کے نفس مضمون سے آگاہ ہو جائے گے تو ضرور اس کو حقیقی اور تواریخی طور پر ہیچ(کم، قلیل) اور باطل قرار دیں گے۔
چنانچہ اس رسالہ میں ہم ایسے اسباب بہم پہنچائے گے جن کے وسیلہ سے پڑھنے والا اپنی ٹھیک رائے قائم کر سکے۔ ہم اطالیہ زبان کے مسودہ(وہ تحریر جو سر سر ی طور پر لکھی جائے اور جسے صاف اور صحیح کرنے کی ضرورت ہو) کی تواریخ پر بحث کرینگے اور دیکھےگے کہ اس کی تواریخ وزمانہ اور تصنیف پر کوئی بیرونی شہادت اگر مل سکتی ہے تو وہ کیا ہے اور پھر جو کچھ انجیل ِ برنباس میں مندرج ہے اسی کے رو سے دیکھے گے لیکن سب سے پہلے ضرور ہے کہ ہم اس نام انجیل کے ٹھیک معنی مقرر کریں اور اوقات دینی مناظروں میں مناظرین دیر تک بڑے زور و شور سے جھگڑتےہیں۔ لفظ انجیل کے مفہوم کے باب میں متفق نہیں ہوتے بلکہ فریقین کا مفہوم جداگانہ اور مختلف ہوتا ہے۔ ہر مباحثہ و مناظرہ میں نہایت ضروری ہے کہ اصطلاحات کے معنی معین (مقرر) اور متفق علیہ(اس پر اتفاق کرنا) ہوں۔ کوئی اصلاح ایسی نہیں ہے جس کو انجیل کی طرح ہر مخالف و موافق نے بیوقوفی سے نا مناسب طور سے استعمال کیا ہو۔ پس لازم ہے کہ ہم سب سے پہلےیقینی طور پر بخوبی صفائی سے سمجھ لیں کہ انجیل کے معانی کیا ہیں اور کیا نہیں ہیں۔

باب اوّل

لفظ اِنجیل کے معانی

۱۔لفظ انجیل کااصل مطلب خوشی کی خبر ہے اور مسیحی کتاب میں اس سے وہ خوشی کی خبر مراد ہے جو یسوع مسیح گنہگار دنیا کے لیے لایا ۔ اس کا اظہار خواہ اس نے اپنے اقوال سے کیا ہو خواہ ان افعال سے جن کا وہ نبی آدم کی خاطر فاعل بنا۔ ابتدا میں یسوع مسیح اور ا س کے شاگردوں اور رسولوں کے نزدیک انجیل کا مفہوم یہی تھا۔ چنانچہ انجیلِ مرقس کے پہلے باب کی پندرہوں آیت میں مرقوم ہے۔’’توبہ کرو اور انجیل پر ایمان لاؤ‘‘۔ اب اس آیت کا مفہوم ہرگز ہرگز یہ نہیں ہو سکتا کہ کتاب پر ایمان لاؤ کیونکہ ان ایام میں کتاب تو تھی ہی نہیں ۔ بلکہ اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ جو خوشی کی خبر میں لایا ہوں اس پر ایمان لاؤ۔
۲۔ لیکن اصطلاحاً اس لفظ سے وہ نوشتے مراد ہیں جن میں اس خوشی کی خبر یا انجیل کا بیان مرقوم و محفوظ ہے اور ہم تک پہنچایا گیا ہے۔ چنانچہ بعض لوگ اس سے تمام مسیحی نوشتے جن کے مجموعہ کو نیا عہد نامہ یا عہد ِ جدید کہتے ہیں مراد لیتے ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ صاف انہی معنوں میں استعمال کیا گیا ہے۔ اگر ہم اس لفظ کو انہی معنوں میں استعمال کریں جو معنی ہم اس سے سمجھتے ہیں تو کچھ مضائقہ(مسئلہ) نہیں۔
۳۔ مگر کلیسیا کی اصطلاح میں اس لفظ سے وہ چار نوشتے مراد ہیں جن کے وسیلہ سے مسیح کی زمینی زندگی کے بیان اور کتاب مقدس کے باقی حصص(حصہ کی جمع ) میں تمیز کی جاتی ہے لہذا ان چار نوشتوں میں سے کسی ایک کے لیے جداگانہ اس لفظ کو استعمال کرنا درست نہٰیں ہے۔ مثلاً اصل یونانی الفاظ کے مطابق ’’ متی کی انجیل ‘‘ کا مفہوم یسوع مسیح کی وہ خوشخبری ہے جس کا بیان متی نے لکھا ہے۔ یہ کہنا سخت غلطی ہے کہ چاروں انجیل نویسوں (انجیل لکھنے والے ) نے جداگانہ ایک ایک انجیل لکھی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان چاروں نے جیسا ان کو الہام ہوا مسیح کی زندگی کا بیان اور اسکا پیغام تحریر کیا۔ ان مختلف نوشتوں کے نام قرآن کی سورتوں کے ناموں کی طرح غیر الہامی ہیں۔ پس ہم نے دیکھ لیا کہ لفظ انجیل صریحاً(کھلم کھلا، صاف ، ظاہر ) تین مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے یعنی

۱۔ خوشی کی خبر بلحاظ مادہ
۲۔ تمام مسیحی کتاب اصطلاحاً اور عموماً
۳۔ یسوع مسیح کی زندگی کے چار بیان اصطلاحاً اور خصوصاً

جب مسلمان اور مسیحی باہم (اکھٹے) بیٹھ کر گفتگو کرتے ہیں تو عموماً تمام مسیحی کتاب مراد لیتے ہیں لیکن اگر فریقین میں سے کوئی یہ چاہے کہ جزو کو کل کے معنوں میں استعمال کرے اور اس سے مسیح کی زندگی کے چار بیان یا ان کا کوئی حصہ مراد لےتو اس بات کو خوب مد ِنظر رکھے کہ ایسا کرنے میں تمام مسیحی نوشتوں کی مجموعی وحدت کے خلاف ایک حرف نہ کہے۔
اب ہم یہ دریافت کرینگے کہ مسیح کی زندگی کے اس چارچند بیان کو دیگر موجود وغیرہ موجود بیانات سے کیا نسبت ہے۔ اس کی زندگی کے دیگر بیانات دو قسم کے ہیں۔

الف۔ وہ جو رسولوں کے زمانہ میں تصنیف ہوئے۔
ب۔ وہ جو رسولوں کے زمانہ کے بعد تصنیف ہوئے۔
الف۔ہمارے نزدیک صرف وہی قابل لحاظ ہیں جو رسولوں کے زمانہ میں تصنیف ہوئے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ایک وقت میں ان کا وجود تھا اور اس وقت وہ قابلِ قدر و قبولیت تصور کئے جا سکتے تھے۔ ہر چند ہم ان کو الہامی تسلیم نہ کریں۔ چنانچہ لوقا نے اپنی تمہید (کسی بات کا آغاز) میں لکھا ہے۔

’’بہتوں نے اس پر کمر باندھی ہے کہ جو باتیں ہمارے درمیان واقع ہوئیں ان کو ترتیب دار بیان کریں جیسا کہ انہوں نے جو شروع سے خود دیکھنے والے اور کلام کے خادم تھے انہیں ہم کو سونپا‘‘۔

اس سے صاف ثابت ہوتا ہےکہ لوقا نے ان بیانات کو پڑھا اور ان سے فائدہ اخذ کر کے ہم تک پہنچایا۔ وہ بیانات اِسی حد تک کار آمد تھے۔ اس کے بعد وہ متروک و معدوم (ترک اور نیست کیا گیا)ہو گئے اور اب چونکہ ان میں سے ایک بھی باقی نہیں اس لیے عیسائیوں اور مسلمانوں کو ان پر مزید بحث کی کچھ ضرورت نہیں۔
ب۔دوسری صدی میں بہت سی اناجیل تصنیف ہوئیں اور ان کے مصنفین نے انہیں معتبر قرار دینے کی غرض سے ان کو رسولوں سے منسوب کیا۔ ان میں سے بعض تو بالکل معدوم ہو چکی ہیں اور بعض کے کچھ حصے موجود ہیں۔ ان کے مصنفین کاذب (جھوٹے) اور کوتا ہ اندیش اشخاص تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ رسولوں کے نام استعمال کرنے کے وسیلے سے کلیسا کو مسیح کے حق میں رسولوں کی تعلیمات اور خیالات کے خلاف تعلیم کی متعقد بنا ئیں۔ چنانچہ جو انجیل پطرس سے منسوب کی گئی وہ بھی ایسی ہی ہے اور اس کے کچھ حصے باقی ہیں۔ اسی قسم کا ایک مسودہ(وہ تحریر جو سر سر ی طور پر لکھی جائے اور جسے صاف اور صحیح کرنے کی ضرورت ہو) بسیلڈیس ملحد(فاسق، کافر ، بے دین) نے استعمال کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ وہ اس کو ’’انجیل ِ مقدس ‘‘ کہتا تھا اور اس کا یہ بیان تھا کہ مجھے یہ انجیل گلاوکس کی معرفت پطرس کی طرف سے ملی ہے۔ اس کا بیان بالکل سہل پیرا(سجانے ولا، زرد پیلا) یہ کا ہے لیکن خدا کی روح اس طرح سے کام نہیں کرتی۔ یہ کتاب نہ صرف معدوم و مفقود(کھویا ہوا، ختم شدہ )ہی ہو گئی ہے بلکہ ہمارا خیال ہے کہ اس کو کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔ ایسی کتاب کے حق میں نہ صرف فیصلہ ملتوی (دیر ) رکھنا چاہیے بلکہ لازم ہے کہ اسکو اول درجہ کی بد دیانتی اور جعلسازی (جھوٹ اور فریب) قرار دیں۔
اب ان دوسری صدی کی اناجیل پر بھی مزید بحث کی کچھ ضرورت نہیں لہذا ہم انجیل ِ برنباس کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ از بس حیرت کا مقام ہے کہ ان دوسری صدی کی جعلی اناجیل میں بھی برنباس کا نام ندارد ہے! پس صرف یہی بات نہیں کہ انجیل برنباس رسولوں کے زمانہ کی تصنیف نہیں ہے بلکہ اسے یہ اعزاز بھی حاصل نہیں کہ ابتدائی زمانہ کی جعلسازیوں میں شمار کی جائے۔ لیکن ایسی حالت میں ان کتابوں میں سے جعلی اور اصل یا سچی اور جھوٹی کی تمیز کس طرح ہو؟
صرف اسی بات سے تمیز ہو سکتی ہے کہ جو فی الحقیقت رسولوں نے لکھیں وہ آخر کار عام منظوری اور قبولیت کے ساتھ قائم اور باقی رہیں اور دیگر تمام نامنظور و نا مقبول ٹھہر کر معدوم (فنا کیا گیا )ہو گئیں۔ پس ہماری اناجیل اربعہ اس لیے باقی رہیں کہ ان میں بقا کاوصف(عمدگی ، اچھی خوبی یا صفت) موجود تھا۔ وہ رسولوں کی تصانیف حقیق مسیح کا سچا بیان اور الہامی تھیں۔

کیا اس قسم کی تحقیق (اصل بات جاننے کے لیےغور و فکر کرنا)اور چھان بین الہام کی نقیض ہے؟ ہرگز نہیں۔ قرآن کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا تھا۔ بعض آیات روکی گئیں کیونکہ ان کی صحت و صداقت کے کافی دلائل بہم نہیں پہنچ سکتے تھے۔ لہذا ہم بھی یہی بات کہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے اپنے اس کلام کی مقبولیت جسے اس نے اپنی پروردگاری اور روح کے وسیلہ سے لکھوا یا۔ الہام سے قائم کی اور اس طرح سے موجودہ مسیحی کتاب یا انجیل نے جسے عہد ِ جدید بھی کہتے ہیں بقا حاصل کی۔
پس اس سے یہ صاف نتیجہ نکلتا ہے کہ اب ان چاروں کے سوا کسی اور کتاب کے لیے مقبولیت کا موقع نہیں ہے۔ تحقیق و تدقیق(اصل بات جاننے کے لیےغور و فکر کرنا) اور تصدیق(چھان بین) کا کام ہو چکا اور اب یہ کام دوبارہ ہرگز نہیں ہو سکتا کیونکہ آخری فیصلہ وہ لوگ کر چکے ہیں جو ایسا فیصلہ کرنے کی لیاقت اور قابلیت رکھتے تھے اور اس فیصلہ کا وقت بھی وہی تھا جب کیا گیا لہذا وہ فیصلہ خدا نے ٹھیک وقت پر ٹھیک لوگوں سے کروایا اور اب نہ وہ لوگ ہیں اور نہ وہ وقت ہے اور نتیجہ ً اب دوبارہ فیصلہ ہو سکتا۔ جب اب قرآن کی کوئی نئی سورۃ قبول نہیں کی جا سکتی اسی طرح سے اب ناممکن ہے کہ کوئی نئی کتاب انجیل یا عہد جدید میں داخل کی جائے۔
لہذا اب انجیل برنباس یا کسی اور کی انجیل کے لیے جگہ نہیں بلکہ ایسی تصانیف قطاً مردود ہیں۔ ایسی کتابیں اگر کہیں سے دستیاب ہوں بھی تو ان کی زیادہ سے زیادہ یہ قدروقیمت ہو سکتی ہے کہ ان کو دلچسپ روایات کے صیغہ(سانچے میں ڈھلی ہوئی چیز) میں رکھیں اور اناجیل اربعہ کی تعلیمات کے لحاظ سے ان کی (عمدگی ، اچھی خوبی یا صفت)ا اندازہ لگائیں لیکن اس انجیل ِ برنباس کی کیا حقیقت ہے؟ اس میں تو از حد مگر وہ جعلسازی کے نشان اور ثبوت موجود ہیں اور علاوہ بریں برنباس سے پانچ سو ۵۰۰ سال بعد تک بھی تواریخ میں اس کا کہیں نام و نشان تک نہیں ملتا۔ جس شخص میں ذرا بھی عقل و ہوش ہے وہ اسے محض ایک افسانہ قرار دے گا اور اس کے نام انجیل برنباس کی اس کے نزدیک وہی حقیقی ہو گی جو کسی کی جعلی تصنیف تو زک(آپ بیتی) یوسفی کی ہو سکتی ہے۔ ہمارے نزدیک تو یقیناً انجیل برنباس کی یہی حقیقت ہے۔ یہ نام انجیل برنباس محض ایک افسانے کا نام ہے چنانچہ ہم اس حقیقت کو ثابت کرینگے۔ ہم ایک دن میں ایسی ہی ایک اور انجیل برنباس تصنیف کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنے سے ہم کو کون روک سکتا ہے ؟ کوئی نہیں لیکن ایسا بیوقوف اور نادان کون ہے جو اسے فی الحقیقت برنباس کی تصنیف تسلیم کر لے گا۔
اگر کوئی ہمارے ان بیانات سے یہ نتیجہ نکالے کہ چونکہ موجودہ اناجیل اور بہت سی تحریرات کے رد کئے جانے پر معتبر سمجھی گئیں اور ان کی بھی تحقیق و تدقیق(اصل بات جاننے کے لیےغور و فکر کرنا) ہوئی اس لیے یہ بھی انجیل برنباس کی طرح مشکوک اور پایہ اعتبار سے گری ہوئی ہیں تو سخت بیوقوفی ہو گی۔ کیا ایسے لوگوں کے نزدیک خالد ابن ثابت کا قرآن کی تحقیق اور جانچ پڑتا ل کرنا قرآن کی صحت و صداقت کو مشکوک ٹھہراتا ہے؟ کیا بخاری کی احادیث اور محمد صاحب کے حق میں بعد کے مسلمانوں کے افسانے برابر ہیں؟ کیا رسالت کا وہ امتیاز جو خدا کی ہدایت سے ہو ہیچ ہے(کم، قلیل) اور جو کتابیں اس الہیٰ امتیاز سے ممتاز اور صحیح ثابت ہوئی ہیں کیا وہ ان افسانوں کی مانند ہیں جو بسیلیڈیس کے وقت سے لےکر آج تک کسی شریر آدمی نے لکھے ہوں یا کوئی اب لکھے؟ ہیچ پوچ دلیلوں میں پناہ لینا ہر طرح سے کمتان حق و راستی سے کنارہ کشی پر دلالت(علامت ، نشان ، پتہ ) کرتا ہے۔ ہم پر فرض ہے کہ جو عقل و تمیز خدا نے ہم کو عنایت کی ہے اسے استعمال کریں او رایسی ہوشیاری و دیانتداری سے استعمال کریں کہ روزِ شمار میں مجرم نہ ٹھہریں۔ اناجیل اربعہ اور دیگر جعلی تصانیف میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اناجیل اربعہ الہیٰ ہدایت کے آلہ امتیاز اور حقیقی محک(کسوٹی ، وہ سیاہ پتھر جس پر سونا اور چاندی کو پرکھا جاتا ہے۔) امتحان سے حق ثابت ہوئی ہیں۔ ان کے علاوہ کسی اور انجیل کو نہ کبھی یہ رتبہ نصیب ہوا ہی نہ ہوگا۔ تواریخ کی اس پرعالمگیر شہادت ہے اور ہمارےمسلمان بھائی تواریخ کی اس شہادت کے ساتھ ہم آواز اور ہم زبان ہیں کیونکہ ان کایہ ایمان ہے کہ سراہ یا ۶۲۳؁ میں صحیح مسیحی کتاب یا انجیل موجود تھی اور مسلمان ہرگز ہرگز یہ بات ثابت نہیں کر سکتے کہ حال یا ماضی میں کوئی اور ایسی کتاب موجود تھی جس کےعوض میں یہ انجیل جاری ہوئی اور وہ کسی ایسی تبدیلی کی طرف بھی اشارہ نہیں کر سکتے۔ پہلے بھی بہت دفعہ یہ دعویٰ کیا گیا ہے اور ہم اب پھر کرتے ہیں لیکن چونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس کا کچھ جواب بن نہیں آئےگا اس لیے ہم بے توقف اس حقیقی اور واجبی نتیجہ کو پیش کرتے ہیں کہ مسیحی کتاب یا انجیل جو خدائے تعالیٰ نے مسیحی کے وسیلہ سے ہم کو عنایت فرمائی اب بھی وہی ہے جو سراہ میں موجود تھی۔
پس ہم پھر کہتے ہیں کہ اس انجیل کی موجودگی میں انجیل ِ برنباس ہو یا کوئی اور انجیل ہو قطعاً مردود ہے۔ لیکن ہم محققانہ دریافت کرینگے کہ انجیل برنباس کے حق میں اس کی اندرونی و بیرونی شہادتوں سے کیا ثابت ہوتا ہے۔

----------------------

بابِ دوئم

اِنجیلِ برنباس کے زمانہ تصنیف اور مصنف پر بیرونی شہادت

ہر ایک کتاب کا زمانہ تصنیف اور مصنف اس کی اندرونی و بیرونی شہادت کی مدد سے دریافت ہو سکتا ہے۔ کتاب کا نام ہی اس کے مصنف کو دریافت کرنے اور یقینی طور پر قرار دینے کے لیے کافی نہیں ہے۔
بیرونی شہادت سے یہ مراد ہے کہ کتاب زیر بحث کا وجود اس کے علاوہ دیگر ذرائع او ر وسائل سے ثابت ہو۔ جس زمانہ کی وہ تصنیف ہو اسی زمانہ کی یا اس کے بعد کے زمانہ کی دیگر تصانیف میں اس کا ذکر پایا جائے یا دوسری کتابوں میں اس کے مقتسبات (فائدہ اُٹھایا گیا)پائے جائیں۔
مثلاً قرآن کے وجود پر بیرونی شہادت یہ ہے کہ ساتویں صدی تک کی تصانیف میں اس کا ذکر پایا جاتا ہے۔ ان میں بہت سی قرانی آیات اقتباس (کانٹ چھانٹ) کی گئی ہیں اور علاوہ بریں اور بیشمار اشارات پائے جاتے ہیں۔
لیکن اندرونی شہادت وہ ہے جو خود کتاب زیر بحث میں پائی جائے۔ اس کے نفس مضمون طرز ِ بیان اور عبارت وغیرہ سے ضرور کسی خاص زمانہ کا پتہ لگاناممکن ہو گا۔ غالباً اس میں سن تصنیف کہیں مرقوم ہوگا جو کتاب کے مضامین اور طرزِ ادا کے لحاظ سے مقبول یا مردود ٹھہرےگا۔
پس دیگر کتب کی طرح انجیل ِ برنباس کے لیے بھی ضرور ہے کہ اسے اندرونی و بیرونی شہادت کے محک(فائدہ اُٹھایا گیا ) امتحان سے خوب دیکھا جائے۔ چنانچہ
۱۔ہم کو یہ دریافت کرنا چاہیے کہ پہلی دوسری صدی یا اس سے بعد کے زمانہ کی تصانیف میں اس کا ذکر پایا جاتا ہے یا نہیں اور اس کا پہلے پہل کب کسی نے ذکر کیا ہے۔
۲۔خود اس کتاب کے نفس مضمون اور عبارات سے اس کی تصنیف کا زمانہ معین ہو سکتا ہے یا نہیں۔
حسن و تسبیح کی پہچان کا اصلی او رحقیقی طریقہ یہی ہے جو اب تک مشرقی دنیا میں اخیتار نہیں کیا جا تا ہے لیکن اسے سیکھنا اور کام میں لانا لازم ہے کیونکہ اس دقیقہ(کوئی بہت چھوٹی چیز، معمولی) رسی اور حق شناسی کے طریقہ کی عدم موجودگی کے سبب سے ہی ایسا ہو رہا ہے کہ اب تک اس اعلیٰ درجہ کی بد دیانتی کا امکان ہے کہ انجیل ِ برنباس پہلی صدی کی تصنیف بیان کی جاتی ہے۔
اس بات میں ہم حتی الامکان بیرونی شہادت پربحث کرینگے اور باقی ماندہ ابواب میں اندرونی شہادت پر بحث ہو گی یعنی یہ دریافت ہوگا کہ یہ عجیب انجیل خود اپنی ذات میں اپنے حق میں صداقت و تصنیف کے کیا شواہد (گواہ) رکھتی ہے۔
الف۔ اب اس انجیل کا صرف ایک مسودہ (وہ تحریر جو سر سر ی طور پر لکھی جائے اور جسے صاف اور صحیح کرنے کی ضرورت ہو)موجود ہے اور وہ بھی اطالیہ زبان میں ہے۔
یہ مسودہ(وہ تحریر جو سر سر ی طور پر لکھی جائے اور جسے صاف اور صحیح کرنے کی ضرورت ہو) ۱۷۰۹؁ میں ایمسٹر ڈم شہر میں ایک شخص کریمر نامی کے ہاتھ آیا اور پھر دست بدست گردش کرتا ہوا آخر کار وی آنا کے شاہی کتب خانہ میں پہنچا جہاں اب تک موجود ہے۔

پس پہلے پہل ۱۷۰۹؁ میں اس کا ذکر ملتا ہے لیکن بعض نتائج کے لحاظ سے ہم ا س کو اس سے پیشتر کی تصنیف قرار دے سکتے ہیں۔ کیونکہ کتابوں کی عمر کا اندازہ لکھائی چھپائی۔ جلد بندی اور کاغذ کودیکھنے سے بھی لگا سکتے ہیں۔ چنانچہ لکھائی چھپائی جلد اور کاغذ کی شناخت میں ماہر اشخاص اس مسودہ کو سن عیسوی کی سولہویں صدی کی تحریر قرار دیتے ہیں لیکن اس سے کتاب کی تصنیف کا ابتدائی زمانہ معلوم نہیں ہو سکتا۔ قرآن کی ۱۹۰۷؁ کی لکھائی چھپائی اور کاغذ سے ہم یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ قرآن پہلے پہل ۱۹۰۸؁ میں شائع ہوا۔ اس بیان سے ہمارا مطلب صرف یہ ہے کہ اطالیہ زبان کا مسودہ(وہ تحریر جو سر سر ی طور پر لکھی جائے اور جسے صاف اور صحیح کرنے کی ضرورت ہو) بیرونی شہادت کے طور پر ہم کو صرف سولہویں صدی تک پہنچاتا ہےاور اس سے پیشتر کے زمانہ میں قدم رکھنے میں ہماری بالکل مدد نہیں کرتا۔

ب۔اب ہم ایک اور طرح کی بیرونی شہادت کو دیکھے گے۔ سیل صاحب نے اپنے ترجمہ قرآن کی تمہید(کسی بات کا آغاز) میں لکھا ہےکہ ان کے زمانہ میں انجیل ِ برنباس کا ایک اور مسودہ (وہ تحریر جو سر سر ی طور پر لکھی جائے اور جسے صاف اور صحیح کرنے کی ضرورت ہو)موجود تھا لیکن یہ مسودہ اطالیہ زبان میں نہیں تھا بلکہ ملک سپین کی بولی میں تھا۔ اب اس مسودہ کا کہیں پتہ نہیں ملتا اور چونکہ یہ معدوم(فنا کیا گیا ) ہو گیا ہے اس لیے ہمارے پاس صرف سیل صاحب کا بیان ہے۔ لیکن سیل صاحب کے بیان کو ہم حق تسلیم کر سکتے ہیں کیونکہ ہمیں ان معاملات میں انکی درست گوئی پر پوراپورا اعتماد ہے۔
سیل صاحب لکھتے ہیں کہ اس مسودہ کا ایک سرورق بھی تھا اور اس پر لکھا تھا کہ اسےسپین کے ایک مسلمان مصطفیٰ نامی نے اطالیہ زبان سے ترجمہ کیا۔ لیکن ہم یہ بات یاد رکھیں کہ اطالیہ زبان کے مسودہ(وہ تحریر جو سر سر ی طور پر لکھی جائے اور جسے صاف اور صحیح کرنے کی ضرورت ہو) یا اس کے ترجمہ میں جو سپین کی بولی میں کیا گیا اس کی عربی اصل کی بابت ایک لفظ بھی نہیں ملتا۔
سپین والے مسودہ کے دیباچہ میں ایک حکایت مندرج ہے جس سے اطالیہ زمان کے مسودہ کو دریافت کرنے والے کی خود نمائی خوب عیاں ہے۔ اس حکایت کا بیان کرنے والا ایک مسیحی فقیر فرامیر نیو نامی ہے۔ وہ اس مسودہ (وہ تحریر جو سر سر ی طور پر لکھی جائے اور جسے صاف اور صحیح کرنے کی ضرورت ہو)کی تواریخ کے باب میں یہ دعویٰ کرتا ہے ک پوپ سکسٹس پنجم کے زمانہ میں اتفاقاً یہ مسودہ اس کے قبضہ میں آگیا۔ چنانچہ وہ لکھتا ہے ’’ میں نے اتفاقاً آئزینس کی ایک تحریر پولوس رسول کے خلاف دیکھی جس میں اس نے انجیل ِ برنباس کا حوالہ دیا ہوا تھا۔ مجھے اس انجیل کے حصول کا شوق ازبس دامنگیر ہوا اور عنایت ایزدی سے مجھے پوپ سکسٹس پنجم کی دوستی کا شرف حاصل تھا۔ ایک دن ہم پوپ مذکور کے کتب خانہ میں تھے۔ پوپ سوگیا اورمیں نے چاہا کہ کوئی کتاب لے کر پڑھوں چنانچہ میں نے ایک کتاب اُٹھائی اور کیا دیکھتا ہوں کہ میرے ہاتھ میں انجیل برنباس ہے۔ میں بہت خوش ہوا اور انجیل کو فوراً چھپا لیا اور پوپ کے بیدار (جاگنے ) ہونے پر رخصت چا ہی اور انجیل بغل میں دبا کر گھر پہنچا۔ اس انجیل کو پڑھنے سے میں نے دین اسلام قبول کیا۔
سپین کی زبان کے مسودہ کے دیباچہ میں یہ مذکورہ بالا حکایات مرقوم تھی۔ حکایت تو بڑی عجیب ہے لیکن اس پر غور کرنے سے ذیل کے نتائج مستنبط ہوتے ہیں۔
۱۔ ممکن ہے کہ یہ حکایت مسلمان مترجم مصطفی ٰ باشندہ سپین کی ایجاد اور اختراع ہو کیونکہ مفروضہ اصل مسودہ کے حوالہ سے خواہ مخواہ یہ خیال پیدا ہوتا ہے اور طرفہ تر ماجرا یہ ہے کہ اطالیہ زبان کے موجودہ مسودہ میں اس حکایت کا مطلق ذکر تک نہیں ملتا۔

۲۔اس حکایت ہی میں بہت سی لغو اور بے بنیاد باتیں موجود ہیں۔ مثلاً پوپ کا سو جانا اور کتاب کا اتفاقی طور سے ہاتھ آجانا اور پھر کتاب کو چُرا لینا وغیرہ ایسی باتیں ہیں جو بجائے حقیقت کے بالکل بناوٹ اور فسانہ کی صورت رکھتی ہیں۔ علاوہ بریں آئرینس کا پولوس رسول کے خلاف لکھنا اور انجیلِ برنباس کا حوالہ دینا بالکل لغو ہے کیونکہ آئرینس کا حوالہ دینا بالکل لغو ہے کیونکہ آئرینس تو پولوس رسول کے خطوط اور اس کی تصانیف کو الہیٰ مانتا ہے اور خلاصتہ ً یوں لکھتا ہے کہ صرف ہماری اناجیل اربعہ ہی خدا کی طرف سے ہیں۔ بھلا یہ کہاں ممکن ہو سکتا ہے کہ ایسے شخص نے پولوس رسول کے خلاف لکھا اور متی۔ مرقس۔ لوقا اور یوحنا کی اناجیل کے سوا کسی اور انجیل پر بھروسہ کیا؟ سپین کی زبان کے مسودہ کے دیباچہ کی حکایت کو لغو قرار دینے کے لیے یہی ایک بات کافی ہے۔
۳۔اگر یہ ممکن ہے کہ اسلام کی ترقی کے لیے مصفطی ٰ نے یہ حکایت ایجا د کی تو یہ بھی ممکن ہے کہ مصطفی ٰ نے ایسا نہ کیا ہو بلکہ ۱۵۸۵؁ سے ۱۵۸۹؁ تک کے زمانہ میں یہ حکایت فرامیر نیو نے وضع کی ہو۔ اس حالت میں مصطفیٰ کی جگہ فرامیرنیو دروغوں کا اور کاذب و مفتری(جھوٹے الزام رکھنے والا) ٹھہرے گا۔ لیکن اس سے آگے کچھ پتہ نہیں چلتا۔ اصل مجرم کو تحقیقی طورپر دریافت کرنا مشکل ہے اور پوپ مذکور کے کتب خانہ کے مسروقہ (چرائی ہوئی چیز) مسودہ(وہ تحریر جو سر سر ی طور پر لکھی جائے اور جسے صاف اور صحیح کرنے کی ضرورت ہو) کی نسبت کچھ نہیں لکھا کہ وہ کس زبان میں تھا۔
پس اندرونی و بیرونی شہادت سے ہم سولہویں صدی کے دوران میں اٹلی میں پہنچتے ہیں۔ ایک قسم کی شہادت میں ایک حکایت ملتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کتاب زیر بحث سولہویں صدی سے پہلے کی ہے۔ لیکن وہ حکایت ایسی غیر معتبر ہے کہ اسپر اعتماد نہیں ہو سکتا اور اس لیے وہ شہادت بھی مشکوک اور نامقبول ٹھہرتی ہے۔

بیشک اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ سولہویں صدی میں اٹلی کا کوئی فقیر فرامیرنیو نامی تھا تو ہم ضرور اس کو اول درجہ کا عیار یا اس جعلی اِنجیلِ برنباس کا مصنف بھی قرار دینگے۔ اندرونی شہادت سے معلوم ہوتا ہےکہ یہ انجیل ۱۳۰۰؁ سے ۱۳۵۰؁ تک کے زمانہ کی تصنیف ہے۔اس حالت میں ممکن ہےکہ اگر کوئی فقیر فرامیر نیو تھا تو اسے اس عجیب کتاب کی ایک جلد روم میں دستیاب ہوئی جسے اس نے پڑھا اور اگر وہ اس کتاب کو پڑھنے سے مسلمان ہو گیا تو ہم اسے عیار نہیں بلکہ بیوقوف کہےگے جیسا ہم کو امید ہے کہ اس انجیل کے مضامین پر غور کرنے کے بعد ہر ایک پڑھنے والا ہمارے ساتھ متفق(رضامند) ہوگا۔ اندرونی شہادت پر غور کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ فرضی عربیانجیلِ برنباس پر بھی کچھ کہیں۔ اول توہم فوراً یہ کہہ سکتے ہیں کہ کتاب زیر بحث کا مفروضہ عربی اصل سے کچھ واسطہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ

الف۔اس مفروصہ عربی اصل کا اطالیہ زبان کے موجودہ مسودہ (وہ تحریر جو سر سر ی طور پر لکھی جائے اور جسے صاف اور صحیح کرنے کی ضرورت ہو)میں مطلق ذکر نہیں۔ سپین کے گم شدہ مسودہ میں بھی اس کی طرف کوئی اشارہ تک نہ تھا اور فرامیرنیو نے بھی (اگر کبھی تھا) اس کی بابت کچھ نہیں کہا۔ پس انجیل زیر بحث اپنے اصل یا پہلے مسودہ کی نسبت نہیں بتاتی۔ صرف اپنے تئیں اِنجیل ِ برنباس کہتی ہے لیکن محض اسی سے تو کچھ ثابت نہیں ہوتا۔
ب۔زیر بحث اطالیہ زبان کے مسودہ(وہ تحریر جو سر سر ی طور پر لکھی جائے اور جسے صاف اور صحیح کرنے کی ضرورت ہو) کا طرز بیان ایسا ہے کہ اس سے ہرگز ہرگز عربی اصل پر دلالت(علامت ، نشان ، پتہ ) نہیں ہوتی بلکہ بخلاف اس کے صاف ثابت ہوتا ہےکہ اس کی اصل سوائے اطالیہ کے اور کچھ ہو ہی نہیں سکتی۔ عربی حواشی(حاشیہ کی جمع۔ کنارے) کو اس مضمون سے کچھ تعلق نہیں کیونکہ وہ کسی یورپین کی تحریر ہیں اور سخت اغلاط (غلطی کی جمع) سے پُر ہیں۔ ان سے صاف عیاں ہے کہ کسی نوآموزیورپین نےاطالیہ زبان کے بعض فقروں کو عربی میں ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
ج۔جن عالموں نے سپین والا مسودہ دریافت کیا تھا انہوں نے اپنے ہمعصر مسلمانوں سے بار بار کہا کہ اگر کوئی عربی اصل کا مسودہ ہے تو دکھاؤ لیکن وہ کبھی کچھ نہ دکھا سکے۔ الغرض انجیل زیر بحث کا کوئی عربی اصل نہ کبھی تھا اور نہ ہی وہ اسکی مدعی ہے۔

اب دوئم یہ بات بھی غور کے لائق ہے کہ کیا اس زیر بحث موجودہ مسودہ کے علاوہ کبھی کوئی انجیل برنباس عربی زبان میں موجود تھی ؟ یہ سوال بالکل ہماری پیش نظر تحقیقات سے کچھ واسطہ نہیں رکھتا کیونکہ ہماری بحث تو موجودہ مسودہ پر ہے۔ اگر اسی نام کی کوئی اور کتاب کبھی بھی تو صدہا سال سے معدوم(نیست و نابود، تباہ ) ہو چکی اور ہماری اس تحقیقات سے خارج ہے۔ پھر تمام حجت کی خاطر جو کچھ اس مضمون پر کہا جا سکتا ہے ہم کہینگے۔

الف۔ایک بے بنیاد افسانہ مشہور ہے کہ سن عیسوی کی پانچویں صدی میں جب برنباس رسول کی لاش سائپرس میں ملی تو ا س کی چھاتی پر اس کے اپنے ہاتھ سے لکھی ہوئی انجیل ِ متی پائی گئی۔ اس افسانہ کو پیش کرنے کا سبب یہ نہیں کہ اس کا اِنجیل ِ برنباس سے کچھ واسطہ ہے بلکہ محض یہ دکھانے کے لیے ہم اسے پیش کرتے ہیں کہ برنباس کی انجیل نویسی کے افسانہ کا آغاز کیونکر ہوا ہوگا۔
ب۔ پوپ گلیسیس کے ۴۹۲؁ سے ۴۹۶؁ تک کے زمانہ کا ایک فیصلہ بیان کیا جاتاہے جس کے چھٹے حصے میں بدعتی کتابوں کی فہرست میں انجیلِ برنباس کا ذکر ہے لیکن ہمیں بڑا بھاری شبہ ہے اور ہم اس بات کا یقین نہیں کر سکتے کہ کبھی یہ فیصلہ ہوا تھا۔ علاوہ بریں اور بڑے بڑے دلائل موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انجیل برنباس کا محض خیالی او ر موہوم ہستی کے سوا کچھ وجود تھا ہی نہیں۔ پھر یہ ایک عجیب حقیقت ہے کہ کسی مسلمان مصنف نے عربی انجیل برنباس کا ذکر نہیں کیا درحال یہ کہ مسلمان مسیحی نوشتوں کو رد کرتے ہیں اور مسیحیوں کو ان نوشتوں کی تخریب و تحریف کے مجرم قرار دیتے ہیں۔ اگر کوئی اِنجیلِ برنباس عربی زبان میں ان کےپاس ہوتی تو وہ ضرور اس سب سے اچھے اوزار کی طرح خوب استعمال کرتے۔ حال کے زمانہ مسلمان اس کے بہت سے حوالہ جات پیش کرتے ہیں۔ لیکن قدیم مسلمان مصنفین اور مفسرین اس انجیل کا کہیں نام تک نہیں لیتے۔ اس سے اظہر من الشمس ہے کہ انہیں اس کا مطلق علم نہ تھا۔ مثلاً ابن حزم چاروں انجیل نویسوں کو بڑی سختی سے رد کرتا ہے اور کہتا ہےکہ رسولوں کے نام بالکل نا معلوم ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ وہ انجیل برنباس کا مطلق ذکر نہیں کرتا جس سے اس کے بیانات کی تائید و تصدیق ہوتی ؟ پھر ابو فضل اور جعفری دو اور مسلمان مصنفوں نے اناجیل اربعہ کی صحت و درستی کو بظاہر تو تسلیم کر لیا ہے لیکن ان کا جو مطلب مسیحی سمجھتے ہیں ا س کو رد کیا ہے۔ ان دونوں میں سے کسی نے بھی کہیں عربی اِ نجیل ِ برنباس کا نام نہیں لیا۔ ۱۰۶۴؁ ہجری میں خلیفہ حد جی نے ایک کتاب تصنیف کی جس میں ان تمام کتابوں کا ذکر کیا جن کا اسے علم تھا لیکن اس میں بھی انجیل برنباس کا نام تک نہیں حالانکہ اس میں اس کا ذکر ضرور ہونا چاہیے تھا کیونکہ ایسی موافق کتاب کا ذکر اس کی تصنیف سے کیوں خارج رہتا۔ اس کے علاوہ تمام اسلامی تفاسیر اور دیگر کتب میں کہیں بھی عربی انجیل برنباس کی طرف کوئی اشارہ تک نہیں پایا جاتا۔ اس باب میں ان سب کی خاموشی کی تہ میں صرف یہی ایک بات ہو سکتی ہے کہ ان کو اس کی ہستی کا مطلق علم نہ تھا۔ پس اس حقیقت کی بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اہل اسلام کے وقت سے یعنی دین محمدی کے آغاز ہی سے یہ کتاب کبھی موجود نہ تھی اور پوپ گلیسیس کے وقت سے لے کر آج تک کبھی کسی نے اس کتاب کو نہیں دیکھا۔
ج۔پانچویں یا چھٹی عیسوی صدی کے ایک نہایت نامکمل اور خفیف اشارہ کے سوا نہ تو پہلی اور دوسری صدی کی جعلی کتابوں کی فہرست میں اور نہ تیسری چوتھی صدی میں کوئی ایسی تحریر یا تقریر پائی جاتی ہے جس میں کہیں انجیل برنباس کا نام و نشان ملے۔ پس اس حقیقت سے ہم ذیل کے نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔

الف۔کبھی کوئی عربی انجیل برنباس موجود نہ تھی۔
ب۔قبل از اسلام پوپ گلیسیس کے فیصلہ میں جو محض ذکر پایا تھا اس کے علاوہ وہ غالباً انجیل ِ برنباس کبھی موجود نہ تھی۔
ج۔بہر حال اطالیہ زبان کی موجودہ انجیل برنباس کی کچھ حقیقت نہیں ہم اسے ہرگز ہرگز کسی صورت میں انجیل برنباس نہیں کہہ سکتے۔ اس پر برنباس کا نام چسپاں کرنے ہی سے وہ انجیل برنباس نہیں بن سکتی۔ مثلاً اگر اب کوئی یوسف اور زلیخا کا قصہ لکھے تو کیا وہ گذشتہ صدیوں کے معتدد یوسف یا زلیخا میں سے ایک سمجھا جائے گا؟ یا اگر اس کا نام کوئی تو زک یوسفی رکھدے تو کیا اس سے یہ ثابت ہو گا کہ یوسف بن یعقوب نے خود اپنے ہاتھ سے اسے لکھا ہے؟ لیکن تعجب ہے کہ بہت سے لوگ یوں ہی ایک کتاب کو انجیل برنباس قرار دیتے ہیں اور بن سوچے سمجھے پانچویں عیسوی صدی میں موجود مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کو برنباس نے پہلی صدی میں لکھا تھا۔
بیرونی شہادت سے آخری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کتاب کا سراغ سولہویں صدی تک لگ سکتا ہے اور اس سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اندرونی شہادت سے بھی ہم اس کو اسی زمانہ سے منسوب کرینگے اور ہمارا آخری نتیجہ اور فیصلہ یہ ہوگا کہ انجیل برنباس اسی زمانہ کی جعلسازی ہے۔ اس کا مصنف ایسا آدمی تھا جو مسیحی دین سے واقف اور محمدیت سے جاہل تھا۔ جو چاہتا تھا کہ دین عیسوی کو نقصان اور دین محمدی کو فائدہ پہنچا دے۔ جو غالباً مسیحی سے مسلمان ہو گیا تھا اور اسپین والے مسودہ (وہ تحریر جو سر سر ی طور پر لکھی جائے اور جسے صاف اور صحیح کرنے کی ضرورت ہو)کے فرامیر نیو کی مانند تھا۔

-------------------------

باب سوئم

انجیلِ برنباس کے زمانہ تصنیف اورمصنف پر اندرونی شہادت

اس باب میں ہم یہ دریافت کرینگے کہ خود انجیل برنباس میں کیا لکھا ہے اور اس کی صحت و صداقت پر کونسی اندرونی شہادت بہم پہنچ سکتی ہے۔ چنانچہ اس مضمون کو صفائی سے سمجھنے کے لیے ہم اس بات کو فصولِ (فصل کی جمع) ذیل میں تقسیم کرینگے۔

فصل ِ اول۔ اس بات کے ثبوت میں کہ مصنف کوئی یورپین اور غالباًوسطی زمانہ کے اہل اٹلی میں سے تھا۔
فصل دوئم۔ اس امر کے ثبوت میں کہ مصنف ملکِ کنعان کی تواریخ اور جغرافیہ سے بالکل نا واقف تھا۔
فصلِ سوئم۔ اس حقیقت کے ثبوت میں کہ مصنف کے بیانات خود ہی پایہ اعتبار سے گرے ہوئے ہیں۔
فصل چہارم۔ اس عجیب بات کے ثبوت میں اگر چہ مصنف اسلام کی حمایت کا دم بھرتا ہے تو بھی قرآن کی مخالفت کرتا ہے۔

ان فصول کو لکھنے کے بعد ہم صورت نفی اور صورت اثبات میں وہ نتیجہ پیش کرینگے جو ہم نے مصنف انجیل برنباس کے حق میں نکالا ہے اور پھر اس کتابچہ کو چشمہ صداقت خدا تعالیٰ کے سپرد کر کے ختم کرینگے۔

--------------------

فصل اوّل

اِنجیلِ برنباس وسطی زمانہ میں اٹلی میں تصنیف ہوئی

۱۔ صد سالہ جوبلی

برنباس کے بیان کے مطابق مسیح سامری عورت کے ایک سوال کے جواب میں یوں کہتا ہوا پیش کیا گیا ہے’’ میں بے شک نجات کے پیغام کے ساتھ بنی اسرائیل کے پاس بھیجا گیا ہوں لیکن مسیح میرے بعد آئے گا۔۔۔۔۔ کیونکہ خدا نے تمام جہان کو اسی کی خاطر پیدا کیا ہے۔ جب وہ آئے گا تب کل دنیا میں خدا کی پرستش ہو گی اور اس قدر رحم کیا جائے گا کہ اب جو ایک سو سا ل کے بعد جوبلی ہوتی ہے وہ مسیح کے وسیلہ سے ہر سال اور ہر جگہ ہوا کرے گی۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ برنباس کے بیان کے کے مطابق جوبلی ایک صد سالہ تقریب سے ! حالانکہ در حقیقت قو مِ یہود میں ہر پچاس سال کے بعد جوبلی ہوا کرتی تھی۔ اب اس سخت غلطی کے لیے بھلا کونسا عذر (بہانہ ) تلاش کیا جاسکتا ہے؟
حقیقت یہ ہےکہ برنباس پوپ بونیفیس ہشتم کی صد سالہ جوبلی کاذکر کرتا ہے۔ جو پوپ موصوف نے پہلی ہی مرتبہ ۱۳۰۰؁ میں منائی تھی۔ اگرچہ پوپ مذکور کا یہ پختہ ارادہ تھا کہ اس جوبلی کو ہمیشہ کے لیے صدسالہ تقریب قرار دیں تو بھی اس کی مالی کامیابی کے لحاظ سے کلیمینٹ ششم نے اس کے وقت میں تخفیفی کر دی۔ چنانچہ دوسری جوبلی پچاس سال کے بعد ۱۳۵۰؁ میں منائی گئی۔ پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ برنباس ۱۳۰۰؁ اور ۱۳۵۰؁ کے درمیانی زمانہ کا آدمی ہے اور اپنے زمانہ کی جوبلی کا ذکر کرتا ہے یایوں کہیں کہ وہ ڈانٹی کا ہمعصر ہے۔ ڈانٹی نے صدسالہ جوبلی کو یکھا۔ اس وقت وہ پچس برس کا تھا لیکن ۱۳۵۰؁ والی دوسری جوبلی سے بہت پیشتر راہی ملک عدم ہو چکا تھا۔

۲۔ ڈانٹی سے مقتبسات

ان مقتبسات کا انجیل ِ برنباس میں پایا جانا بھی اس بات کو ثابت کرتا ہےکہ یہ انجیل بعد کے زمانہ کی تصنیف ہے اور چونکہ یہ مقتبسات شمار میں بہت ہیں اس لیے یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ برنباس نے ڈانٹی کچھ اقتباس نہیں کیا بلکہ اتفاقی توارد کے سبب سے یہ عبارات ڈانٹی کی تصانیف میں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً ہم ایک آیت پیش کرتے ہیں جو صاف طور سے ڈانٹی سے اقتباس(چھانٹنا ، چُننا) کی گئی ہے۔ چنانچہ لکھاہے’’ وہ جا کر جھوٹے اور مصنوعی معبودوں کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ آیت چار مقامات پر اقتباس (چھانٹنا ، چُننا) کی گئی ہے۔ ’’پھر سخت بھوک‘‘ اس طرح کے صریح اور صاف اقتباس(چھانٹنا ، چُننا) کی ایک اور مثال ہے۔ لیکن ڈانٹی اور برنباس کی تعلیمات کی باہمی موافقت اور مطابقت سے بھی اس مطمون پر بڑی صاف شہادت ملتی ہے۔ اس حقیقت کا سبب صرف یہی ہو سکتا ہے کہ برنباس کو ڈانٹی کی تصانیف کا خوب علم تھا جو وہ اپنے ذہن میں رکھتا تھا اور جسے اس نے حسب ِضرورت استعمال کیا۔ اس کی مثالیں بہت ملتی ہیں۔ چنانچہ نعیم بہشت عذاب دوزخ اور کفار کی سزا یابی کا بیان انجیل برنباس میں پڑھو اور اس کا ڈانٹی کے بیان سے مقابلہ کر کے دیکھو تو حقیقت کھُل جائے گی۔
علاوہ بریں طبقات دوزخ کے بیان میں بھی ڈانٹی اور برنباس بالکل باہمی موافقت اور مطابقت دکھاتے ہیں۔ برنباس کے بیان کے مطابق مسیح جواب دیتا ہے۔’’ کیا تم نہیں جانتے ہو کہ دوزخ ایک ہی ہے اور اس کےاوپر تلے سات طبقے ہیں گناہ سات قسم کا ہے اور دوزخ کے سات پھاٹک ہیں پس دوزخ میں سزا کے بھی سات درجے ہیں‘‘۔ ڈانٹی بھی اپنی کتاب ’’انفرنو‘‘ کے چوتھے باب میں دوزخ اور عذاب دوزخ کا بالکل یہی بیان لکھتا ہے۔
پھر برنباس لکھتا ہے کہ خدا نے انسانی حواس کو پید ا کر کے ناقابل برداشت دوزخ۔ برف اور یخ کے حوالہ کر دیا (ڈانٹی بھی اپنی مذکورہ بالا کتاب کے ۳۳ ویں باب میں بالکل یوں ہی لکھتا ہے اسی طرح سے برنباس سے نے لکھا ہے کہ انسانی گناہ آخر کار دیار کی صورت اختیار کر کے شیطان کی طرف آئینگے اور اہل بہشت اور اہل دوزخ کو عذاب ہوتا دیکھنے کے لیے دوزخ میں جائے گے لیکن یہ بھی دانٹی ہی کے خیالات کا سرقہ ہے۔ ڈانٹی کی تصانیف کو پڑھیں تو انجیل ِبرنباس کا راز کھل جاتا ہے۔ پھر برنباس لکھتا ہےکہ جو گنہگار اپنے گناہوں سے توبہ کرتے وقت اور نئے گناہوں کا خیال دل میں لاتا ہے اس کے گناہ معاف نہیں ہوتے اور ڈانٹی نے بھی یہی خیال ظاہر کیا ہے۔چنانچہ برنباس کے ۳۲ویں باب اور ’’انفرنو ‘‘ (دوزخ) کے ۲۷ویں باب کے باہمی مقابلہ سے یہ امر خوب عیاں (ظاہر ) ہے اسی طرح سے بہشت میں کسی طرح کے حسد و کینہ کے نہ ہونے اور اہل بہشت کے درجات و شان کا بیان بھی برنباس نے سب کا سب ڈانٹی کی کتاب مسمی ٰ بہ ’’فردوس‘‘ سے لیا ہے۔
لیکن انجیل ِ برنباس کو بعد کے زمانہ کی تصنیف قرار دینے کے لیے ایک اور بڑی شہادت یہ ہے کہ انجیل برنباس کا ’’آسمانی جغرافیہ ‘‘ بالکل ڈانٹی سے لیا ہوا ہے اور قرآن کی مخالفت کرتا ہے۔ قرآن ’’سات آسمان ‘‘ بتاتا ہے اور برنباس کہتا ہےکہ آسمان ’’دس‘‘ ہیں جن کا آخری فردوس ہے۔ اس قسم کے مقتبسات تو اور بھی بہت سے ہیں لیکن جس قدر درج کئے جا چکے ہیں کافی ہونگے۔ اور ان سے با آسانی ثابت ہو جائے گا کہ برنباس یا تو ڈانٹی کا ہمعصر تھا یا اس کے بعد کے زمانہ کا آدمی تھا کیونکہ اگر حقیقت حال یونہی نہ ہو تو پھر ان کے بیانات کی باہمی موافقت ومطابقت کا اور کونسا معقول سبب متصور ہو سکتا ہے؟ ہمیں پختہ امید ہے کہ کوئی بھی یہ نہیں خیال کرے گا کہ یہ باہمی موافقت اور مطابقت محض اتفاقی بات ہےکیونکہ ایسا خیال کرنا اول درجہ کی بیوقوفی اور نادانی ہے۔

۳۔ وسطی زمانہ کی تعلیمات کے آثار

مذکورہ بالا دلائل و براہین کے علاوہ وسطی زمانہ کی تعلیمات کے آثار سے بھی ثابت ہوتا ہےکہ برنباس کی جعلی انجیل بعد کے زمانہ کی تصنیف ہے۔ یہ آثار کم و بیش ان مباحثوں اور مناظروں کی طر ف اشارہ کرتے ہیں جو زمانہ وسطی کے علما میں تصوف و تقدیر اور آزاد مرضی وغیرہ وغیرہ مسائل پر ہوا کرتے تھے اور ان مباحثین و مناظرین کی توجہ زیادہ تر آزاد مرضی کے مسئلہ کی طرف مبذول رہتی تھی۔ اس مسئلہ پر جو کچھ برنباس کے خیالات تھے ان سے قرآن کی مخالفت معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس کے خیالات اور قرآنی تعلیم باہم متناقض (مخالف ، برعکس)ہیں۔ برنباس کہتا کہ انسان آزاد مرضی رکھتا ہے اور نیک و بد جو کچھ اس سے سرزد ہوتا ہے وہ خود ہے اس کا موجب و باعث ہےلیکن قرآن میں بخلاف اس کے یوں لکھا ہے ’’ فَمَن شَاءَ اتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِ سَبِيلًا وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ ‘‘ (پس جو کوئی چاہے اپنے رب کی طرف راہ اختیار کرے اور تم نہیں چاہو گے مگر جو چاہے اللہ) اِ نجیل برنباس میں فقری و درویشی کے آثار بھی پائے جاتے ہیں جو وسطی زمانہ پر دلالت(علامت ، نشان ، پتہ ) کرتے ہیں اور کسی طرح سے اسے پہلی صدی کی تصنیف نہیں کیا جا سکتا۔

---------------------

سورہ دہرآیت 29

۴۔ وسطی زمانہ کے تمدنی آثار

اِس ’’انجیلِ برنباس‘‘ کو پڑھنے سےپڑھنے والے پر وسطی زمانہ کے یورپ کی عموماً اور اٹلی کی خصوصاً تمدنی حالت ظاہر ہوجاتی ہے۔ یہ ممکن ہےکہ عام طورپر کتاب قصداً کسی اور زمانہ کا ذکر کر ے لیکن کل کتاب سے ایسا ظاہر نہیں ہوتا اور ہمیں یقین کامل ہے کہ اس میں وسطی زمانہ کی اٹلی کے آثار پائے جاتے ہیں اور یہ اس امر کاصاف و صریح ثبوت ہے کہ مصنف وسطی زمانہ کے اہل اٹلی میں سے ایک تھا۔ اگر ایسے آثار کو چھپانے کی مصنف کوشش بھی کرے تو چھپا نہیں سکتا اور یہ ایسی صریح اور صاف اندرونی شہادت ہے جس کے وسیلہ سے کتاب زیر ِ بحث کی تصنیف کا ٹھیک زمانہ اور مصنف معین (مقرر) ہو سکتے ہیں۔ اس انجیل کو وسطی زمانہ سے پیشتر کی تصنیف تسلیم کرنا ایسا ہی ہےجیسا کوئی گلستان سعدی شیرازی کو سن ہجری کی پہلی صدی کی تصنیف قرار دیں۔ جن آثار کی طرف ہم اشارہ کر چکے ہیں اب ان میں سے چند پیش کرینگے۔
انجیل ِ برنباس میں فصل بہار کے سر سبز کھیتوں اور خوبصورت وادیوں کا ذکر ہے اور یہاں بیان زیادہ تر خوبصورت اٹلی ہی سے علاقہ رکھتا ہے کیونکہ ملکِ کنعان میں تو اس موسم میں کھیت بالکل جھلس (مُرجھانا) جاتے ہیں۔ پھر اس میں کوہ کنی(پہاڑ کھودنا) کا بھی کچھ بیان ہےاور کوہ کنی (پہاڑ کھودنا)بھی جیسا کہ سب جانتے ہیں اہل اٹلی ہی کا خاصہ ہے سنگ کاوی اہل اٹلی کا خاص پیشہ ہے اور اس فن میں انہوں نے عالمگیر شہرت حاصل کی۔ لیکن بخلاف اس کے یہودی کتب میں سنگ کاوی(پتھر کھونا یا تلاش کرنا) اور کوہ کنی (پہاڑ کھودنا)کا کچھ ذکر بھی نہیں علاوہ بریں سمندر۔ جہازات اور ملاحوں (کشتی چلانے والے) کے بیان سے بھی پہلی صدی کی انجیل کے سامان مہیا نہیں ہوتے۔
پھر اس عجیب انجیل میں یہ بیان بھی ملتا ہے کہ سپاہی نہایت امن و چین کی حالت میں قواعد آموزی اور فنون سپاہی گری کی مشق میں مشغول(مصروف) ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ وسطی زمانہ میں ملک اٹلی میں ایسے مسلح(ہتھیار بند، ہتھیار لگائے ہوئے ) آدمی نہایت کثرت سے تھے جن کا پیشہ ہے سپاہی گری اور جنگ آزمائی تھا اور ان کو اپنے قواعد جنگ اور سپاہیانہ کرتب کی مشق میں مشغول دیکھنا عام نظارہ تھا۔ لیکن پہلی صدی کی کتابوں میں اور خاص کر یہودیوں کی تصانیف میں صلح و امن کےزمانہ میں سپاہیوں کی قواعد آموزی کا خاص طور سے مفصل ذکر بالکل غیر معمولی بات ہے۔ پس ان باتوں سے اٹلی ہی کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
ان تمام آثار میں سب سے بڑھ کر جاگیر داری کا دستور ہے۔ اس دستور کے مطابق وسطی زمانہ میں زمین بڑے بڑے جاگیر داروں میں تقسیم کی جاتی تھی اور وہ جاگیردار اپنی اپنی جاگیروں کو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر کے ایسے لوگوں کو کرایہ پر دیتے تھے۔جو ان کی اطاعت و فرنبرداری میں ہمیشہ قائم رہتے تھے اور خاص کر ضرورت کے وقت جنگی امور میں امداد بہم پہنچاتے تھے۔ ’’ انجیل برنباس‘‘ کامصنف مریم۔ مارتھا اور لعزر کو ایسے جاگیر دار بیان کرتا ہے جن کےہاتھ میں بہت سے گاؤں کی کل زمین کا انتظام تھا!
یہ ایسی رعایا کا ذکر ہے جس سے مالک کو زمین کے حاصلات سے حصّہ ملتا تھا۔ یہ بالکل جاگیرداری کے دستور وقانون کے مطابق ہے لیکن اس دستور کا انجیلی زمانہ سے کچھ بھی علاقہ نہیں ہے۔ اس زمانہ میں تو نوکر محض مزدور تھے اور زمین کا کل حاصل مالک کو دیتے تھے۔ اس کتا ب کی تصنیف کا زمانہ معین کرنے کے لیے یہ ایک ہی حقیقت کافی ہے اور اس سے مزید بحث کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ یہ بیان فی الحقیقت وسطی زمانہ کی رعایہ کا ہے اور پہلی صدی کے غلاموں سے اسے کچھ علاقہ نہیں۔

علاوہ بریں اس انجیل میں شراب کے پیسوں کا ذکر ہے جو اٹلی پر دلالت (علامت ، نشان ، پتہ )کرتے ہیں۔ شاید کوئی کہے کہ مشرقی ممالک میں شراب مشکوں میں رکھی جاتی تھی اور انجیل ِ برنباس میں مشکیں ہی مراد ہیں لیکن یہ ٹھیک نہیں کیونکہ انجیل مذکورکی عبات زیر بحث میں پیسوں کو زمین پر لڑھکا کرصاف کرنے کا ذکر ہے اور مشکوں کو اسی طرح سے صاف نہیں کر سکتے۔ اس سے بھی انجیلِ برنباس کی تصنیف کا زمانہ با آسانی معین ہو سکتا ہے۔
وسطی زمانہ کا ایک اور نشان ملتا ہے۔ چنانچہ انجیل زیر بحث میں مرقوم ہے کہ مجرم سے حاکم سوالات کرتا تھا اور ایک محرر(لکھا ہوا، تحریر شدہ ) تمام کاروائی کو لکھتا جاتا تھا۔
پھر رقیبوں کی باہمی لڑائیوں اور بوسوں کا ذکر زمانہ شجاعت سے تعلق رکھتا ہے اور یہ سب جانتے ہیں کہ اس قسم کے دستور وسطی زمانہ میں بہت دیر تک جاری رہے اور ان کا آغاز بھی وسطی زمانہ ہے میں ہوا تھا۔ مشرقی ممالک میں پہلی صدی کے لوگ ان سے بالکل نا واقف و ناآشنا تھے۔
مذکورہ بالا آثار کے سوا اور بھی بہت سے ہیں جن کا ہم نے ذکر نہیں کیا اور تمام آثار سے نہایت صفائی اور صراحت (تشریح، وضاحت) کے ساتھ ثابت ہوتا ہے کہ انجیل برنباس وسطی زمانہ کی تصنیف ہے اور اس سے پیشتر گی ہرگز نہیں ہو سکتی۔

فصل ِ دوئم

تواریخ و جغرافیہ کنعان سے برنباس کی لاعلمی

انجیل ِ برنباس کے مصنف نے ملک کعنان کی تواریخ و جغرافیہ کے صیغہ (سانچے میں ڈھلی ہوئی چیز)میں بہت سی ایسی سخت غلطیاں کھائی ہیں جن سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ یہ انجیل نہ کبھی کسی رسول نے لکھی اور نہ ملک ِ کعنان میں لکھی گئی۔
حقیقی برنباس جو پہلی عیسوی صدی کا آدمی تھا اپنے ملک او روقت کے حالات سے واقف تھا۔ او راس جعلی انجیل کا برنباس بھی ان حالات سے واقف ہونے کا مدعی ہے لیکن ناظرین کتابچہ ہذا خود فیصلہ کر لینگے کہ وہ فی الحقیقت کچھ جانتا بھی ہے یا محض دعویٰ ہی دعویٰ ہے۔
پہلی بات جو ہم کو حیرت میں ڈالتی اور برنباس کی لاعلمی پر دلالت (علامت ، نشان ، پتہ )کرتی ہے یہ ہے کہ وہ ناصرت اور اغلبا یروشلم کو بھی کسی سمندر یا جھیل کےکنارہ پر تصور کرتا ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ ناصرت ایک پہاڑی پر ہے اور گلیل کی جھیل سے دوہزار فٹ کی بلندی اور نیم منزل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ دو ہزارسال سے زیادہ گذر چکے ہیں جب سے ناصرت جہاں تھا وہیں ہے اور یروشلم کی بابت تو تمام جہان جانتا ہے کہ وہ کہاں واقع ہے۔
برنباس کے ۱۹ویں باب میں یہ حیرت انگزیزالفاظ مندرج ہیں’’ یسوع گلیل کے سمندر پر پہنچا اور جہاز پر سوار ہو کر اپنے شہر ناصرت کی طرف روانہ ہوا‘‘۔ برنباس کو کعنان کے جغرافیہ سے بالکل بے بہرہ اور جاہل ثابت کرنے کے لیے یہی کافی ہے لیکن شاید کوئی کہے کہ یہ صرف زبان کے محاورہ کی بات ہے جیسے کوئی کہہ دے۔’’ میں جہاز پر سوار ہو کر لنڈن سے الہ آباد کو جانے والاہوں‘‘۔اگرچہ وہ جانتا ہو کہ اس کا سمندری سفر الہ آباد تک نہیں ہوگا بلکہ بمبئی پہنچ کر ختم ہو جائے گا۔ اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ یہ عذر نامعقول و نامقبول ہے کیونکہ اس کے ساتھ ہی طوفان کے بیان کے بعد لکھا ہے ’’ جب ناصرت میں پہنچے تو ملاحوں نے وہ سب کچھ جو یسوع نے کیا تھا تمام شہر میں مشہور کر دیا‘‘۔ اس کا نہایت صاف طور سے یہی مطلب ہے کہ یونہی جہاز کنارہ (ناصرت) پر پہنچا ملاح ناصرت(بندرگاہ) میں داخل ہوئے اور جو کچھ انہوں نے دیکھا تھا کہ اسے عام لوگوں میں پھیلا دیا ! ایک اور بات سے معلوم ہوتا ہے کہ برنباس کے دماغ میں ضرور کچھ خلل(رکاوٹ) تھا کیونکہ لکھا ہے ’’یسوع کفر ناحوم کو گیا‘‘(ناصرت سے) لیکن حقیقت میں یوں ہو سکتا تھا کہ کفر ناحوم میں جہاز سے اتر کرناصرت کو جاتا۔

اگر مزید ثبوت کی ضرورت ہو تو اسی قسم کی ایک اور سخت غلطی نظر آتی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ ایک سبت کی صبح کو یسوع ناصرت کو گیا۔ پھر اس کے بعد چند باب اس کی وہاں کی گفتگو کا بیان کرتے ہیں اور بعد ازاں یوں مرقوم ہے’’ تب یسوع جہاز پر سوار ہوا‘‘ بھلا خون بھی کبھی چھپائے چھپتا ہے؟ برنباس نہایت سادگی سے پھر اسی خیال میں نظر آتا ہے کہ ناصرت سمندر کے کنارے پر ایک بندرگاہ ہے۔
لیکن ابھی اور دیکھئے۔ ناصرت سے جہاز روانہ ہوا تھا اور یروشلم میں جا پہنچا حالانکہ یروشلم کوئی بندرگاہ نہیں ہے۔ اس بیان میں کسی طرح کا کائی وقفہ نہیں بلکہ صاف یہی مطلب ہے کہ جہاز ناصرت سے روانہ ہو کر یروشلم میں جا ٹھہرا۔
اب اس کے بعد ہم چند واقعات مندرجہ انجیل برنباس کا ذکر کرینگے جو تواریخی لحاظ سے بالکل لغو ولا یعنی ہیں۔ ان میں سے ایک تو دانی ایل کا قصّہ ہے۔ برنباس کے بیان کے مطابق دانی ایل ابھی صرف دو برس کا تھا جب اسیری میں نبوکدنضر بادشاہ کے پاس پہنچایا گیا بہرحال دانی ایل کے حال مندرجہ بائبل سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ بائبل کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوکد نضر کے عہد سلطنت کے دوسرے سال میں دانی ایل نے اس کے مشہور خواب کی تعبیر کی تھی۔ دانی ایل کی کتاب کے دوسرے باب کی اڑتالیسویں آیت میں مرقوم ہے’’تب بادشاہ نے دانی ایل کو سرفراز کیا اور اسے بہت سے تحفے عطا کئے اور اسے بابل کے سارے صوبے پر فرمانروائی بخشی اور بابل کےحکیموں کے سرداروں پرحکمرانی عنایت کی۔ اب اگر ہم فرض کریں کہ نبوکد نضر نے اپنے عہد سلطنت کے پہلے سال میں دانی ایل کو اسیر (قید) کیا (کیونکہ اس سے پیشتر تو ہو ہی نہیں سکتا ) اوربرنباس کے بیان کے مطابق دانی ایل اس وقت دو برس کا تھا تو نتیجہ یہ ہو گا کہ اس کی سلطنت کے دوسرے سال میں جب اس نے خواب دیکھا دانی ایل تین برس کا ٹھہرے گا اور لکھا ہے کہ اسی سال میں نبوکد نضر نے اسے بابل کے سارے صوبے پر فرمانروا بنایا پس برنباس کے بیان کے مطابق دانی ایل تین برس کی یا زیادہ سے زیادہ چار برس کی عمر میں بابل کے سارے صوبے پر فرمانروا تھا۔
یوسیفس یہودی مورخ(تاریخ لکھنے والا) کا بیان بائبل کے بیان سے بالکل مطابقت رکھتا ہے جو بائبل کے بیان پر شک لاتے ہیں ان کو چاہیے کہ اس یہودی مورخ(تاریخ دان ) کی شہادت کو دیکھیں (یہودیوں کی تواریخ مصنفہ یوسیفس کی دسویں کتاب کے دسویں باب کو مطالعہ کرو)۔
برنباس کے ۹۱ ویں باب میں ایک اور جعلی حکایت مندرج ہے جس میں مختصراً وہ بیان کرتا ہے کہ تمام یہود یہ میں مسیح کے سبب سے بڑا فتنہ فساد برپا ہو گیا۔ چنانچہ لکھا ہے ’’بعضوں نے کہا کہ یسوع انسان نہیں بلکہ خدا خود دنیا میں آیا ہے بعضوں نے کہا نہیں بلکہ وہ خدا کا بیٹا ہے۔ اور بعضوں نے کہا نہیں وہ خدا کا نبی ہے۔ ممکن تھا کہاس مباحثہ کا نتیجہ سخت لڑائی ہوئی کیونکہ مقام مصفاہ کے قریب تین لشکر جمع ہو گئے تھے جن میں سے ہر ایک دو لاکھ تیغ زن (تلوار چلانے والا) سپاہی تھے۔ ہیرودیس نے ان سے تقریر کی لیکن ان کا جوش بالکل کم نہ ہوا۔ تب حاکم اور سردار کاہن نے ان سے کہا بھائیو اس آتش کے راز کو شیطان نے مشتعل(بھڑکتا ہوا) کیا ہے کیونکہ یسوع تو زندہ ہے۔ ہم کو مناسب ہے کہ ہم اسی سے دریافت کریں کہ وہ اپنے حق میں کیا کہتا ہے اور پھر جو کچھ وہ کہے اسی کے مطابق اس پر ایمان لائیں۔ پس یہ سن کر سب کے سب سرکشی اور فتنہ و فساد سے باز آگئے اور ایک دوسرے سے بغل گیر (ہم آغوش ہونا) ہوئے اور معذرت کی‘‘۔

یہ کہنے کی ضرورت معلوم نہیں ہوتی کہ اس حکایت کا کسی تواریخی کتا ب میں نام و نشان تک بھی نہیں ملتا۔ اس بات کوکوئی عقلمند سچ نہیں مان سکتا اور فی الحقیقت بالکل لغو ہے کہ چشم زدن میں چھ لاکھ مردان تیغ زن (شمشیر زن) جمع ہو گئے اور پھر اس سے بھی کم عرصہ میں انہوں نے رزنگاہ کو خالی کر دیا اور منتشر ہو گئے۔ یوسیفس مورخ جو کہ بہت سی چھوٹی چھوٹی باتوں کا اور غیر ضروری باتوں کا مفصل بیان کرتا ہے کیا اس نے چھ لاکھ سپاہیوں کے قصد جنگ سے جمع ہونے کو ایک نہایت خفیف واقعہ خیال کیا اور قابل بیان نہ سمجھا؟ پھر ہم اس بات کو کیونکر سچ مانیں کہ ہیرودیس نے جو تواریخ سے مسیح کا دشمن ثابت ہوتا ہے اس فتنہ و فساد کو فروکرنے کی کوشش کی جو مسیح کے سبب سے برپا ہوا تھا؟ کیا یہ امر زیادہ ترین قیاس نہیں کہ وہ اس فتنہ وفساد کی آگ پر اور بھی تیل ڈالتا اور مسیح کو مجرم قرار دینے کی صورت پیدا کر لیتا ہے؟
علاوہ بریں ہم تواریخ سے جانتے ہیں کہ رومی سلطنت کی اس تمام فوج میں بھی جو ان ممالک میں تھی چھ لاکھ سپاہی نہ تھے۔ اب اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ صرف یہودیہ میں چھ لاکھ سپاہی تھے تو ضرور اس کے ساتھ ہی یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ رومی سلطنت کی باقاعدہ فوج میں کڑوڑوں سپاہی تھے۔ پھر یہ بات بھی بالکل لغو ولا یعنی ہے کہ اتنی بڑی فوج ایک لمحہ میں پلاطوس کا کلام سُنتے ہی منتشر ہو گئی۔ کیا ان افواج کے میدان جنگ میں جمع ہو نے سے پہلے پلاطوس کا منہ مقفل تھا ؟ ا س نے یہی بات پہلے کیوں نہ کہی ؟
لیکن اس حکایت میں ایک اور بڑی ضروری بات کی کمی ہے۔ اس میں کچھ بھی درج نہیں کہ افواج کے جمع ہونے سے پیشتر کیا ہوا اور کیونکر آخر کار یہاں تک نوبت پہنچی۔ برنباس کی تمام حکایت ہی ایک افسانہ ہے اور مذکورہ تین افواج کا مصفاہ کے قریب جمع ہونا بھی جادو کے کھیل سے کم نہیں ہے۔
پھر طرفہ ماجرا یہ ہے کہ ہیرودیس۔ پلاطوس اور خاص کر سردار کاہن نہایت ادب سے یسوع مسیح کے سامنے جھکتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ سردار کاہن مسیح کا سب سے بڑا دشمن تھا اور چو نکہ مسیح نے کاہنوں کی ریاکاری کو ظاہر کیاتھا اس لیے اس نے بے تامل مسیح پر الزام لگائے تھے۔ یہ تو بالکل طفلانہ (بچگانہ ) جعلسازی ہے اور اس لائق بھی نہیں کہ اس کی تحقیقی کی جائے۔ کا ش کہ اس کا ذکر صفحہ ہستی سے جاتا رہے۔

--------------------------

فصلِ سوئم

برنباس کی اوٹ پٹانگ زٹلیں

ہماری تحقیقات کا ضروری حصہ تو اسر انجام پا چکا ہے کیونکہ جب یہ ثابت ہو گیا ہے کہ برنباس کنعان کی بابت کچھ نہیں جانتاتھا تو ہم اسے ہرگز یسوع مسیح کا رسول یا یہودی تسلیم نہیں کر سکتے لہذا اس کا معاملہ طے ہو جاتا ہے او رمزید بحث کی ضرورت نظر نہیں آتی۔
لیکن پھر بھی اس بات کے ثابت کرنے میں کچھ نقصان نہیں کہ کوئی باہوش (ہوش و حواس میں ) اور عقلمند آدمی برنباس کو قبول نہیں کر سکتا اور کسی امر میں اس کی طرف رجوع کرنے کی کچھ ضرورت نہیں اور کوئی مسلمان برنباس کو اسلام کی حمایت میں پیش نہیں کر سکتا جب تک کہ اپنے ہاتھوں قرآن کے درخت کی بیخ کنی (جڑ سے اُکھاڑ دینا ، بنیاد کھود دینا ) نہ کرے۔
اب ہم ذیل میں چند حکایات درج کرینگے جن سے پرانے وقتوں کے افسانوں کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ افسوس ہے کہ ہم ان کو مفصل طور سے بیان کرنے کی ضرورت اور گنجایش نہیں دیکھتے۔ چنانچہ اس عجیب انجیل کا مصنف لکھتا ہے ’’خدا نے مٹی کا ایک ڈلا پیدا کر کے پچس ہزار برس تک اسے چھوڑ دیا اور کچھ اور نہ کیا۔ شیطان جو کہ فرشتوں کا معلم تھا جانتا تھا کہ خدا اس مٹی میں سے ایک لاکھ چوالیس ہزار انبیا اور اپنے رسول محمد کو جس کی روح کو تمام مخلوق سے ساٹھ ہزار سال پہلے خلق کیا تھا پیدا کر ےگا‘‘۔
برنباس الہیٰ تواریخ میں خوب ماہر معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ یہ جانتا ہوا ظاہر ہوتا ہےکہ خدا نےکچھ مٹی خلق کر کے ٹھیک پچیس ہزار سال تک چھوڑ دی۔ نہ ایک دن کم نہ زیادہ۔ نیز یہ کہ اس کےبعد اورکچھ نہ کیا۔ اس برسوں کے حساب سے ہم حیران ہیں۔ کچھ معلوم نہیں کہ برنباس نے کونسی جنتری استعمال کیا شاید سن ہجری کی جنتری(وہ کتاب جس میں نجومی ستاروں کی گردش کا سالانہ حال تاریخ وار درج کرتے ہیں۔) سے کام لیا ہو۔ علاوہ بریں ۱۴۴۰۰۱ رسولوں کی تعداد کا بھید بھی سمجھ میں نہیں آتا۔ مسلمان یا مسیحی اس تعداد کے ایک چھوٹے سے ہزارویں حصہ کے نام بھی نہیں بتا سکتے۔
اگر اہلِ اسلام ہمیں یہ بتائیں کہ خدا نے محمد کی دیگر مخلوق سے ساٹھ ہزار سال پیشتر کیوں خلق کیاتو ہم ان کے بہت ہی ممنون احسان(احسان کیا گیا) اورمرہون منت ہونگے۔ اگر اہل اسلام کہیں کہ آنحضرت کی عزت کی غرض سے ایسا کیا تو ہم یہ جواب دینگے کہ خدا کے نزدیک ساٹھ ہزار سال ایک دن کے برابر ہے اور اس کے علاوہ آدم کا ہزار ہا سال عیسیٰ سے پیشتر پیدا کیا جا نا کیا اس کو عیسیٰ سے بزرگ و برتر ٹھہراتا ہے؟
پھر ان ساٹھ ہزار برسوں کا ایک اور مقام پر بھی ذکر کیا گیا ہے اور اس مقام پر یوں مرقوم ہے۔ ’’ محمد کی روح کچھ اور خلق کیا جانے سے ساٹھ ہزار سال پیشتر آسمانی جلال و شان سے آراستہ و منور (سجا یا گیا اور روشن) کی گئی۔

پھر انجیل ِبرنباس کے ۵۳ باب میں روزِ قیامت سے پیشتر کے پندرہ روز کا بیان پایا جاتا ہے جو کہ مذکورہ بالا تورایخی تفصیلات سے بھی زیادہ مفصل ہے۔ چنانچہ برنباس کہتا ہے’’پہلے روز سورج آسمان میں بغیر روشنی کے اپنا دورہ کرےگا۔۔۔۔۔۔۔ دوسرے روز چاند خون ہو جائے گا اور زمین پر خون اس کی طرح کرے گا۔۔۔۔ تیسرے روز ستارے آپس میں اس طرح لڑتے ہوئے نظر آئے گے جس طرح مخالف فوجوں کے سپاہی لڑتے ہیں۔۔۔۔ پانچویں روز ہر ایک پودے اور جھاڑی سے خون کے آنسو پیئے گے۔۔۔۔ چھٹے روز سمندر اپنی جگہ چھوڑے بغیر ایک سو پچاس ہاتھ کی بلندی تک اُٹھائے گا۔۔۔۔۔اور ساتویں روز اس کے اس قدر نیچے چلا جائے گا کہ بمشکل ہی نظر آسکے گا‘‘۔
اس بیان میں ایک بات نہایت قابل ِ غور ہے اور وہ روزِ قیامت کی عظمت ووحشت نہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ دن برنباس کے بیان سے کہیں بڑھ کر ہولناک ہوگا بلکہ وہ عجیب طریقہ ہے جس میں مصنف نے مفصل اور سلسلہ اور اس کا بیان کیا ہے۔
پھر برنباس کے چالیسویں اور اکتالیسویں باب میں آدم کی پیدایش اور اس کے گرنے کا افسانہ ہے۔ چنانچہ برنباس بتاتا ہے کہ خدا نے بہشت کے دورازہ پر ایک دہشت ناک سانپ کو جس کی ٹانگیں اونٹ کی سی تھیں دربان بنایا۔ شیطان نے اس سانپ کے پاس آکر کہا ’’ اپنا منہ کھول اور میں تیرے پیٹ میں گھس بیٹھونگا اور اس طرح سے تو مجھے ان دومٹی کے ڈھیلوں پاس پُہنچا دینا جنہوں نے ابھی زمین پر چلنا شروع کیا ہے‘‘۔ سانپ نے ایسا ہی کیا اور شیطان نے حوّا کو ترغیب دی اور ورغلایا(بہکایا) کہ ممنوعہ(منع کیا گیا ) سیب اور غلّہ کھا کر خدا کی نا فرمانبرداری کرے چنانچہ حوّا نے کھایا اور اپنے شوہر کو بھی کھانے کی ترغیب دی لیکن جب آدم کھا رہا تھا اسے خدا کا حکم یاد آیا اور اس نے فوراً اپنا ہاتھ منہ میں ڈالا۔اسی سبب سے تمام بنی آدم میں سیب کا نشان ہے۔ اس پر خدا نے میکائل فرشتہ کو حکم دیا کہ سانپ کی ٹانگیں کاٹ ڈالے تاکہ وہ اپنے پیٹ کے بل زمین پر رینگتا ہوا چلے۔

یہ اس افسانے کا خلاصہ ہے اور اس کے بعض حصّے مشرقی ممالک میں مشہور ہیں لیکن با آسانی معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ افسانہ بائبل کے بیان سے بہت ہی مختلف اور عقل و قیاس کے بالکل برعکس ہے۔ یہ خیال کیسا بیہودہ ہے کہ چونکہ پہلےسانپ کی ٹانگیں سزا کے طور پر کاٹ ڈالی گئی تھیں اس لیے اب سانپ کی ٹانگیں نہیں ہوتیں۔ آبائی ورثہ اور تخمی(بیج سے پیدا شدہ درخت یا پھل) تاثیر کاقانون ذاتی خواص تک ہی محدود ہے جسمانی حادثات سے اسے کچھ واسطہ نہیں کیونکہ اگر کسی آدمی کا ایک بازو کسی حادثہ کی وجہ سے کٹ جائے تو اس کا نتیجہ ہرگز ہرگز یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے ہاں ایک بازووالے بیٹے بیٹیاں پیدا ہوں۔
اگر ہم یہ تسلیم بھی کر لیں کہ آبائی ورثہ اور تخمی (بیج سے پیدا شدہ درخت یا پھل)تاثیر جسمانی حادثات میں بھی اپنا ظہور دکھاتی ہے تو پھر بھی یہ حقیقت بد ستور قائم رہے گی کہ ختنہ کے معاملہ میں ایسا ظہور میں نہیں آیا کیونکہ برنباس بتاتا ہے کہ آدم نے خدا کا حکم توڑ نے پر ایک نذر مانی تھی اور اس کے پورے کرنے میں اس نے اپنا ختنہ کیا تھا۔ اس مقام پر یہ بتانا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بائبل کے بیان کے مطابق پہلا مختون(ختنہ کیا گیا) آدمی ابراہیم تھا لیکن ہم یہاں اس پر بحث نہیں کرےگے۔ مان لیا کہ آدم نے اپنا ختنہ کیا۔ اب کیا وجہ ہے کہ جو حادثہ آدم کے جسم پر واقعہ ہوا اس کی تاثیر اس کی اولاد کے اجسام میں نظر نہیں آتی ؟ تمام آدمی مادرزاد مختون(ختنہ کیا گیا) کیوں نہیں پیدا ہوتے ؟
اس فصل کو ختم کرنے سے پیشتر ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر کوئی مسلمان یوں استدلال کرے کہ دانی ایل کو پیشن گوئیوں مکاشفات یوحنا میں برسوں وغیرہ کا ذکر ہے اور ایسے ہی اگر برنباس نے بھی برسوں کا شمار بتایا تو کچھ حیرت کامقام نہیں ہے۔ تو ہماری طرف سے اس کا جواب یہ ہے کہ دانی ایل کی پیشنگوئیوں اور کاشفات یوحنا میں رسولوں کا ذکر استعارہ اور کنایہ کے طور پر ہے اور برنباس کے سال اور برس تواریخی طور پر ایسے مفصل اور صاف ہیں کہ ان کا کچھ اور مطلب ہو ہی نہیں سکتا لہذا دونوں قسم کے برسوں میں ایسا بین اور صریح فرق ہے کہ اسے دریافت کرنے اور سمجھنے میں ذرا بھی وقت پیش نہیں آتی۔

--------------------

فصل چہارم

قرآن سچا ہے یا برنباس کس کو مانیں؟

اب ہم اس مضمون پر غور کرینگے کہ انجیل برنباس کی تعلیمات کیا ہیں اور خصوصاً ہم ان تعلیمات کی طرف متوجہ ہونگے جو قرآنی تعلیمات کی مخالف و متناقض ہیں۔ جو انجیل برنباس کو ایک اوزار کے طور پر سچی انجیل کے خلاف استعمال کرتے ہیں ان کے لیے بہت بہتر ہو اگر وہ اس کی تعلیمات کو ذرا دیکھ لیں اور سوچ لیں کہ جس ہتھیار سے وہ ہم کو گھائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس سے ان کے خود ہی زخمی ہونے کا اندیشہ ہے یا نہیں۔ ذیل میں ہم مثال کے طور پر چند تعلیمات انجیل برنباس سے نقل کرینگے اور ناظرین خود قرآنی تعلیمات سے ان کا مقابلہ و موازنہ کر سکتے ہیں۔
اس سے پیشتر ہم ثابت کر چکے ہیں کہ برنباس نے آسمانوں کا بیان ڈانٹی سے لیا ہے اگرچہ اس کا اقتباس(چھانٹنا ، چُننا) بالکل لفظی نہیں ہے۔ اب ہم اس کو پیش کرتے ہیں۔ برنباس یوں اقتباس(چھانٹنا ، چُننا) کرتا ہے۔ ’’ میں تجھے سچ کہتا ہوں کہ آسمان نو ہیں۔ لیکن قرآن میں سورۃ بقر کی ۲۹ آیت میں یوں مرقوم ہے۔’’ ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ فَسَوَّاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ‘‘ پھر وہ آسمانوں کی طرف متوجہ ہو اور ان کو سات آسمان بنایا)۔ پھر مسیح کی ولادت (پیدائش) کا بیان ہے جو قرآنی حکایت سے بالکل مختلف ہے۔ چنانچہ برنباس کہتا ہے کہ مریم نے ’’بغیر درد کے بیٹا جنا‘‘۔ لیکن سورۃ مریم کی اکیسویں آیت میں یوں مندرج ہے فَأَجَاءَهَا الْمَخَاضُ إِلَىٰ جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَٰذَا وَكُنتُ نَسْيًا مَّنسِيًّا (اسے جننے کا درد لگا اور وہ کھجور کے درخت تلے آکر کہنے لگی کاش کہ میں اس سے پیشتر مر گئی ہوتی)۔

علاوہ بریں دشمنوں سے محبت رکھنے کی تعلیم ہے جو کہ موسوی شریعت کے دانت کے بدلے دانت اور آنکھ کے بدلے آنکھ‘‘ کی جگہ لے لیتی۔ لیکن قرآن موسوی شریعت کی پیروی کرتا ہے در حال یہ کہ برنباس کہتا ہے ’’تم بدی پر بدی سے نہیں بلکہ نیکی سے غلبہ حاصل کرو اور جو تمہیں دشمن نا م دیتے ہیں انہیں بوسہ دو اور جو دکھ دیتے اور اذیت پہنچاتے ہیں انہیں ہدیے اور تحفے دو‘‘۔
ممنوعہ گوشت کے بارے میں بھی ایسی تعلیم ہے جو قرآن سے موافقت نہیں کررکھتی چنانچہ لکھا ہے ’’ جو کچھ انسان میں داخل ہوتاہے اس کو نا پاک نہیں کرتا بلکہ جو کچھ اس سے نکلتا ہے وہی اسے ناپاک کرتا ہے‘‘۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں برنباس کو خیال آیا کہ مسلمان خنز یر اور لحم الخنزیر کو کس نظر سے دیکھتے ہیں لہذا مذکورہ بالا الفاظ پر وہ ذیل کے الفاظ ایزاد کرتا ہے ’’ نافرنبرداری باہر سے انسان میں داخل نہیں ہوتی بلکہ اس کے دل سے نکلتی ہے۔ اسی لیے وہ ممنوعہ غذا کھانے سے ناپاک ہو جاتا ہے‘‘۔ یعنی غذا اپنی ذات میں ناپاک کرنے والی نہیں بلکہ جو کھاتا ہے وہ ناجائز کو جائز قرار دینے ے سبب سے ناپاک ہوتا ہے۔
برنباس نے قرآنی کثیر الازواجی کی سخت مخالفت کی ہے چنانچہ انجیل ِ برنباس میں یوں مرقوم ہے ’’آدمی کو چاہیے کہ جو بیوی اس کے خدا نے اسے دی ہے اسی پر قناعت (صبروشکر) کرے اور کبھی کسی دوسری عورت کا خیال بھی دل میں نہ لائے‘‘۔ اب اہل اسلام اس صریح و صاف ممانعت کے باب میں کیا کہہ سکتے ہیں؟اس سے تو محمدی تعلیم اور معمول میں المسلمین کی مخالفت متناقض کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے۔

اب شاید کوئی یوں استدلال کرے کہ قرآن کثیر الازواجی کا حکم نہیں دیتا فقط جائز رکھتا ہے۔ لیکن خواہ قرآن حکم دیتا ہو خواہ جائز رکھتا ہو بہرحال برنباس کی تعلیم متناقض(مخالف ، برعکس) ہے کیونکہ برنباس نہ حکم دیتا ہے نہ جائز رکھتا ہے۔ ممکن ہے کہ کوئی اسلامی خیال سے یوں بھی کہدے کہ جو بات کسی پہلی الہامی کتاب میں ممنوع ہو دوسری الہامی کتاب اسے جائز قرار دے سکتی ہے یا جو کچھ پہلی کتاب میں جائز تھا دوسری میں ممنوع ہو سکتاہے لہذا انجیلِ برنباس میں مسیح کا کثیر الازواجی کو منع کرنا اور قرآن کا سے جائز قراردینا کسی طرح سے قابل اعتراض نہیں ہے۔ مگر ہماری طرف سے اس کا جواب یہ ہےکہ برنباس نے خود ہی اس اسلامی خیال کی تردید کر دی ہے۔وہ صاف لکھتا ہے۔’’ ہر ایک نبی نے خدا کی شریعت کو اور ان تمام باتوں کو جو خدا نے دیگر انبیا کی معرفت فرمائیں مانا ہے‘‘۔ لہذا یہ انجیل برنباس قرآن و اسلام دونوں کی مخالف ہے۔اور اگر اس خیال کو نظر انداز کر کے بھی دیکھیں تو ناسخ منسوخ (ختم ) کو ہرگز دخل نہیں اور یہ صریح(واضح) تخالف (باہم مخالف ہونا)ہے۔

--------------------------------

سورہ بقرہ آیت 29

ہم انجیل ِبرنباس اور قرآن کا باہم مقابلہ کرنے سے صاف دیکھتے ہیں اور بڑے زور سے اعلان کرتے ہیں کہ یہ دونوں کتابیں آپس میں مخالف اور ایک دوسرے کی بیخ کنی(جڑ سے اُکھاڑ دینا ، بنیاد کھود دینا ) اور بربادی کی خواہاں ہیں۔
از حد تعجب کا مقام ہے کہ برنباس ربیوں پر تحریف و تخریب توریت کا الزام لگاتا ہے۔ یہ جھوٹا الزام سن عیسویٰ کی پہلی صدی کے ربیوں پر کبھی نہیں لگایا گیا۔ یہاں تک کہ محمد نے بھی الزام نہ لگایا بلکہ بائبل کو تمام ایمان لانے والوں کے لیے ’’ روشنی اور ہدایت ‘‘ تسلیم کیا۔ لہذا برنباس کا الزام بالکل بے بنیاد اور رزیلا نہ ہے۔ اس سے تو کسی کو انکا ر نہیں ہو سکتا کہ انجیل ِ برنباس یا تو محمد صاحب کے زمانہ سے لکھی گئی یا محمد صاحب کے زمانہ کے بعد‘‘۔ اگر پہلی لکھی گئی تو محمد صاحب کے لیے محرف(مطلب سے پھیر ہوا) بائبل کا ذکر کرنا لابُدی تھا اور اگر بعد میں لکھی گئی تو انجیل برنباس سخت جعلسازی ہے۔
اگرکوئی کہے کہ محمد صاحب کی شہادت صرف بائبل کی ایک خاص جلد کے بارے میں تھی تو ذیل کی دو باتوں پر غور کرنا ضروری ہے۔
۱۔ بائبل کی جتنی جلدیں محمد صاحب کے وقت میں موجود تھیں وہ سب یکساں تھیں۔ پس اگر محمد صاحب نے ایک خاص جلد کو درست جان کر اس کی تصدیق کی تھی تو باقی محرف و مخرب(مطلب سے پھیر ہوا) جلدوں کی طرف اشارہ کر کے اپنے مومنین کو ہوشیار کیوں نہ کیا ؟
۲۔کیا اہل اسلام بائبل کی وہ جلد بہم پہنچا سکتے ہیں جس کی محمد صاحب نے اپنی شہادت سے تصدیق کی ؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ قرآن کسی ایک کتاب پر نہیں بلکہ الکتاب پر شہادت دیتا ہے اور الکتاب سے عالمگیر کتاب مراد ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بات بھی قابل یاد ہے کہ محمد نے کلامِ الہیٰ میں تحریف کرنا انسانی طاقت اور انسانی امکان سے خارج بیان کیا ہے۔ علاوہ بریں یہودیوں اور عیسائیوں میں باہمی نفاق(پھوٹ۔ ظاہر میں دوستی باطل میں دشمنی ) تھا اور مختلف عقائد کے متعقد تھے اور کسی طرح سےممکن نہ تھا کہ یہ سب لوگ بائبل کے ایک لفظ یا حرف کی تحریف و تخریب پر متفق ہوتے۔
برنباس تو اپنے تئیں محمد سے بھی بڑا مسلمان ظاہر کرتا ہے۔ وہ بیان کرتا ہے کہ ابراہیم کو خدا نے اس کے بیٹے اسماعیل کے حق میں وعدہ دیا تھا نہ کہ اسحاق کے بارے میں۔ قرآن اس امر کی نسبت بالکل خاموش ہے اگر چہ مجموعی طور پر اسحاق کی نسبت اشارات ملتے ہیں تو بھی مفسرین معترف ہیں کہ ان کو حقیقت معلوم نہیں ہے۔ ان میں پہلے اور زیادہ معتبر تواسحاق ہی کی طرف ہیں۔ امام رازی نے کچھ رائے نہیں دی۔صرف بعد کے مفسرین ہٹ دھرمی سے اس بات پر اُڑے بیٹھے ہیں کہ بیج اسماعیل ہی تھا لیکن برنباس صاف کہتا ہےکہ یہودیوں اور عیسائیوں نے بائبل کی تحریف کر کے اسماعیل کی جگہ اسحاق کا نام تجویز کر لیا ہے ! اس کے مطابق محمد صاحب نے ضرور محرف(مطلب سے پھیر ہوا) بائبل کی تصدیق کی ہوگی۔

سب سے بڑھ کر برنباس کی ایک اور نہایت حریت انگیز تعلیم ہے جس کے سبب سے انجیل برنباس ایک ایسی عجیب کتاب بن جاتی ہے کہ اسے فوراً عجائبات میں شامل کرنا چاہیے۔ اس حیرت انگریز تعلیم کی مختصر صورت یہ ہے کہ برنباس یوحنا اصطباغی (یحیٰ بن زکریا) کی ہستی ہی کا قائل نہیں ہے۔ اس کی جگہ یسوع کو پیشتر و بناتا ہے اور مسیحیت کو بجائے یسوع کےآنے والے نبی محمد سے منسوب کرتا ہے۔ انجیل برنباس میں یہ حیرت انگیز خیال نہایت صفائی سے بار بار نظر آتا ہے جیسا کہ فقرات ذیل سے اظہر من الشمس ہے۔ عورت نے کہا ’’ خداوند شاید تو مسیح ہے‘‘۔ یسوع نے کہا ’’ میں بیشک ایک نبی ہوں۔۔۔۔ لیکن مسیح میرے بعد آئے گا ‘‘۔ کاہن نے کہا ’’ میں تجھ سے التماس کرتا ہوں۔ ہم کو بتائے کیا تو ہی خدا کا وہ مسیح ہے جس کے ہم منتظر ہیں‘‘؟ یسوع نے جواب دیا۔’’ میں ہرگز وہ نہیں ہوں کیونکہ وہ مجھ سے پیشتر سے ہے اور میرے بعد آئےگا۔ یسوع نے کہا ’’میں نے یہ بھی اقرار کیا ہےکہ میں مسیح نہیں ہوں‘‘۔
ہم مندرجہ حوالجات پر صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ قرآن میں صرف یسوع (عیسیٰ ) ہی مسیح ہے۔ خود محمد اور کسی محمدی نے کبھی یہ خیال خواب میں بھی نہیں دیکھا کہ رسول عربی کو مسیح قرار دیں۔
لیکن یہ واقعی حقیت کہ برنباس یسو ع کو ’’کرائسٹ ‘‘ کہتا ہے کہ صرف یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ مصنف یونانی اور عبرانی زبان سے بالکل ناواقف و نا آشنا تھا۔ بےچارے برنباس کو اتنا بھی معلوم نہیں کہ ’’کرائسٹ‘‘ کا ترجمہ ’’مسیح‘‘ ہے اور ان دونوں الفاظ میں کچھ فرق نہیں ہے۔
پس مذکورہ بیانات سے صاف ظاہر ہے کہ انجیل برنباس جیسی مسیحیوں اور مسیح کی انجیل کے لحاظ سے غیر معتبر ہے ویسی ہی اسلام و قرآن کی رد سے بھی پایہ اعتبار سے بالکل گری ہوئی اور جعلی ہے۔ ہر ایک مسیحی اور ہر ایک مسلمان کو یہ ماننا اور اسی ایمان و یقین پر قائم رہنا پڑےگا کہ یہ انجیل وسطی زمانہ کی جعلسازی ہے۔ کیونکہ جیسا دکھایا جا چکا ہے اگر یہ انجیل کسی طرح سے سچی تسلیم کر لی جائے اوریہ مان لیا جائے کہ مسیح کا سچا پیغام اس میں ہے تو اسلام۔ قرآن اور محمد پر کسی طرح سے ایمان لانا ممکن نہیں ہو سکتا اور جو شخص اس انجیل کو اپنی حمایت وحفاظت یا دوسروں پر حملہ کرنے کا ہتھیار بنا کر استعمال کرے گا۔وہ ضرور اپنے ہی پاؤں پر تیش مارےگا اور اپنی ہی بربادی و ہلاکت میں ساعی وکوشاں (کوشش کرنے والا ، دوڑ دھوپ کرنےوالا) ہوگا۔

-------------------------

باب چہارم

خاتمہ و خلاصہ تحقیق

چونکہ دلائل و براہین سے کافی و خاطر خواہ طور پر ثابت کر چکے ہیں کہ انجیل برنباس نہ رسولوں میں سے کسی کی تصنیف ہے اور نہ سن عیسوی کی پہلی صدیوں میں تصنیف ہوئی اس لیے اب ہم ان دلائل و براہین کے دُہرانے کی کچھ ضرورت نہیں دیکھتے۔ امید ہے کہ یہ سال بہ نتیجہ ہر ایک دیانتدار آدمی کو مباحثہ و مناظرہ کے موقع پر انجیل برنباس کی طرف اشارہ کرنے۔ اس کا حوالہ دینے اور اس سے کچھ اقتباس(چھانٹنا ، چُننا) کرنے سے ضرور روکے گا۔
لیکن اگر اس کی اثباتی صورت پر نظر کریں اور یہ دریافت کرنا چاہیں کہ اس کتاب کو کس نے لکھا؟ کب لکھا؟ اور کہاں لکھا؟ تو یہ صاف ظاہر ہے کہ اس کا خاطر خواہ جواب حاصل کرنا ناممکن ہے۔ مگر ہم اس قدر دکھا چکے ہیں کہ اس قرین(قریب، پاس ) صحت جواب مل سکتا ہے۔ اگر کوئی پوچھے کہ یہ کتاب کب لکھی گئی ؟ تو قرین (قریب، پاس ) صحت جواب یہ ہو گا کہ وسطی زمانہ میں اغلباً چودہویں صدی میں یا اس کے بعد اور اگر یہ پوچھا جائے کہ کہاں لکھی گئی ؟ تو قرین (قریب، پاس ) صحت اور یقینی جواب یہ ہوگا کہ براعظم یورپ یا مغربی ممالک میں اور غالباً اٹلی میں۔ اب یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ کس نے لکھا؟ اس کے جواب میں بے شک ہم گمنام جعلساز لکھنے والے کا نام تونہیں بتا سکتے لیکن اس کے خواص ِ ذاتی کے بارے میں ہوشیاری سے خیال اور قیاس سے کام لے سکتے ہیں۔
اگر ناظرین اس عجیب انجیل کا مطالعہ کرینگے تو ان کو ضرور معلوم ہو جائے گا کہ اس افسانے کا طرز بیان اور ڈھنگ مسیح کی سوانح عمری(کسی شخص کی زندگی کے حالات) کا ہے جیسا کہ سچی انجیل کا ہے۔ اس میں مسیح کی زندگی کے واقعات۔مکالمات اور معجزات وقت ولادت سے شروع کر کے آخرتک باقاعدہ ترتیب سے اور سلسلہ وار مندرج ہیں۔
اس عجیب کتاب کو مطالعہ کرتے وقت بہت سی حیرت خیز باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔
۱۔ مصنف مسیحی دین۔ مسیحی کتب اور سچی اناجیل اربعہ سے بہت واقف معلوم ہوتا ہے اور یہ بات انجیل برنباس کی ہر ایک سطر سے عیاں ہے۔ انجیل برنباس کا مصنف زیادہ تر متی اور لوقا کے بیانات کو نقل کرتا ہے اور اپنی مرضی کے مطابق جیسا چاہتا ہے تغیر و تبدیل کرتا جاتا ہے۔
۲۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مصنف انجیل برنباس قرآن سے بہت کم واقف ہے۔ تمام کتاب کا مقصد دین محمد ی کی عظمت و بزرگی ہے لیکن کتاب کسی قرآن دان کی تصنیف نہیں بلکہ مصنف کوئی ایسا شخص ہے جس نے اسلام کی بابت اپنے زمانہ کے مسلمانوں کی گفتگو۔ مفسرین کے زمانہ کے قصّوں۔ احادیث روایات اور توہمات و افسانوں سے کچھ سیکھا ہے۔ وہ اصل قرآن کو اپنے الفاظ میں بیان نہیں کرتا بلکہ سُنی سنائی حکایات پر حاشیہ و تفسیر لکھتا ہے۔ اس کی مسلمانی اسلام سے اور اس کی محمدیت محمد سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے۔ اگرچہ قرآن کچھ فیصلہ نہیں کرتا تو بھی وہ صاف طور سے اسماعیل کو ذبیح اور وعدہ کا فرزند قرار دیتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انجیل ِ برنباس کا مصنف اسلام کے پہلے مفسرین کے وقت کا آدمی نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے خیال و بیانات میں بعد کے زمانہ کے مفسرین سے مطابقت پائی جاتی ہے جنہوں نے مباحثہ و مناظرہ کی ضروریات کی وجہ سے اسحاق کی جگہ اسماعیل کو دے دی تھی۔ قرآن میں بعید الفہم اور گول مول سے اشارے ہیں کہ مسیح مصلوب نہیں ہو ا بلکہ اس کے عوض میں ایک اور شخص کو لوگوں نے شبہ (شک) سے پکڑ کر صلیب دی لیکن برنباس اسکا صاف بیان کرتا ہے۔ بخلاف اس کے جیسا کہ ہم دکھاچکے ہیں۔ برنباس نہایت بےوقت اور حد سے زیادہ خطر ناک خیر خواہ ہے۔ جب وہ قرآن کی حمایت میں سرگرمی سے کوشش کرتا ہے اور محمد کے لیے بھی بہت جوش دکھاتا ہے تونادانی اور خامی کی وجہ سے قرآن کی صاف مخالفت کرتا ہےاور محمد کو کاذب دروغ (جھوٹا دروغ) گو بتاتا ہے!
اگر ہم مذکورہ بالا تمام واقعات اور حقیقتوں کو جمع کریں تو خواہ مخواہ اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ برنباس وسطی زمانہ کا ایک مسیحی تھا جس نے چاہا کہ دین ِ عیسویں کو نقصان پہنچائے اور اسلام کو ترقی دے۔ ایسا شخص اغلباً کوئی مسیحی تھا جس نے اسلام کو قبول کر لیا اور ممکن ہے کہ وہ کوئی مسیحی درویش تھا کیونکہ اس کی تصنیف میں ایسی علامات موجود ہیں جو اس امر پر دلالت (علامت ، نشان ، پتہ )کرتی ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ پوپ کے کتب خانہ سے کتاب چرانے والا خود بدولت فرامیرنیو صاحب بہادر ہی ہو۔ کتاب درحقیقت ایک مباحثانہ رسالہ ہے جو یہودی اسلام کو مدنظر رکھ کر ایک افسانے کی صورت میں لکھا گیا۔
لہذا ہم نہایت افسوس کے ساتھ اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ یہ نو مرید مسلمان جوش میں آکر کلام اللہ کو بدلنے اور بگاڑنے والا بنا۔ یہ تحریف و تبدیل دونوں کا مجرم ٹھہرا جس لیے اہل اسلام حقہ پانی بند کرنے برادری سے خارج کرنے کا دعویٰ کیا کرتے ہیں۔ یہ اس امر کا صاف و صریح ثبوت ہے کہ تحریف و تبدیل کا سخت گناہ مسیحیوں کی طرف سے نہیں ہوا بلکہ اس کا صدوراہل اسلام سے ہے۔
لیکن ہم تمام مسلمانوں کو برنباس کے ساتھ مجرم قرار نہیں دیتے۔ ہاں اگر وہ انجیل ِ برنباس کو کسی طرح سے اپنا ہتھیار بنا دیں تو وہ بھی برنباس کے ساتھ مجرم قرار دیئے جائے گے۔ ہم پھر کہتے ہیں کہ جو کوئی اس کتاب کو وقعت(اہمیت، قدر) کی نظر سے دیکھتا ہے اس کی جعلسازی میں شریک ہے۔ جو کوئی سچے کو جھوٹا کہتا ہے وہ خود جھوٹا ہے جو کسی جھوٹی اور جعلی انجیل کو استعمال کرتا ہے وہ خود جعلساز اور خد اکے کلام میں تحریف کرنے والا ہے۔
اے اہل اسلام !خبردار ہو جاؤ! کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ انجیل برنباس جسے تم مددوہدایت سمجھتے ہو تمہارے لیے دام بلا ہو جائے اور آخر کار ہلاکت تک پہنچا دیں۔ بلکہ ایسا ہونا چاہیے کہ یہ کتاب باوجود اپنی خرابیوں کے نجات کی طرف لے جائے۔ اس سے سچی انجیل پڑھنے کی ترغیب حاصل کرو جو حقیقی یسوع مسیح کل دنیا کے نجات دہندہ کی زندگی کا سچا بیان ہے۔
ہماری دلی دعا ہے کہ خدا ایسا ہی کرے۔ وہ تاریکی سے اجالا اور بدی کے عوض میں نیکی پیدا کر سکتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تمام شیطانی رکاوٹوں کو ترقی کے زینے بنا سکتا ہے جن کی مدد سے ہم سچ اور حق کی چوٹی پر پہنچ سکتے ہیں۔ آمین۔

----------------------